اقوام متحدہ کی طرف سے روسی یوکرینی جنگ میں نئی ’خطرناک شدت‘ کی مذمت، فریقین سے مذاکرات کا مطالبہ
اس عرصے میں جنگ میں ہلاک یا زخمی ہونے والے یوکرینی شہریوں کی یہ تعداد 2025 کے پہلے چار ماہ کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ بنتی ہے۔
ڈی پی اے
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر فولکر ترک نے روسی یوکرینی جنگ میں نئی ’خطرناک شدت‘ کی مذمت کرتے ہوئے جمعرات 28 مئی کے روز کہا کہ روس اور یوکرین دونوں کی طرف سے اس جنگ میں ایک دوسرے پر حملوں کو شدید تر بنا دینے کی دھمکیاں بھی قابل مذمت ہیں اور ان متحارب ممالک کو جلد از جلد مذاکرت کی میز پر واپس آنا چاہیے۔
جنیوا سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق فولکر ترک نے اپنے ایک بیان میں کہا، ’’میں پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ جنگی فریق اجتناب سے کام لیں، باہمی مذاکرات بحال کریں اور اس جنگ سے پیدا شدہ مصائب کا خاتمہ کریں۔‘‘
اقوام متحدہ کے اس اعلیٰ اہلکار نے یہ مطالبہ روس کی طرف سے کییف پر کیے گئے حالیہ شدید ترین حملوں کے محض چند روز بعد کیا ہے۔ ان حملوں میں ماسکو کی مسلح افواج نے بڑی تعداد میں میزائل اور جنگی ڈرونز استعمال کیے تھے۔

یہ چار سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل روس کی طرف سے یوکرین میں فوجی مداخلت کے ساتھ شروع ہونے والی اس جنگ میں کییف پر کیے گئے ماسکو کے شدید ترین جنگی حملوں تازہ ایک مثال قرار دیے جا رہے ہیں۔ ان حملوں کے بعد سے یوکرین نے بھی روس کے خلاف اپنی جنگی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
یوکرین میں اس سال کے پہلے چار ماہ میں ہونے والی ہلاکتیں
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے مطابق روں سال کے پہلے چار ماہ کے دوران یوکرین پر روسی جنگی حملوں میں شہری ہلاکتوں کی تعداد 815 رہی جبکہ 4,174 عام شہری زخمی بھی ہوئے۔
اس عرصے میں جنگ میں ہلاک یا زخمی ہونے والے یوکرینی شہریوں کی یہ تعداد 2025 کے پہلے چار ماہ کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ بنتی ہے۔

اس بارے میں فولکر ترک نے کہا، ’’اس طرح کہ جیسے شدید ہو چکے حملوں میں شہری ہلاکتوں یا زخمی یوکرینی شہریوں کی یہ تعداد بھی انتہائی پریشان کر دینے والی نہیں تھی، روسی حکام کی طرف سے سرعام یہ دھمکیاں بھی دی گئیں کہ وہ کییف پر حملوں میں اور اضافہ کر دیں گے۔‘‘
انسانی ہمدردی کے بین الاقوامی قانون کا تقاضا
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کہا، ’’انٹرنیشنل ہیومینیٹیرین قانون یہ تقاضا کرتا ہے کہ کسی بھی مسلح تنازعے کے فریق اس مقصد کے لیے تمام تر عملی احتیاط پسندی کا مظاہرہ کریں کہ سویلین آبادی کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔‘‘
فولکر ترک نے یاد دہانی کراتے ہوئے کہا، ’’یہ صرف کوئی تجاویز یا سفارشات نہیں ہیں، بلکہ یہ ایسے لازمی فرائض ہیں، جن کی کسی بھی تنازعے کے فریقین پر پوری قانونی ذمے داری بھی عائد ہوتی ہے۔‘‘

عالمی ادارے کے اس ہائی کمشنر کے دفتر نے یہ نشاندہی بھی کی کہ یوکرینی فوج کی طرف سے 21 اور 22 مئی کو روسی فوج کے زیر قبضہ یوکرینی شہر اسٹاروبلسک میں ایک تعلیمی مرکز پر جو حملے کیے گئے، ان میں روسی حکام کے بیانات کے مطابق 21 افراد ہلاک اور 44 زخمی ہوئے تھے۔



