سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اپنے چار روزہ سرکاری دورۂ چین کے پہلے مرحلے میں چین کے ترقی یافتہ اور جدید صنعتی شہر ہانگژو پہنچ گئے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ وزیراعظم کے دورے کو پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی، اسٹریٹجک اور ٹیکنالوجی تعاون کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ بھی منا رہے ہیں۔
وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود ہیں۔
ہانگژو آمد پر پرتپاک استقبال
وزیراعظم شہباز شریف جب شیاؤ شین ایئرپورٹ پہنچے تو ژجیانگ صوبے کے نائب گورنر شو وینگوانگ، پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائیڈونگ اور چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے ان کا استقبال کیا۔ چینی حکام اور سفارتی نمائندوں کی موجودگی نے دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کی عکاسی کی۔
وانگ ہاؤ سے اہم ملاقات، ژجیانگ ماڈل کی تعریف
دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی وانگ ہاؤ سے اہم ملاقات ہوئی۔ وانگ ہاؤ نے وزیراعظم کو ژجیانگ صوبے میں خوش آمدید کہا جبکہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اقتصادی تعاون، صنعتی ترقی، ماحول دوست پالیسیوں اور سی پیک فیز 2 پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
وزیراعظم نے ژجیانگ صوبے کی شاندار معاشی اور صنعتی ترقی کو سراہتے ہوئے شی جن پنگ کی وژنری قیادت کی تعریف کی، خصوصاً اُس دور کی جب وہ ژجیانگ صوبے کی کمیونسٹ پارٹی کمیٹی کے سربراہ تھے۔
وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کے معروف نظریے “صاف پانی اور سرسبز پہاڑ انمول اثاثے ہیں” کو ماحول دوست ترقی کا بہترین ماڈل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ژجیانگ کی ترقی اس بات کی عملی مثال ہے کہ ماحولیاتی تحفظ، سبز معیشت اور تیز رفتار اقتصادی ترقی کو بیک وقت آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
سی پیک فیز 2 اور صوبائی تعاون پر زور
وزیراعظم نے اپنی گفتگو میں کہا کہ پاکستان ژجیانگ صوبے کے ساتھ خصوصاً ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن، زراعت، قابل تجدید توانائی، جدید صنعت کاری اور اسکل ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں تعاون کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی سطح پر تعاون پاکستان اور چین کے تعلقات کا ایک اہم ستون بن چکا ہے، جو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

وزیراعظم کے مطابق سی پیک فیز 2 کے تحت خصوصی توجہ صنعتی تعاون، برآمدات پر مبنی معیشت، زرعی جدیدکاری، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور نوجوانوں کی مہارتوں کے فروغ پر مرکوز ہوگی۔
بزنس فورم اور چینی کمپنیوں سے ملاقاتیں
وزیراعظم شہباز شریف نے ہانگژو میں پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان تعاون کے فروغ کے لیے منعقدہ بزنس فورم میں بھی شرکت کی۔ فورم میں دونوں ممالک کے کاروباری رہنماؤں، سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں نے شرکت کی، جہاں تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی شراکت داری کے نئے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی معروف چینی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز سے بھی ملاقاتیں متوقع ہیں، جن میں پاکستان میں سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی، ای کامرس اور صنعتی تعاون کے مواقع زیر غور آئیں گے۔
علی بابا ہیڈکوارٹر کا دورہ
دورے کے اہم حصوں میں وزیراعظم کا علی بابا گروپ کے ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم علی بابا کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے، جس میں ڈیجیٹل معیشت، آن لائن تجارت، مصنوعی ذہانت، ای گورننس اور پاکستانی نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل روزگار کے مواقع پر گفتگو کی جائے گی۔
اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے دورے کے دوران دو اہم تعاون پر مبنی دستاویزات پر دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی۔
پہلی مفاہمتی یادداشت ژجیانگ صوبے اور پنجاب کے درمیان “سسٹر پروونس” تعلقات کے قیام سے متعلق تھی، جس کے تحت تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، تعلیم، ثقافت، سیاحت اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

دوسری دستاویز ہانگژو نارمل یونیورسٹی اور بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے کے درمیان “چین پاکستان مشترکہ ٹیکنالوجی ریسرچ سینٹر” کے قیام سے متعلق تھی۔ اس مرکز کا مقصد مشترکہ تحقیق، ٹیکنالوجی کے تبادلے، تعلیمی تعاون اور پاکستان و چین کے اداروں کے درمیان روابط کو فروغ دینا ہے۔
پاک چین تعلقات کا نیا دور
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں اور دونوں ممالک عوام دوست، ترقی پر مبنی اور عملی تعاون کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی، تعلیمی اور ٹیکنالوجی تعاون نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی مثبت اثرات مرتب کرے گا۔
ماہرین کی رائے
سیاسی اور معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کا دورۂ چین ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان معاشی استحکام، صنعتی ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سی پیک فیز 2 کے منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد ہوا تو اس سے پاکستان میں برآمدات، روزگار، صنعتی پیداوار اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ممکن ہوگی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ژجیانگ جیسے ترقی یافتہ صوبے کے ساتھ قریبی تعاون پاکستان کے لیے جدید صنعتی اور ڈیجیٹل ماڈلز سے استفادہ حاصل کرنے کا اہم موقع ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی شراکت داری خطے میں پاکستان کی اقتصادی پوزیشن کو مزید مستحکم کرے گی۔



