
ہم ہیں ریگِ ساحل پے آبلہ پا کھڑے ہوئے …..ناصف اعوان
دنیا کی تاریخِ جدوجہد پر نظر دوڑائیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ برس ہا برس لوگوں کو اپنے خوابوں کی تکمیل میں لگ گئے
گزشتہ ساٹھ ستر برس سے ایک سیاسی اور معاشی آنکھ مچولی کھیلی جا رہی ہے اور عوام کو کبھی کوئی خواب اور کبھی کوئی خواب دکھایا جا رہا ہے مگر اب تک ایسا کوئی خواب نہیں پورا ہوا جو ہماری اجتماعی زندگی کو خوابناک بنا دے ؟
جو بھی نیا حکمران آتا ہے پچھلے کو کوستا ہے اس پر لعن طعن کرتا ہے اس کی چھوٹی سے چھوٹی خامی کو منظر عام پر لاتا ہے جس کے لئے اربوں روپے خرچ کر ڈالتا ہے خود کیا کرنا ہے اس کا معلوم نہیں ہوتا کیونکہ جو بھی کرنا ہے وہ تو آئی ایم ایف نے کرنا ہے۔ بجلی اور گیس کی قیمت میں اضافہ اس کے حکم پر ہی ہوتا ہے ۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنوں میں کتنے فیصد اضافہ کرنا ہے اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کیا جاتا۔ ٹرینوں کے کرایوں تک میں وہ مداخلت کرتا ہے نئے ٹیکس کتنے فیصد لگانے ہیں پہلے والوں میں کتنے فیصد مزید اضافہ کرنا ہے وہی بتاتا ہے۔ لہذا کہا جا سکتا ہے کہ ہماری معیشت مکمل طور سے اس پر انحصار کرتی ہے اسی لئے عوام کی حالت اکثر خراب رہتی ہے کبھی کبھی تو بے حد خراب ہو جاتی ہے اور پھر وہ دہائی دینا شروع کر دیتےہیں اور کہتے ہیں کہ حکمران خود موجیں کر رہے ہیں انہیں فقط تسلی دے رہے ہیں۔ لُوٹ مچی ہوئی ہے لُوٹ۔ کوئی بھلا ان سے پوچھ سکتا ہے کہ تمھارے پاس قارون کا خزانہ کہاں سے آیا ؟ بالکل نہیں۔ اب عوام ہی ہیں جو ان سے پوچھیں تو پوچھیں مگر وہ خاموش ہیں احتجاج کرنے سے گھبراتے ہیں ان کا خیال ہے کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں حکومت کب ان کی طرف متوجہ ہوتی ہے مگر وہ نہیں جانتے کہ جب مسلسل آوازیں بلند ہوتی ہیں تو آخر کار ان کو سن لیا جاتا ہے کبھی یہ نہیں ہوتا کہ اِدھر صدا بلند ہوئی اُدھر اہل اختیار کے کان کھڑے ہو گئے۔ دنیا کی تاریخِ جدوجہد پر نظر دوڑائیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ برس ہا برس لوگوں کو اپنے خوابوں کی تکمیل میں لگ گئے ۔ روس چین پورا یورپ پلک جھپکتے میں سر سبز و شاداب نہیں ہوا لہذا اگر عوام اپنی زندگیوں میں کوئی تبدیلی لانے کے خواہاں ہیں تو انہیں سفر حیات کے نشیب و فراز سے گزرنا ہوگا مگر اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ حکمران عوام کے ساتھ ناروا سلوک جاری رکھیں وہ جب ووٹ لیتے ہیں اور گلی گلی جا کر ان سے بغل گیر ہوتے ہیں ان سے وعدے کرتے ہیں اور دعوے بھی کرتے ہیں تو پھر وہ کیوں ان کے معاشی حالات ٹھیک نہیں کرتے یہ درست ہے کہ آئی ایم ایف معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے مگر سوال تو یہ بھی ہے کہ جب ان کے اپنے ڈھیروں اخراجات ہوتے ہیں اور وہ اپنی بھاری مراعات مقروض ملک کو مدنظر رکھ کر نہیں حاصل کرتےتو آئی ایم ایف کہاں کھویا ہوتا ہے لہذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ اور یہ سب ملے ہوئے ہیں ایک باقاعدہ پروگرام کے تحت عوام کو بیوقوف ہی نہیں ان کو دباؤ میں رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ان کے قومی خزانہ کو بھرنے ہی نہ دیا جائے یعنی ”نہ نومن تیل ہو نہ رادھا ناچے“ یہ ہے‘سرمایہ داری نظام کی حکمت عملی جو اب اپنے آخری مراحل سے گزر رہا ہے اس کی بھر پور کوشش ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو اس کو بچایا جائے ۔اس نظام کے خلاف پوری دنیا میں ایک تحریک موجود ہے ۔ وہاں کے عوام کو سمجھ آ چکی ہے کہ چند دولت مند کس طرح انسانوں کا خون پی رہے ہیں اور اپنے خیالات کے مطابق ان کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں
اب جب محکوم و مظلوم انسانوں کو ان کے بارے میں فہم و ادراک ہو چکا ہے اور ان کے خلاف ایک مزاحمت سر اٹھا رہی ہے تو انہوں نے ایک انجانے خوف کو ان پر مسلط کرنے کی حکمت عملی اپنا لی ہے مگر اس میں وہ ناکام نظر آتے ہیں کیونکہ ان کے اندر سے ان کے پیدا کردہ خوف کا پردہ چاک ہونے لگا ہے لہذا یہ رائج نظام ٹوٹ کر بکھرے گا کہ جس نے انسانی زندگی کو دردناک اور اذیت ناک بنا دیا ہے۔
اس حقیقت کو جانتے ہوئے بھی اس کو محفوظ رکھنے کی منصوبہ بندی جاری ہے جبکہ ان چند خاندانوں اور ان کے آشیر باد حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ ارتقائی عمل کو تسلیم کر لیں کیونکہ ایک فطری عمل کو روکنا ناممکن ہوتا ہے لہذا انہیں عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں اور آسانیاں دینی چاہئیں ناکہ ان کو مختلف تکالیف کے ذریعے کنٹرول کرنے کا بندوبست کر نا چاہیے اس پر وہ وقتی طور سے تو کوئی ردعمل نہ بھی دیں مگر ان میں ایک لاوہ ضرور پکنے لگتا ہے ۔اس وقت بھی صورت حال ایسی ہی ہے۔
یہ بھی درست ہے کہ ایسی بہت سی سہولتیں موجودہ سیٹ اپ میں عوام کو دی جا رہی ہیں جو کبھی کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھیں مگر دوسری طرف روزگار کے مواقع سکڑنے لگے ہیں اچھے بھلے محکموں اور اداروں کو اونے پونے داموں نجی تحویل میں دیا جا رہا ہے سکولز کالجز اور یونیورسٹیز کو بتدریج پرائیویٹ کیا جا رہا ہے ۔ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے صنعتی یونٹس کے مالکان ملک چھوڑ رہے ہیں توانائی کے بحران سے چلتے کارخانے اور ملیں رکنے لگے ہیں ۔آئی پی پیز کا پیٹ بھرنے کے لئے بجلی کی قیمت میں ناقابل برداشت اضافہ کر دیا گیا ہے غریب آدمی کو جو سبسڈی دی جارہی تھی اسے بھول بھلیاں میں دھکیل دیا گیا ہے۔ کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ دو سو سے کم یونٹس جس کے بھی ہوں اسے رعایت دے دی جائے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ عوام کو اگر کوئی سہولت دینی بھی ہے تو رلا کر تڑپا کر؟
بہرحال حقیقت یہ ہے کہ ملک کا نظام موجودہ اہل سیاست سے چل نہیں پا رہا یا پھر وہ دانستہ اسے چلانا نہیں چاہتے کیونکہ اگر یہ مخلص ہوں تو بہت سے ایسے راستے ہیں جن پر چل کر خوشحالی اور خود کفالت کی حدود میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگر معیشت کو آزادانہ بنیادوں پر استوار کیا جائے تو کیا ہم بہتری کی جانب نہیں جا سکتے ‘ بالکل جا سکتے ہیں مگر ان کی عقل پر پردہ پڑا ہوا ہے کہ امریکا سے مہنگا تیل خریدنا وارے میں ہے اورسستا تیل مہنگا نظر آتا ہے۔ اب ہی یہ عقل کے ناخن لے لیں کہ اب امریکا سپر پاور نہیں رہا چین سپر پاور ہے اس کے ساتھ روس بھی ہے لہذا امریکا سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں۔
بہر کیف اب کھل کر عوام اپنا ردعمل ظاہر کرنے لگے ہیں اگرچہ اس پر قابو پانے کے لئے قوانین سازی کر لی گئی ہے اور ان پر عمل درآمد کروانے کے لئے محکمے بھی بنائے گئے ہیں مگر لوگ تنگ آکر ان سے الجھنے لگے ہیں کیونکہ ان کی روزی کا مسلہ پیدا ہو گیا ہے لہذا وہ اس نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں کیونکہ وہ اس کی وجہ سے زندگی کی بنیادی آسائشوں سے محروم ہیں مگر اس کے لئے انہیں سخت محنت اور جد وجہد کرنا پڑے گی کیونکہ اہل زر آسانی سے اپنے اس نظام کو نہیں معدوم ہونے دیں گے کہ اس کی بدولت وہ ”ککھوں لکھ“ ہوئے ہیں مگر نفسیات کا اصول ہے کہ ایک ہی کیفیت ہمیشہ برقرار نہیں رہتی۔
آخر میں یہ شعر کہ
خدا کرے اب آئے نہ آندھیوں کا موسم
ہم ہیں ریگِ ساحل پے آبلہ پا کھڑے ہوئے



