
مدثر احمد-ادارت
اقوام متحدہ: پاکستان نے سوڈان میں جاری تنازع کے باعث تعلیم کے شدید بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ لاکھوں سوڈانی بچوں کے تعلیم کے حق، تحفظ اور مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارریا فارمولہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان نے واضح کیا کہ سوڈان میں جنگ اور بدامنی کے نتیجے میں تعلیم کا نظام شدید متاثر ہوا ہے اور اگر موجودہ صورتحال کا فوری تدارک نہ کیا گیا تو اس کے اثرات صرف موجودہ نسل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ملک کی آئندہ کئی دہائیوں کی سماجی، اقتصادی اور سیاسی ترقی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
اجلاس کا موضوع ’’سوڈان میں تعلیم کا تحفظ: امن، بحالی اور استحکام میں سرمایہ کاری‘‘ تھا، جس میں سوڈان میں جاری تنازع کے دوران تعلیمی اداروں، طلباء اور اساتذہ کو درپیش خطرات، بچوں کے تعلیم کے حق اور جنگ کے بعد ملک کی بحالی میں تعلیم کے کردار پر گفتگو کی گئی۔
پاکستان کی جانب سے اجلاس میں فرسٹ سیکرٹری سید انصر شاہ نے خطاب کیا۔
17 ملین سے زائد بچوں کی تعلیم متاثر
پاکستانی مندوب نے اجلاس میں بتایا کہ اپریل 2023 میں سوڈان میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے 17 ملین سے زائد سوڈانی بچوں کو اپنی تعلیم میں شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ان کے مطابق تقریباً 8 ملین بچے اس وقت اسکول سے باہر ہیں، جس سے سوڈان میں پیدا ہونے والے تعلیمی بحران کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
پاکستان نے خبردار کیا کہ اگر لاکھوں بچوں کی تعلیم مسلسل معطل رہی تو اس کے نتیجے میں سوڈان میں ایک ایسی نسل پیدا ہو سکتی ہے جو بنیادی تعلیم، پیشہ ورانہ مہارت اور روزگار کے مواقع سے محروم رہ جائے گی۔
یہ صورتحال مستقبل میں غربت، بے روزگاری، سماجی عدم استحکام اور انسانی بحران کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔
اسکولوں، طلباء اور اساتذہ پر حملوں کی مذمت
پاکستان نے سوڈان میں اسکولوں، طلباء، اساتذہ اور تعلیمی عملے کو نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کی۔
پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ تعلیمی ادارے بچوں کے لیے محفوظ مقامات ہونے چاہئیں اور انہیں کبھی بھی فوجی یا ایسے مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے جن سے بچوں، اساتذہ یا تعلیمی عملے کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ اور مسلح تنازعات کے دوران تعلیمی اداروں کا تحفظ بین الاقوامی انسانی قانون کے بنیادی تقاضوں میں شامل ہے۔
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ سوڈان میں تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور بچوں کو تعلیم تک محفوظ رسائی فراہم کرنے کے لیے ضروری وسائل اور سہولیات یقینی بنائے۔
بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری ضروری
پاکستان نے اس موقع پر بین الاقوامی انسانی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت تعلیمی سہولیات کے تحفظ کی ذمہ داری پر زور دیا۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق جنگی حالات میں بچوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
خاص طور پر تعلیم کا حق ایسے حالات میں مزید اہم ہو جاتا ہے کیونکہ تعلیم بچوں کو صرف علمی صلاحیت فراہم نہیں کرتی بلکہ انہیں مستقبل میں معاشرے کی تعمیر، اقتصادی ترقی اور امن کے عمل میں کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔
پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہنگامی حالات کے دوران بچوں کو تعلیم کی فراہمی کو غیر ضروری طور پر مؤخر نہیں کیا جانا چاہیے۔
پاکستان کی تین اہم ترجیحات
پاکستان نے سوڈان میں تعلیم کے تحفظ کے حوالے سے تین بنیادی ترجیحات کی نشاندہی کی۔
اسکولوں کا تحفظ اور محفوظ رسائی
پہلی ترجیح اسکولوں کو محفوظ بنانا اور بچوں، اساتذہ اور تعلیمی عملے کو تعلیمی اداروں تک محفوظ رسائی فراہم کرنا ہے۔
پاکستان کے مطابق اگر بچے اسکول جانے سے خوفزدہ ہوں یا جنگی حالات کے باعث تعلیمی ادارے محفوظ نہ رہیں تو تعلیم کا سلسلہ برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
اس لیے اسکولوں کو حملوں، قبضے، فوجی استعمال اور دیگر خطرات سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
اسی طرح انسانی امداد فراہم کرنے والے اداروں اور امدادی کارکنوں کو بھی محفوظ رسائی دی جانی چاہیے تاکہ ضرورت مند بچوں اور خاندانوں تک خوراک، صحت، رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات پہنچائی جا سکیں۔
بے گھر اور پناہ گزین بچوں کے لیے ہنگامی تعلیم
پاکستان کی دوسری ترجیح بے گھر اور پناہ گزین بچوں کے لیے ہنگامی تعلیم کا انتظام ہے۔
جنگ کے باعث لاکھوں خاندان اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد بچوں کی ہے جو معمول کے اسکولوں سے محروم ہو چکے ہیں۔
پاکستان نے زور دیا کہ ایسے بچوں کے لیے عارضی تعلیمی مراکز، اسکولوں کی بحالی، تعلیمی مواد اور اساتذہ کی مدد کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
تعلیم کا یہ ہنگامی نظام بچوں کو نہ صرف سیکھنے کا موقع فراہم کرے گا بلکہ جنگ کے نفسیاتی اثرات سے نمٹنے اور معمول کی زندگی کی طرف واپسی میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
قومی تعلیمی نظام کا تحفظ
پاکستان کی تیسری ترجیح سوڈان کے قومی تعلیمی نظام کو محفوظ رکھنا ہے۔
پاکستانی مندوب نے امتحانات، سرٹیفیکیشن اور تعلیمی قابلیت کی شناخت جیسے بنیادی شعبوں کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
اگر جنگ کے نتیجے میں تعلیمی ریکارڈ ضائع ہو جائیں، امتحانات کا نظام ختم ہو جائے یا طلباء کی تعلیمی اسناد کی حیثیت غیر واضح ہو جائے تو لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل پر طویل مدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس لیے جنگ کے دوران بھی قومی تعلیمی نظام کے بنیادی ڈھانچے کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
آج کے طلباء کل کے ڈاکٹر اور انجینئر ہوں گے
سید انصر شاہ نے اپنے خطاب میں تعلیم کے طویل مدتی کردار کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ آج جو بچے تعلیم سے محروم ہیں، وہی کل سوڈان کی تعمیر نو کے لیے درکار ڈاکٹر، اساتذہ، انجینئر، سرکاری ملازمین اور کمیونٹی لیڈرز بنیں گے۔
پاکستان کے مطابق سوڈان کی بحالی صرف سڑکوں، عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے مکمل نہیں ہوگی بلکہ انسانی وسائل کی بحالی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
اگر موجودہ نسل تعلیم سے محروم ہو گئی تو جنگ کے خاتمے کے بعد ملک کو تعمیر نو کے لیے مطلوبہ ہنرمند افرادی قوت کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسی لیے تعلیم میں سرمایہ کاری کو سوڈان کی مستقبل کی معاشی اور سماجی بحالی کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔
تعلیم امن اور استحکام کی بنیاد ہے
پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم صرف ایک بنیادی انسانی حق نہیں بلکہ امن اور استحکام کے قیام کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔
تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار اور معاشی مواقع پیدا ہونے کے امکانات بڑھتے ہیں، جبکہ تعلیم سماجی ہم آہنگی، برداشت اور مختلف طبقات کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے میں بھی کردار ادا کرتی ہے۔
سوڈان جیسے ملک میں، جہاں طویل تنازع نے معاشرے کے مختلف حصوں کو شدید متاثر کیا ہے، تعلیم مستقبل میں قومی مفاہمت اور سماجی بحالی کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
سوڈان کی خودمختاری اور اتحاد کی حمایت
پاکستان نے سوڈان کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی مضبوط حمایت کا اعادہ کیا۔
پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ سوڈان کے مستقبل کا فیصلہ سوڈانی عوام کو کرنا چاہیے اور ملک کی خودمختاری، سیاسی اتحاد اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔
پاکستان نے ایسے کسی بھی اقدام کی مخالفت کا اظہار کیا جو سوڈان کو مزید تقسیم کرنے یا اس کے اندر متوازی حکومتی ڈھانچے قائم کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔
متوازی حکومتی ڈھانچوں کی مخالفت
پاکستان نے سوڈان میں متوازی حکومتی ڈھانچے قائم کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات ملک کو مزید تقسیم کر سکتے ہیں۔
پاکستان کے مطابق سوڈان میں سیاسی اور انتظامی تقسیم کا تسلسل ملک کی سلامتی، قومی وحدت اور معاشی مستقبل کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
مزید سیاسی تقسیم سے پہلے ہی کمزور ریاستی اداروں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے اور عام شہریوں کے لیے بنیادی سہولیات کی فراہمی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔
اس صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان بچوں اور نوجوانوں کو پہنچنے کا خدشہ ہے، کیونکہ یہی طبقہ جنگ، نقل مکانی اور تعلیمی بحران سے طویل مدت تک متاثر ہو سکتا ہے۔
تنازع کا فوری خاتمہ اولین ترجیح قرار
پاکستان نے واضح کیا کہ سوڈان کے موجودہ بحران کا مستقل حل صرف اس وقت ممکن ہے جب مسلح تنازع کا خاتمہ کیا جائے۔
تعلیم کا تحفظ، انسانی امداد کی فراہمی اور ملک کی تعمیر نو اہم اقدامات ہیں، لیکن اگر جنگ جاری رہتی ہے تو ان کوششوں کے دیرپا نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اسی لیے پاکستان نے تنازع کے فوری خاتمے کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے تمام سوڈانی فریقوں پر زور دیا کہ وہ اختلافات کا سیاسی اور سفارتی حل تلاش کریں۔
تمام سوڈانی فریقوں سے مذاکرات کی اپیل
پاکستان نے تمام متعلقہ سوڈانی اسٹیک ہولڈرز سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک کے وسیع تر مفاد میں مذاکرات اور سفارتی ذرائع اختیار کریں۔
پاکستان کے مطابق جنگ کا کوئی فوجی حل دیرپا امن کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ سوڈان کے مستقبل کے لیے سیاسی مذاکرات، قومی مفاہمت اور جامع سیاسی عمل ضروری ہے۔
اس عمل میں سوڈانی عوام کی خواہشات اور ملک کی خودمختاری کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔
عالمی برادری سے فوری اقدام کا مطالبہ
پاکستان نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ سوڈان میں تعلیم کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کریں۔
پاکستان کے مطابق عالمی اداروں کو نہ صرف ہنگامی تعلیم کے منصوبوں کے لیے مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کرنی چاہیے بلکہ تعلیمی اداروں، اساتذہ اور طلباء کے تحفظ کے لیے بھی مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
انسانی امداد کی محفوظ اور بلا رکاوٹ رسائی کو یقینی بنانا بھی اس عمل کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔
جنگ سے متاثرہ بچوں کا مستقبل خطرے میں
سوڈان کے موجودہ بحران میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات میں بچے شامل ہیں۔
گھروں سے نقل مکانی، اسکولوں کی بندش، خوراک اور صحت کی سہولیات کی کمی، خاندانوں کی معاشی مشکلات اور مسلسل عدم تحفظ نے بچوں کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
تعلیم کا سلسلہ منقطع ہونے سے ان بچوں کے مستقبل کے مواقع مزید محدود ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے مطابق عالمی برادری کو یہ سمجھنا ہوگا کہ تعلیم کو جنگ کے بعد کی ترجیح کے طور پر نہیں بلکہ جنگ کے دوران ہی ایک بنیادی انسانی ضرورت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
سوڈان کی تعمیر نو کے لیے تعلیم میں سرمایہ کاری ضروری
پاکستان نے تعلیم کو سوڈان کی طویل مدتی تعمیر نو میں سرمایہ کاری قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ آج کے بچوں کو تعلیم فراہم کرنا دراصل کل کے سوڈان میں سرمایہ کاری ہے۔
جنگ کے خاتمے کے بعد سوڈان کو صحت، تعلیم، انجینئرنگ، انتظامیہ، انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں میں تربیت یافتہ افراد کی ضرورت ہوگی۔
اگر موجودہ نسل تعلیم سے محروم رہی تو ملک کی تعمیر نو کا عمل مزید مشکل اور طویل ہو سکتا ہے۔
اس لیے تعلیمی اداروں کی بحالی، اساتذہ کی تربیت اور معاونت، امتحانی نظام کی بحالی اور بچوں کی دوبارہ اسکول واپسی کو فوری ترجیح دینا ضروری ہے۔
پاکستان کا امن اور سفارتی حل پر زور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مؤقف نے ایک بار پھر یہ واضح کیا کہ اسلام آباد سوڈان کے بحران کے حل کے لیے سیاسی اور سفارتی راستے کو ترجیح دیتا ہے۔
پاکستان نے سوڈان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کے ساتھ ساتھ جامع سیاسی عمل اور قومی مفاہمت کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ سوڈانی عوام کو اپنے ملک کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے اور بیرونی مداخلت یا متوازی ریاستی ڈھانچوں کے ذریعے بحران کو مزید پیچیدہ بنانے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
نتیجہ
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارریا فارمولہ اجلاس میں پاکستان نے سوڈان کے تعلیمی بحران کو عالمی برادری کی فوری توجہ کا مستحق قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ جنگ کے نتیجے میں لاکھوں بچوں کا تعلیم سے محروم ہونا محض تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ سوڈان کے مستقبل، قومی استحکام اور امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
17 ملین سے زائد بچوں کی تعلیم متاثر ہونے اور تقریباً 8 ملین بچوں کے اسکول سے باہر ہونے کے اعداد و شمار بحران کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔
پاکستان نے اسکولوں اور تعلیمی عملے کے تحفظ، بے گھر بچوں کے لیے ہنگامی تعلیم، اساتذہ کی معاونت اور سوڈان کے قومی امتحانی و تعلیمی نظام کے تحفظ کو فوری ترجیحات قرار دیا۔
ساتھ ہی پاکستان نے سوڈان کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے متوازی حکومتی ڈھانچوں کی مخالفت کی اور تمام سوڈانی فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک کے وسیع تر مفاد میں جنگ کا خاتمہ اور سفارتی و سیاسی حل تلاش کریں۔
پاکستان کے مطابق سوڈان میں پائیدار امن صرف اس وقت ممکن ہوگا جب تنازع ختم کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں اور نوجوانوں کے مستقبل کو بھی محفوظ بنایا جائے۔ آج کے سوڈانی بچوں کو تعلیم فراہم کرنا دراصل ایک ایسے سوڈان کی بنیاد رکھنا ہے جو مستقبل میں امن، استحکام، خودمختاری اور پائیدار ترقی کی جانب بڑھ سکے۔



