بین الاقوامیاہم خبریں

سعودی عرب میں دورانِ حج گائے کی قربانی پر پابندی کیوں؟ مکہ مکرمہ سے خاص رپورٹ

عازمین حج سے کہا گیا ہے کہ وہ بھیڑ کی قربانی صرف اس روایت کی یاد میں کریں جو حضرت ابراہیم نے شروع کی تھی۔

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

Published : May 24, 2026 at 4:03 PM IST

مکہ مکرمہ، سعودی عرب (خورشید وانی) سعودی عرب کے حکام نے حج 2026 کے موقعے پر گائے اور اونٹ کی قربانی پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حج کا یہ سالانہ اجتماع دنیا بھر میں مسلمانوں کی طرف سے منائے جانے والے بڑے تہوار عید الاضحی کے موقعے پر 84 گھنٹوں پر محیط قربانی کے طویل میراتھن کے دوران ہوتا ہے۔

عازمین حج سے کہا گیا ہے کہ وہ بھیڑ کی قربانی صرف اس روایت کی یاد میں کریں جو ہزاروں سال قبل حضرت ابراہیم نے شروع کی تھی۔

حکومت کے زیر انتظام پروگرام ‘ہادی اور اداہی’ کے جنرل مینیجر سراج محمد الفیلالی نے کہا کہ "ہم حج کے دوران گائے اور اونٹ کی قربانی نہیں کریں گے۔ سعودی حکام نے سال 2019 میں کورونا کی وبا کے بعد سے بڑے جانوروں کی قربانی پر پابندی عائد کر دی ہے۔” واضح رہے کہ مکہ مکرمہ میں دنیا کے سب سے بڑے اور جدید ترین مذبح خانہ کا انتظام کیا گیا ہے جو ایک ملین مربع میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہاں دوران حج گوشت ذخیرہ کیا جاتا ہے۔

الفیلالی نے بتایا کہ حج کے دوران مسلمانوں کے فقہی طریقہ کار کے مطابق جانوروں کی قربانی کے لیے جدید مشینری کا استعمال کیا گیا ہے۔ مذبح خانہ منیٰ کی مقدس وادی کے پاس قائم کیا گیا ہے، جہاں عازمین ایک مقررہ وقت کے دوران منتخب نمازیں ادا کرکے حج کا آغاز کرتے ہیں۔ پانچ روزہ سفر کے اختتام کے بعد ہر حاجی شکرانہ اور یادگار کے طور پر اللہ کی بارگاہ میں قربانی پیش کرتا ہے۔

الفیلالی میڈیا ٹیم کو مذبح خانے کے دورے پر لے گئے جہاں انہوں نے جانوروں کی قربانی کے متعدد مراحل کی وضاحت کرتے ہوئے جانوروں کو ذبح کرنے سے لے کر 20 وسیع ڈیپ فریزر میں گوشت ذخیرہ کرنے تک کی جانکاری دی۔ انہوں نے کہا کہ قربانی سے پہلے جانوروں کا طبی معائنہ کیا جاتا ہے اور دوسرے دور کے طبی معائنے کے بعد گوشت کو ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سہولت میں اوسطاً 10 لاکھ بھیڑیں قربان کی جاتی ہیں، ہر حاجی ایک جانور کے لیے 720 ریال ادا کرتا ہے۔

جانوروں کی یہ اجتماعی قربانی ماضی کے طریقوں سے مختلف ہے جب عازمین حج اپنی موجودگی میں روایتی طریقوں سے قربانی کرتے تھے۔ الفیلالی نے کہا کہ پہلے کے برعکس "حجاج کرام قربانی کے جانور کی قیمت ادا کرنے کے بعد اب ہمارے ساتھ آن لائن رجسٹر ہوتے ہیں۔ ہم حجاج کو قربانی کے وقت کے بارے میں فون سے پیغامات کے ذریعے مطلع کرتے ہیں، جس سے وہ حج کے مزید مراحل کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔” الفیلالی نے کہا کہ حجاج کرام کو ان کے ممالک کے کمیشن دفاتر کے ذریعے بھی مطلع کیا جاتا ہے۔

لیکن جانوروں کی بڑے پیمانے پر قربانی کرنے کے بعد کئی ٹن فضلے کا کیا ہوتا ہے؟ حکام کا کہنا ہے کہ کچرے کو لینڈ فلز میں ڈالنے کا پرانا رواج بتدریج ترک کیا جا رہا ہے۔

نیشنل سینٹر فار ویسٹ مینجمنٹ (MWAN) نے مکہ مکرمہ میں ایک ماڈل لائیو سٹاک سٹی پراجیکٹ کا آغاز کیا ہے جو کہ مذبح خانے کو دوران حج جانوروں کے فضلے کو پروسیس کرنے کے لیے جدید رینڈرنگ ٹیکنالوجی فراہم کرتا ہے۔

"یہ منصوبہ ایک مربوط آپریشنل گرڈ کا استعمال کرتا ہے، جو خون، چکنائی اور اعضاء کی پروسیسنگ، ہڈیوں کو پیسنے، اور خودکار طریقے سے بدبو کنٹرول کرنے نظام کے لیے خصوصی یونٹوں سے لیس ہے، جو کہ سالانہ 2,500 ٹن ٹھوس اور مائع فضلہ کو پروسیس کر سکتا ہے۔ اس کی مدد سے بڑے پیمانے پر، قیمتی، مارکیٹ کے لیے تیار اشیاء، بشمول نامیاتی مائع کھاد، پروٹین پاؤڈر، اور جانوروں کے کھانے کے اجزاء” تیار ہوتے ہیں ایم ڈبلیو اے این کے ایک اہلکار نے فخر کے ساتھ کہا کہ "یہ پروجکٹ مستقبل میں ملک گیر سطح پر توسیع کے قابل سرکلر اکانومی بلیو پرنٹ بھی ہے۔”

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button