معرکۂ حق کے ہیرو لیفٹیننٹ محمد بلال ندیم کو تمغۂ بسالت، جرات و بہادری کی نئی داستان رقم
ذرائع کے مطابق انہوں نے شدید گولہ باری اور خطرات کے باوجود اپنی آبزرویشن پوسٹ پر ڈٹے رہتے ہوئے نہایت مہارت سے اپنی یونٹ کے فائر کی نگرانی جاری رکھی۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
معرکۂ حق میں غیر معمولی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور وطن سے بے مثال محبت کا مظاہرہ کرنے والے لیفٹیننٹ محمد بلال ندیم کی بہادری کی داستان سامنے آ گئی ہے، جس نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ ان کی شاندار جنگی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں تمغۂ بسالت سے نوازا گیا۔
تفصیلات کے مطابق معرکۂ حق کے دوران لیفٹیننٹ محمد بلال ندیم آرٹلری فائر آبزرور کے طور پر انتہائی اہم ذمہ داری سرانجام دے رہے تھے۔ یہ ایک نہایت حساس اور خطرناک ڈیوٹی ہوتی ہے جس میں فرنٹ لائن کے قریب رہتے ہوئے دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور اپنی یونٹ کو درست معلومات فراہم کرنا شامل ہوتا ہے۔
ذرائع کے مطابق انہوں نے شدید گولہ باری اور خطرات کے باوجود اپنی آبزرویشن پوسٹ پر ڈٹے رہتے ہوئے نہایت مہارت سے اپنی یونٹ کے فائر کی نگرانی جاری رکھی۔ ان کی فراہم کردہ درست معلومات اور ہدایات کی بدولت پاکستانی آرٹلری نے دشمن کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
رپورٹس کے مطابق دشمن کی دو اہم پوسٹوں نے مسلسل اور مؤثر گولہ باری کے بعد سفید جھنڈے لہرا کر شکست تسلیم کر لی، جو اس معرکے میں پاکستانی فورسز کی برتری کا واضح ثبوت ہے۔
اپنی کامیابی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ محمد بلال ندیم نے کہا کہ ایک فوجی کے لیے وطن کی عزت، سالمیت اور دفاع سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ہر حال میں ملک کے دفاع کے لیے اپنی ذمہ داریاں اسی جذبے سے نبھاتے رہیں گے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق آرٹلری فائر آبزرور کا کردار جنگ میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے، اور لیفٹیننٹ بلال ندیم نے جس مہارت اور دلیری کا مظاہرہ کیا وہ نوجوان افسران کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
واضح رہے کہ تمغۂ بسالت پاکستان کا ایک اعلیٰ فوجی اعزاز ہے، جو میدانِ جنگ میں نمایاں جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرنے والے فوجیوں کو دیا جاتا ہے۔ لیفٹیننٹ محمد بلال ندیم کی یہ قربانی اور خدمات قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں اور ان کا نام ہمیشہ بہادری کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔



