پاکستاناہم خبریں

عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کی افغان طالبان کی حمایت، پاکستان کا مؤقف ایک بار پھر درست ثابت

سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس آپریشن میں متعدد شدت پسند نیٹ ورکس کو بھاری نقصان پہنچا، جس کے باعث دہشت گرد تنظیموں میں بے چینی اور ردعمل دیکھنے میں آیا ہے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے عالمی سطح پر یہ خدشات بار بار سامنے آتے رہے ہیں کہ ملک دوبارہ شدت پسند تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن سکتا ہے۔ حالیہ پیش رفت نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے، جہاں القاعدہ کی جانب سے کھل کر طالبان کی حمایت سامنے آئی ہے۔

القاعدہ کا کھلا اعلان اور سخت بیان

ذرائع کے مطابق القاعدہ کی مرکزی قیادت نے ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے افغان طالبان کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ بیان میں پاکستان کے خلاف سخت زبان استعمال کی گئی اور یہ کہا گیا کہ تنظیم اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ طالبان کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔
ماہرین کے نزدیک یہ بیان خطے میں بڑھتی کشیدگی اور دہشت گردی کے خطرات کی واضح علامت ہے۔

پاکستان کا مؤقف اور آپریشن “غضب للحق”

پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گرد تنظیموں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ حالیہ فوجی کارروائی “غضب للحق” اسی تناظر میں کی گئی، جس کا مقصد سرحد پار موجود دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانا تھا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس آپریشن میں متعدد شدت پسند نیٹ ورکس کو بھاری نقصان پہنچا، جس کے باعث دہشت گرد تنظیموں میں بے چینی اور ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ القاعدہ کا حالیہ بیان اسی دباؤ کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

“فتنہ الخوارج” اور دیگر گروہوں کی سرگرمیاں

پاکستانی حکام کے مطابق “فتنہ الخوارج” اور دیگر شدت پسند گروہ افغانستان میں دوبارہ منظم ہو رہے ہیں۔ ان گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

سکیورٹی ماہرین کے مطابق مختلف دہشت گرد تنظیموں کے درمیان روابط اور تعاون میں اضافہ ایک تشویشناک رجحان ہے۔

اقوام متحدہ کی وارننگ اور عالمی تشویش

اقوام متحدہ نے جولائی 2025 میں اپنی رپورٹ میں افغان طالبان پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ عالمی اداروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں شدت پسند گروہوں کی موجودگی علاقائی استحکام کے لیے بڑا چیلنج ہے۔

بین الاقوامی ماہرین کے مطابق اگر اس صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو یہ خطرہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

علاقائی امن کو درپیش خطرات

دفاعی و سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں میں اضافہ خطے میں عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے۔ پاکستان، وسطی ایشیائی ممالک اور دیگر ہمسایہ ریاستیں اس صورتحال سے براہ راست متاثر ہو سکتی ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کے انفراسٹرکچر کے خلاف کارروائیاں وقتی طور پر مؤثر ہو سکتی ہیں، تاہم دیرپا امن کے لیے علاقائی تعاون اور مؤثر سفارت کاری ناگزیر ہے۔

نتیجہ: پاکستان کے خدشات کی تصدیق

حالیہ پیش رفت، خصوصاً القاعدہ کی جانب سے افغان طالبان کی کھلی حمایت، پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کو تقویت دیتی ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد عناصر موجود ہیں اور سرگرم عمل ہیں۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ عالمی برادری مشترکہ حکمت عملی اپنائے تاکہ خطے کو ایک بار پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں آنے سے بچایا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button