اہم خبریںپاکستان

فیصل نیاز ترمذی کا شنگھائی تعاون تنظیم کے مقاصد سے پاکستان کے عزم کا اعادہ، علاقائی امن و سلامتی پر زور

سفیر ترمذی نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کے مطابق عالمی معاملات میں تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: رشین فیڈریشن میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے مقاصد اور اصولوں کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنظیم علاقائی امن، سلامتی اور تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم اور مؤثر پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ بات انہوں نے ماسکو میں روسی فیڈریشن کی وزارت خارجہ میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے نائب وزرائے خارجہ کی سطح پر ہونے والی مشاورتی نشست کے دوران کہی، جہاں انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کی۔
پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، اس اہم مشاورت میں تنظیم کی بین الاقوامی سرگرمیوں کو مؤثر بنانے اور رکن ممالک کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اجلاس میں شنگھائی تعاون تنظیم کے علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے اور بدلتے ہوئے عالمی و علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اس کے طریقہ کار کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر بھی غور کیا گیا۔
اپنے خطاب میں سفیر ترمذی نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کے مطابق عالمی معاملات میں تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان ان اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
انہوں نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا بھی تفصیلی ذکر کیا، خاص طور پر اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے، جن کا مقصد علاقائی کشیدگی کو کم کرنا اور مکالمے کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔
سفیر نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اور مربوط حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان خطرات کا مقابلہ صرف باہمی تعاون اور مضبوط ادارہ جاتی فریم ورک کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو پائیدار ترقی اور جامع سیکیورٹی کے حصول کے لیے مشترکہ اقدامات کو مزید تقویت دینا ہوگی۔
مشاورتی اجلاس کے موقع پر فیصل نیاز ترمذی نے روس، بیلاروس، تاجکستان، چین اور کرغزستان کے وفود کے سربراہان سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں۔ ان ملاقاتوں میں شنگھائی تعاون تنظیم کے دائرہ کار میں باہمی تعاون، علاقائی استحکام اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کا شنگھائی تعاون تنظیم میں فعال کردار خطے میں امن، اقتصادی تعاون اور رابطہ کاری کو فروغ دینے میں اہم ثابت ہو رہا ہے، اور اس طرح کی مشاورتی نشستیں مستقبل میں مزید قریبی تعاون کی راہ ہموار کریں گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button