
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جاری سیاسی اور انتظامی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے واضح کیا ہے کہ خطے میں امن و امان کی بحالی اور کسی بھی ممکنہ مذاکراتی عمل کے آغاز کے لیے ریاستی حاکمیت کو تسلیم کرنا، آئین پاکستان سے وفاداری کا اظہار کرنا اور قانونی دائرہ کار میں رہ کر بات چیت کرنا ناگزیر ہے۔ دوسری جانب راولاکوٹ، مظفرآباد، کوٹلی اور دیگر علاقوں میں احتجاج، دھرنوں اور کشیدگی کا سلسلہ بدستور جاری ہے جبکہ تازہ جھڑپوں کی اطلاعات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
وزیر دفاع کا ریاستی وفاداری پر زور
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے ساتھ غیر متزلزل وفاداری ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں جاری احتجاجی سرگرمیوں میں شامل افراد کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 5 کا مطالعہ کرنا چاہیے، جو ریاست کے ساتھ وفاداری اور قانون کی پاسداری پر زور دیتا ہے۔ وزیر دفاع کے مطابق مسائل کے حل کے لیے آئینی اور قانونی راستہ ہی اختیار کیا جانا چاہیے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق خواجہ آصف کا بیان حکومت کے اس مؤقف کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت ریاستی ادارے اب احتجاجی تحریک کے حوالے سے زیادہ سخت اور واضح پالیسی اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
وزیراعظم آزاد کشمیر کا دوٹوک پیغام
وزیر دفاع کے بیان کے چند گھنٹوں بعد وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے بھی اپنے ویڈیو پیغام میں غیر معمولی سخت لہجہ اختیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے مسائل کے حل کے لیے متعدد بار مذاکرات، رعایتوں اور افہام و تفہیم کی کوشش کی، تاہم اب ریاست مزید پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ مذاکرات اور بات چیت کے دروازے اب بھی کھلے ہیں، لیکن اس عمل کے لیے قانون اور ریاستی رٹ کو تسلیم کرنا ضروری ہوگا۔ ان کے مطابق حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے تیار ہے، تاہم ریاستی نظم و نسق کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ
رواں ہفتے کے آغاز سے جاری احتجاج، جھڑپوں اور تصادم کے واقعات میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
سرکاری ذرائع کے حوالے سے بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے رپورٹ کیا ہے کہ مختلف علاقوں میں ہونے والے پرتشدد واقعات کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق کوٹلی میں سات، راولاکوٹ میں بارہ جبکہ میرپور میں ایک شخص ہلاک ہوا۔ ہلاک ہونے والوں میں راولاکوٹ پولیس کے تین اہلکار اور ایک نیم فوجی دستے کا اہلکار بھی شامل بتایا جا رہا ہے۔
دریک عیدگاہ گراؤنڈ کے قریب تازہ جھڑپیں
اتوار کی صبح راولاکوٹ کے نواحی علاقے دریک میں صورتحال ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہو گئی۔
مقامی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، شیلنگ اور دیگر اقدامات کیے جس کے بعد مظاہرین وقتی طور پر منتشر ہو گئے، تاہم بعد ازاں انہوں نے دوبارہ دریک عیدگاہ گراؤنڈ کے اطراف جمع ہونا شروع کر دیا۔
علاقے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ جھڑپوں کے دوران متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں جانی نقصان کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق علاقے سے متعدد ایمبولینسز کو زخمیوں کو منتقل کرتے ہوئے دیکھا گیا، تاہم حکام کی جانب سے فوری طور پر زخمیوں یا ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
راولاکوٹ میں کرفیو اور مواصلاتی پابندیاں
راولاکوٹ میں گزشتہ کئی روز سے نافذ کرفیو اور نقل و حرکت پر پابندیاں برقرار ہیں۔
اس کے علاوہ پورے خطے میں دس روز سے زائد عرصے سے موبائل انٹرنیٹ سروس معطل ہے، جس کے باعث شہریوں کو رابطوں اور معلومات تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اگرچہ بعض علاقوں میں موبائل فون سروس جزوی طور پر بحال ہوئی ہے، تاہم مواصلاتی نظام ابھی تک مکمل طور پر معمول پر نہیں آ سکا۔
خواتین اور بچوں کی احتجاج میں شرکت
راولاکوٹ میں جاری دھرنوں اور احتجاجی اجتماعات میں گزشتہ دو روز کے دوران خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق متعدد مظاہرین سفید جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور انہوں نے پرامن احتجاج کے حق پر زور دیا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ خواتین اور بچوں کی شمولیت نے احتجاجی تحریک کو ایک نئی سماجی جہت دی ہے۔
مظفرآباد میں لاک ڈاؤن سے معمولات زندگی متاثر
دوسری جانب دارالحکومت مظفرآباد میں صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
شہر میں کئی روز سے شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جاری ہے جس کے باعث کاروباری، تعلیمی اور سماجی سرگرمیاں تقریباً معطل ہو چکی ہیں۔
انتظامیہ نے مرکزی شاہراہوں اور حساس مقامات پر عارضی چیک پوسٹیں قائم کر رکھی ہیں جبکہ متعدد داخلی اور خارجی راستوں کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
خوراک، ایندھن اور نقدی کی قلت
مقامی صحافیوں اور شہریوں کے مطابق مسلسل ہڑتال اور بازار بند رہنے کے باعث اشیائے خوردونوش کی قلت پیدا ہونا شروع ہو گئی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سبزیاں، گوشت، روزمرہ استعمال کی اشیا اور دیگر ضروری سامان حاصل کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ متعدد خاندان ضروری اشیا کی خریداری کے لیے خیبر پختونخوا کے قریبی علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ پیٹرول کی قلت، بینکوں کی اے ٹی ایم مشینوں کی بندش اور ٹرانسپورٹ کی محدود دستیابی نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
دھرنوں کی حکمت عملی اور حکومتی مؤقف
اگرچہ انتظامیہ نے چند روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ ممکنہ سکیورٹی کارروائی کے خدشات کے بعد مظاہرین منتشر ہو گئے ہیں اور راولاکوٹ میں صورتحال معمول پر آ چکی ہے، تاہم احتجاجی قیادت نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔
احتجاجی رہنماؤں کے مطابق مظاہرین نے سکیورٹی خدشات کے باعث وقتی طور پر اپنی حکمت عملی تبدیل کی تھی اور بعد ازاں دوبارہ مختلف مقامات پر دھرنے فعال کر دیے گئے۔
پرانے مقدمات کی بحالی
حکومت نے حالیہ دنوں میں احتجاجی قیادت کے خلاف قانونی کارروائیوں میں بھی تیزی پیدا کر دی ہے۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق ماضی میں مختلف صدارتی اور وزارتی احکامات کے تحت دی گئی قانونی رعایتیں واپس لے لی گئی ہیں، جس کے بعد احتجاجی رہنماؤں کے خلاف درج متعدد مقدمات دوبارہ فعال ہو گئے ہیں۔
ان مقدمات میں توڑ پھوڑ، سرکاری امور میں مداخلت، دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور دیگر الزامات شامل ہیں۔
بحران کی اصل وجوہات
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ بحران کی جڑیں ان مذاکرات کی ناکامی میں ہیں جو آٹے پر سبسڈی، بجلی کے نرخوں میں ریلیف اور دیگر عوامی مطالبات کے حوالے سے حکومت اور احتجاجی قیادت کے درمیان جاری تھے۔
بعد ازاں حکومت نے بعض احتجاجی تنظیموں کے خلاف سخت اقدامات کرتے ہوئے انہیں کالعدم قرار دیا اور متعدد رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔
مہاجرین کی مخصوص نشستوں کا تنازع
مذاکرات میں تعطل پیدا کرنے والے اہم نکات میں قانون ساز اسمبلی میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے پاکستان منتقل ہونے والے مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کا معاملہ بھی شامل ہے۔
احتجاجی حلقے ان نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ قانونی اور آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان نشستوں کے خاتمے کے لیے قانون ساز اسمبلی میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔
سپریم کورٹ کی مشاورتی رائے میں بھی اسی مؤقف کی توثیق کی گئی ہے کہ آئینی طریقہ کار کے بغیر ان نشستوں میں تبدیلی ممکن نہیں۔
خطے کی صورتحال غیر یقینی
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ایک جانب حکومت ریاستی رٹ اور قانونی عملداری پر زور دے رہی ہے جبکہ دوسری جانب احتجاجی حلقے اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے۔
ماہرین کے مطابق آنے والے دن اس بحران کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر مذاکرات کا کوئی قابل قبول راستہ نکال لیا جاتا ہے تو کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے، تاہم اگر تصادم اور قانونی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو خطے میں سیاسی اور سماجی بے چینی مزید بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔



