پاکستاناہم خبریں

پاکستان کی مسجد اقصیٰ واقعے پر شدید مذمت

پاکستان نے عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لے اور مقبوضہ علاقوں میں مقدس مقامات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان نے مسجد اقصیٰ کی حالیہ بے حرمتی اور اس کے احاطے میں پیش آنے والے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور مذہبی اقدار کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری تفصیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے صحن میں داخل ہو کر اشتعال انگیز کارروائیاں کرنا، اور وہاں قابض طاقت کا جھنڈا لہرانا نہایت قابلِ افسوس اور قابلِ مذمت اقدام ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ واقعات نہ صرف مسلمانوں کے مقدس مقام کی حرمت کو پامال کرتے ہیں بلکہ خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بھڑکانے کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ پاکستان نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت اپنی ذمہ داریوں میں ناکام ہو رہا ہے، اور اسے فوری طور پر ایسے اقدامات کو روکنا ہوگا جو مذہبی اشتعال اور تنازع کو بڑھا سکتے ہیں۔
پاکستان نے عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لے اور مقبوضہ علاقوں میں مقدس مقامات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ غیر قانونی آباد کاروں کو حاصل استثنیٰ ختم کیا جائے اور انہیں بین الاقوامی قوانین کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان کے بنیادی حقوق، خصوصاً عبادت کی آزادی کے حق کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ مزید برآں، پاکستان نے ایک بار پھر اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ اور دیرپا حل صرف اسی صورت ممکن ہے جب 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جائے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ایسے واقعات نہ صرف مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کو بڑھاتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی مذہبی حساسیت کو متاثر کرتے ہیں۔ پاکستان کا یہ سخت ردعمل اس کی دیرینہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت وہ فلسطینی کاز کی مستقل حمایت کرتا آیا ہے اور عالمی فورمز پر اس مسئلے کو اجاگر کرتا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button