کشمیر کو صوبہ بنانے کی بحث،مہاجر سیٹوں پر عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبے کا پہلا غیرحتمی اور غیرسرکاری نتیجہ سامنے آگیا،اسلم ندارسلہری
کشمیری قوم کو تقسیم کرکے کمزور کرنے والوں کے چہرے بے نقاب ہوگئے،عوامی ایکشن کمیٹی نے جذباتی نعروں کے ذریعے قوم کو دھوکہ دیا
مظفرآباد/اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) مہاجر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین اسلم ندارسلہری نے کہا ہے کہ آزادکشمیر کو صوبہ بنانے سے متعلق جاری بحث دراصل مہاجر سیٹوں کے خاتمے کے عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کاپہلاغیرحتمی اور غیرسرکاری نتیجہ بن کر سامنے آگیاہے ابھی توابتدائے عشق ہے دیکھیں آگے آگے ہوتاہے کیا،کشمیرکوصوبہ بنانے کا فیصلہ کشمیریوں کو جبکہ پاکستان کی سیٹوں کاخاتمہ مہاجروں کو قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ آج قوم کو یہ سوچنا ہوگا کہ آخر مہاجرین کی نمائندگی کو نشانہ بنانے کے بعد بحث کس طرف جارہی ہے پہلے مہاجر سیٹوں کو متنازع بنایا گیا، پھر ریاستی ڈھانچے پر سوالات اٹھنے لگے اور اب کشمیر کو صوبہ بنانے کی آوازیں گردش کررہی ہیں یہ سب محض اتفاق نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم کو تقسیم کرکے کمزور کرنے والوں کے چہرے اب بے نقاب ہوچکے ہیں جذباتی نعروں اور ہجوم کی سیاست کے ذریعے لوگوں کو اصل خطرات سے غافل رکھا گیامگر اب عوام سمجھ چکے ہیں کہ اس ساری سیاست کا نقصان کس کو پہنچ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے عوامی حقوق کے نام پر ایسا بیانیہ کھڑا کیا جس نے ریاستی سیاست میں نفرت،تقسیم اور بے یقینی کو فروغ دیا آج اگر کشمیر کو صوبہ بنانے کی باتیں ہورہی ہیں تو یہ پوری قوم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔چیئرمین مہاجر جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے کہا کہ مہاجرین ہمیشہ کشمیری قوم کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ مہاجرین اور کشمیری ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک ہی جدوجہد کے دو حصے ہیں۔ اصل خطرہ وہ سوچ ہے جو ریاستی شناخت کشمیر کاز اور تاریخی وحدت کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔اسلم ندارسلہری نے کہا کہ ہم بار بار خبردار کررہے تھے کہ مہاجر سیٹوں پر حملہ دراصل ریاستی تشخص پر حملے کی ابتدا ہے مگر ہماری بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا آج وہی خدشات حقیقت بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ مہاجر جوائنٹ ایکشن کمیٹی ایک پُرامن،جمہوری پلیٹ فارم ہے جو ریاستی تشخص،مہاجرین کے حق نمائندگی اور کشمیر کاز کے تحفظ کے لیے ہر آئینی فورم پر آواز بلند کرے گی۔
انہوں نےکہا کہ قوم کو اب جذباتی نعروں سے نکل کر اصل حقائق کو سمجھنا ہوگااگر آج بھی ریاستی وحدت کے خلاف چلنے والے بیانیوں کو نہ روکا گیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔



