سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
وزیراعظم شہباز شریف نے ون-کانسٹیٹیوشن ایونیو کے اہم اور حساس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جسے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر جامع رپورٹ پیش کرے۔ اس اقدام کا مقصد معاملے کا شفاف اور منصفانہ جائزہ لے کر تمام فریقین کو انصاف فراہم کرنا ہے۔
کمیٹی کی تشکیل اور قیادت
وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کی گئی کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کریں گے۔ کمیٹی کے دیگر اراکین میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، سیکریٹری کابینہ اور سیکریٹری کامرس شامل ہیں۔ یہ کمیٹی تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی سفارشات وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
متاثرین کو سنا جائے گا
حکومتی ذرائع کے مطابق کمیٹی کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے میں شامل تمام فریقین اور متاثرہ افراد کو بلا تفریق سنے۔ کوئی بھی متاثرہ شہری یا فریق اپنی شکایات اور مؤقف براہ راست کمیٹی کے سامنے پیش کر سکے گا، تاکہ رپورٹ مکمل شفافیت اور حقائق پر مبنی ہو۔
رپورٹ کی تیاری اور مدت
کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ ایک ہفتے کے اندر اندر پورے معاملے کا جائزہ مکمل کرے اور ایک جامع رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔
انتظامیہ کو کارروائی سے روک دیا گیا
وزیراعظم نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ جب تک اس معاملے پر حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا، اس وقت تک اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری ایڈمنسٹریشن اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے کسی بھی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں لائی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کسی بھی فریق کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔
شفافیت اور انصاف کی یقین دہانی
وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ون-کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے اور کسی بھی قسم کی زیادتی یا غیر قانونی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی مفادات کے تحفظ اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے۔
حکومتی عزم
حکومت کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو نہایت سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور تمام فیصلے میرٹ، شفافیت اور انصاف کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔ کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد وزیراعظم کی جانب سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا، جس سے نہ صرف متاثرین کو ریلیف ملے گا بلکہ آئندہ ایسے معاملات کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔



