سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
جنوبی وزیرستان: انگور اڈہ کے علاقے زلول خیل میں سرحدی کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب افغان جانب سے مبینہ اشتعال انگیزی کے بعد پاک فوج نے بھرپور اور بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد پوسٹوں کو تباہ کر دیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس مؤثر کارروائی کے نتیجے میں دراندازی کی تمام کوششیں ناکام بنا دی گئیں۔
ذرائع کے مطابق فتنہ الخوارج سے وابستہ عناصر نے سرحد پار سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم پاک فوج کی چوکس نگرانی اور فوری ردعمل کے باعث انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا گیا اور اس کی پیش قدمی روک دی گئی۔
رپورٹس کے مطابق دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان جانب سے مبینہ طور پر سول آبادی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دو خواتین سمیت تین شہری زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر وانا کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق کے تحت جاری کارروائیوں نے دہشت گرد عناصر کی کمر توڑ دی ہے، جس کے باعث وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ پاک فوج نے بلااشتعال فائرنگ کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے دشمن کی متعدد چوکیوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔
مقامی آبادی نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے افغان جانب کی کارروائی کو ناقابل قبول قرار دیا اور پاک فوج سے فوری اور سخت ردعمل کا مطالبہ کیا۔ اہل علاقہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔
ادھر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جنوبی وزیرستان میں دراندازی کی کوشش ناکام بنانے پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ فورسز نے بروقت اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔
انہوں نے افغان جانب سے سول آبادی پر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پوری قوم اپنی مسلح افواج کی جرات اور صلاحیتوں پر فخر کرتی ہے اور ہر مشکل گھڑی میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر علاقے میں نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ پاک فوج ہر قسم کی دراندازی اور جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔



