بین الاقوامیاہم خبریں

ترکیہ میں غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن تیز

ترک حکام نے حراست میں لیے گئے افغان باشندوں کو ملک بدری مراکز منتقل کرتے ہوئے افغانستان واپسی کا عمل شروع کر دیا ہے

وائس آف جرمنی اردو نیوز-نیوز ڈیسک
انقرہ: ترکیہ میں غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف گرفتاریوں کی نئی لہر شروع ہوگئی ہے جبکہ جرمنی اور ایران کے بعد ترک حکام نے بھی غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔
معروف افغان نشریاتی ادارے افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق ترک پولیس نے شرناق اور بایبُرت میں کارروائیاں کرتے ہوئے 15 غیر قانونی افغان مہاجرین سمیت 6 انسانی اسمگلروں کو گرفتار کر لیا۔ رپورٹ کے مطابق بایبُرت میں پناہ گزینوں کو غیر قانونی طور پر سرحد پار کروانے والے انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کے 3 افغان کارندے بھی گرفتار کیے گئے، جن میں سے ایک کو عدالتی حکم پر جیل منتقل کر دیا گیا۔
ترک حکام نے حراست میں لیے گئے افغان باشندوں کو ملک بدری مراکز منتقل کرتے ہوئے افغانستان واپسی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ترک محکمہ ہجرت نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی ہجرت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور سخت سرحدی نگرانی، گرفتاریوں اور فوری ملک بدری کا عمل جاری رہے گا۔
اقوام متحدہ کے مطابق ترکیہ رواں سال زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت 13 ہزار 500 افغان پناہ گزینوں کو گرفتار اور ڈیپورٹ کر چکا ہے۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر قانونی افغان تارکین وطن کی سکیورٹی اسکریننگ نہ ہونا ایک خطرناک خلا ہے، جس سے فائدہ اٹھا کر انتہا پسند عناصر میزبان ممالک میں سلیپر سیلز قائم کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق افغان مہاجرین سے متعلق بڑھتے ہوئے جرائم کے باعث میزبان ممالک اب انسانی ہمدردی کے بجائے قومی سلامتی اور اپنے مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button