
جرمنی میں مبینہ جاسوسی اور تخریب کاری کی سازش ناکام، یوکرینی شہری گرفتار، اسلحہ ساز کمپنی کی نگرانی اور لیپزگ ایئرپورٹ پر مشتبہ ڈرون ملنے کے بعد سکیورٹی مزید سخت
یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت نے حال ہی میں ہائبرڈ حملوں کے خلاف ایک نیا قومی رابطہ مرکز قائم کیا ہے، جس نے جون سے باقاعدہ کام شروع کیا ہے۔
جواد احمد – ادارت
برلن: جرمنی کے سکیورٹی اداروں نے ملک میں مبینہ تخریب کاری اور جاسوسی کی ایک ممکنہ کارروائی ناکام بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک 33 سالہ یوکرینی شہری کو گرفتار کر لیا ہے، جس پر شبہ ہے کہ وہ ایک غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کے لیے کام کرتے ہوئے جرمنی کی ایک اہم دفاعی صنعت سے متعلق حساس معلومات اکٹھی کر رہا تھا۔ اس پیش رفت نے یورپ میں بڑھتے ہوئے ہائبرڈ خطرات، صنعتی جاسوسی اور حساس تنصیبات کی سکیورٹی سے متعلق خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
جرمن پولیس نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں بتایا کہ گرفتار کیے گئے شخص کو 2 اگست کو مشرقی جرمن ریاست تھرنگیا سے حراست میں لیا گیا۔ تحقیقات کے مطابق ملزم پر شبہ ہے کہ وہ ایک غیر ملکی طاقت کی انٹیلی جنس سروس کے لیے نام نہاد "زیریں درجے کے ایجنٹ” (Low-Level Agent) کے طور پر کام کر رہا تھا، جس کا بنیادی مقصد حساس معلومات اور تصاویر حاصل کر کے اپنے ہینڈلرز تک پہنچانا تھا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے رواں سال جون کے دوران ریاست باویریا میں واقع ایک اسلحہ ساز کمپنی کی عمارت، اس کے اطراف، داخلی و خارجی راستوں اور دیگر حساس مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز بنائیں، جنہیں بعد ازاں اپنے رابطہ کاروں کو فراہم کیا گیا۔ حکام کا خیال ہے کہ اس معلومات کو مستقبل میں کسی ممکنہ تخریب کاری، جاسوسی یا دیگر خفیہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔
پولیس نے اگرچہ کمپنی کا نام ظاہر نہیں کیا، تاہم اس بات کی تصدیق کی کہ یہ ادارہ جرمنی کی دفاعی صنعت کا ایک اہم حصہ ہے اور حساس فوجی سازوسامان کی تیاری سے وابستہ ہے۔ اسی بنا پر اس مقام کی نگرانی اور تصویربرداری کو قومی سلامتی کے تناظر میں انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
عدالتی حکام کے مطابق ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد عدالتی حکم پر حراست میں رکھا گیا ہے اور وہ مقدمے کی سماعت تک زیر حراست رہے گا۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس نیٹ ورک میں مزید افراد بھی شامل تھے یا نہیں۔
ہائبرڈ حملوں کے خلاف نیا قومی مرکز متحرک
جرمن حکام نے بتایا کہ یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت نے حال ہی میں ہائبرڈ حملوں کے خلاف ایک نیا قومی رابطہ مرکز قائم کیا ہے، جس نے جون سے باقاعدہ کام شروع کیا ہے۔
اس مرکز کا مقصد ملک بھر میں مختلف سکیورٹی اداروں، انٹیلی جنس ایجنسیوں، وفاقی پولیس، سائبر سکیورٹی اداروں اور مقامی حکومتوں کے درمیان تعاون کو مزید مؤثر بنانا ہے تاکہ جاسوسی، تخریب کاری، سائبر حملوں، غلط معلومات کی مہمات اور اہم تنصیبات پر ممکنہ حملوں کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔
جرمن حکومت کے مطابق حالیہ برسوں میں ایسے ہائبرڈ خطرات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جن میں روایتی فوجی کارروائیوں کے بجائے جاسوسی، سائبر حملے، صنعتی معلومات کی چوری، انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے کی کوششیں اور عوامی رائے کو متاثر کرنے والی مہمات شامل ہیں۔
روس سے منسلک خطرات پر جرمنی کی تشویش
جرمن حکام کئی مرتبہ یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ یورپ میں بڑھتی ہوئی ہائبرڈ سرگرمیوں کے پیچھے روسی نیٹ ورکس یا روس سے وابستہ عناصر کے کردار کے خدشات موجود ہیں۔ اگرچہ حالیہ کیس میں پولیس نے کسی مخصوص ملک کا نام سرکاری طور پر نہیں لیا، تاہم حکام نے کہا کہ غیر ملکی انٹیلی جنس سرگرمیوں سے متعلق تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق روس اور مغربی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث یورپ میں دفاعی صنعت، توانائی کے مراکز، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور مواصلاتی نظام کو ہائبرڈ حملوں کے ممکنہ اہداف تصور کیا جا رہا ہے۔
لیپزگ ایئرپورٹ پر دھماکہ خیز ڈرون کی برآمدگی
اسی دوران جرمنی کی سکیورٹی صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب بدھ کے روز لیپزگ-ہالے ایئرپورٹ پر یوکرین کے ایک مال بردار طیارے کے قریب دھماکہ خیز مواد سے لیس ایک مشتبہ ڈرون برآمد کیا گیا۔
جرمن حکام کے مطابق ڈرون کو بروقت ناکارہ بنا دیا گیا، جس کے باعث کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم اس واقعے کے بعد ملک کے تمام بڑے ہوائی اڈوں، دفاعی تنصیبات اور اہم سرکاری مراکز پر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
جرمنی کے وفاقی وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرینڈٹ نے اس واقعے کو "ہائبرڈ حملے کا منظرنامہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جرمنی کو اب پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور منظم خطرات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات صرف روایتی سکیورٹی چیلنج نہیں بلکہ قومی سلامتی کے لیے ایک نئی نوعیت کے خطرات ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس اداروں، پولیس، فوج اور بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان مزید قریبی تعاون ضروری ہے۔
دفاعی تنصیبات کی نگرانی میں اضافہ
حکام کے مطابق حالیہ واقعات کے بعد دفاعی صنعت سے وابستہ کارخانوں، اسلحہ ساز کمپنیوں، ہوائی اڈوں، ریلوے نیٹ ورک، توانائی کے مراکز، سرکاری عمارتوں اور دیگر حساس مقامات پر نگرانی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ جدید سرویلنس سسٹمز، ڈرون ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے نظام کو بھی مزید فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
یورپ کو درپیش بدلتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز
بین الاقوامی امور اور دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ گرفتاری اور لیپزگ ایئرپورٹ پر پیش آنے والا واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یورپ کو اب صرف روایتی فوجی خطرات ہی نہیں بلکہ ہائبرڈ جنگ، صنعتی جاسوسی، سائبر حملوں، ڈرون ٹیکنالوجی کے غلط استعمال اور خفیہ انٹیلی جنس سرگرمیوں جیسے پیچیدہ چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روس۔یوکرین جنگ کے بعد یورپ میں حساس تنصیبات کی حفاظت اور قومی سلامتی کے انتظامات کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے، جبکہ جرمنی سمیت یورپی ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں اور انٹیلی جنس تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ تحقیقات میں مزید شواہد سامنے آتے ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف جرمنی کی داخلی سلامتی کی پالیسی بلکہ یورپی یونین کی مشترکہ سکیورٹی حکمت عملی اور غیر ملکی انٹیلی جنس سرگرمیوں کے خلاف اقدامات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔



