اہم خبریںمشرق وسطیٰ

ایران جنگ بندی معاہدے میں دوطرفہ رد و بدل جاری

امریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر میں توسیع اور جوہری مذاکرات پر ابتدائی اتفاق

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ تین ماہ سے جاری کشیدگی اور محدود جنگی صورتحال کے بعد دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں نے جنگ بندی میں مزید ساٹھ روز کی توسیع اور ایران کے جوہری پروگرام پر نئے مذاکرات شروع کرنے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے۔ تاہم امریکی حکام کے مطابق ایران نے تاحال اس معاہدے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان بنیادی نکات پر اتفاق رائے ضرور موجود ہے، لیکن معاہدے کے متن میں بعض اہم شقوں پر اب بھی رد و بدل جاری ہے۔

انہوں نے کہا:“یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کب یا آیا اس معاہدے پر دستخط کریں گے بھی یا نہیں۔ ابھی دونوں جانب سے مسودے پر کام جاری ہے۔”

جنگ بندی ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی دوبارہ غیر یقینی کیفیت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے مطابق بدھ کے روز کویت کی فضائی حدود کی جانب آنے والے ایران کے متعدد میزائلوں کو روک لیا گیا تھا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں دوبارہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی دفاعی حکام کے مطابق اس واقعے نے معاہدے کے مستقبل پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ خطے میں امریکی اتحادی ممالک بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

آبنائے ہرمز سے متعلق اہم شقیں شامل

مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز سے متعلق کئی اہم نکات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ایران اس اہم عالمی بحری گزرگاہ سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر کسی قسم کا نیا محصول عائد نہیں کرے گا اور آئندہ تیس روز کے اندر آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی تمام بارودی سرنگیں ہٹانے کا پابند ہوگا۔

واضح رہے کہ اٹھائیس فروری کو جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے عملاً آبنائے ہرمز کو محدود کر دیا تھا، جہاں سے دنیا بھر میں توانائی کی مجموعی برآمدات کے تقریباً بیس فیصد کے برابر تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس بندش کے باعث عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

عالمی تیل مارکیٹ پر اثرات

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں “تیزی سے نیچے آ سکتی ہیں”۔

دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اس نے بعض تجارتی جہازوں کو محدود پیمانے پر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے رکھی ہے، تاہم روزانہ گزرنے والے جہازوں کی تعداد جنگ سے پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے۔

ایران نے حالیہ ہفتوں میں بعض بحری جہازوں سے گزرنے کا محصول وصول کرنا بھی شروع کر دیا تھا اور اسی مقصد کے لیے ایک نیا نگران ادارہ قائم کیا گیا، جس پر امریکہ نے مزید اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

اقتصادی پابندیوں میں ممکنہ نرمی

ابتدائی معاہدے کے تحت امریکہ ایرانی بندرگاہوں کے گرد اپنی بحری ناکہ بندی بتدریج ختم کرے گا جبکہ ایران پر عائد بعض اقتصادی پابندیوں میں بھی نرمی کی جا سکتی ہے تاکہ تہران کو عالمی منڈی میں زیادہ مقدار میں تیل فروخت کرنے کی اجازت مل سکے۔

تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ معاہدے کی خبریں سامنے آنے کے باوجود امریکی وزارت خزانہ نے ایرانی فوج کے تیل فروخت کرنے والے نیٹ ورک پر نئی پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ اقدامات ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پر “زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ” کی پالیسی کا حصہ ہیں۔

بنیادی تنازعہ اب بھی برقرار

اگرچہ جنگ بندی میں توسیع اور سفارتی رابطوں کی بحالی کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اصل مسئلہ ایران کی یورینیم افزودگی، بین الاقوامی معائنوں اور خطے میں اس کے عسکری اثر و رسوخ سے جڑا ہوا ہے، جن پر اب بھی دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

اس مجوزہ معاہدے کی تفصیلات سب سے پہلے امریکی خبر رساں ادارے “ایکسیئس” نے شائع کی تھیں، جبکہ عالمی سفارتی حلقے اب اس بات کے منتظر ہیں کہ آیا واشنگٹن اور تہران اس ابتدائی معاہدے کو باضابطہ اور مستقل سمجھوتے میں تبدیل کر پاتے ہیں یا نہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button