سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی نے پاکستان کے دورے کے دوران کہا ہے کہ پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا کی ایک اہم علاقائی طاقت ہے بلکہ یورپی یونین کا ایک قابلِ اعتماد، ذمہ دار اور اہم شراکت دار بھی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مسلسل مضبوط ہوئے ہیں اور اب یہ تعلقات تجارت، سرمایہ کاری، سلامتی، ماحولیاتی تبدیلی، تعلیم، ڈیجیٹل ترقی اور علاقائی استحکام سمیت متعدد شعبوں تک پھیل چکے ہیں۔
یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ 8ویں یورپی یونین-پاکستان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی شریک صدارت کے سلسلے میں پاکستان کے دورے پر آئیں، جہاں دونوں فریقوں نے دوطرفہ تعلقات کے تمام اہم پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا اور مستقبل کے لیے تعاون کے نئے راستوں پر غور کیا۔
وزیراعظم اور نائب وزیراعظم سے اہم ملاقاتیں
دورۂ پاکستان کے دوران یورپی یونین کی اعلیٰ عہدیدار نے وزیراعظم پاکستان اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں عالمی اور علاقائی صورتحال، اقتصادی تعاون، تجارتی روابط، سرمایہ کاری کے فروغ، توانائی کے شعبے میں اشتراک، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، تعلیم، نوجوانوں کے لیے مواقع اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستانی قیادت نے یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں فریق باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور برابری کی بنیاد پر اپنے تعلقات کو مزید وسعت دیں گے۔ اس موقع پر یورپی یونین کی نمائندہ نے پاکستان کی اقتصادی اصلاحات، ترقیاتی منصوبوں اور علاقائی امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔
تجارت اور معیشت: یورپ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی
اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے دوران اقتصادی تعاون کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ نے کہا کہ یورپ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منزل ہے جبکہ پاکستان یورپی یونین کی جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس (GSP+) سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ممالک میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ GSP+ کے تحت پاکستان کو حاصل تجارتی مراعات نے پاکستانی مصنوعات کی یورپی منڈیوں تک رسائی کو بہتر بنایا ہے جس کے نتیجے میں پاکستانی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں دونوں فریق تجارتی حجم میں مزید اضافہ کریں گے اور یورپی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھائیں گے۔
ماہرین کے مطابق یورپی یونین پاکستان کی ٹیکسٹائل، چمڑے، کھیلوں کے سامان، سرجیکل آلات اور زرعی مصنوعات کی سب سے بڑی درآمد کنندہ منڈیوں میں شامل ہے، جس کی وجہ سے یورپی منڈی پاکستانی معیشت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
دفاعی اور سلامتی تعاون پر بھی تبادلہ خیال
یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ نے اپنے دورے کے دوران راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔
ملاقات میں علاقائی سلامتی کی صورتحال، انسداد دہشت گردی کی کوششوں، سرحدی استحکام، عالمی سلامتی کے چیلنجز اور دفاعی شعبے میں تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب سے اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ عالمی اور علاقائی امن کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
پاکستانی عسکری قیادت نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار پر روشنی ڈالی جبکہ یورپی یونین کی نمائندہ نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور کامیابیوں کو سراہا۔
امریکہ-ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف
دورے کے دوران ایک اہم موضوع امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطے اور مذاکراتی عمل بھی رہا۔ یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ نے پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں ادا کیے جانے والے تعمیری اور سہولت کار کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کی کوششوں میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں مکالمہ، سفارت کاری اور سیاسی حل ہی پائیدار امن کا راستہ ہیں، اور پاکستان نے ان اصولوں کے فروغ کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو عالمی برادری کے لیے ایک مثبت مثال قرار دیا۔
موسمیاتی تبدیلی، تعلیم اور ڈیجیٹل تعاون پر خصوصی توجہ
اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ یورپی یونین نے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک میں شمار کرتے ہوئے ماحولیاتی تحفظ، قابلِ تجدید توانائی اور گرین اکانومی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
اس کے علاوہ تعلیم، سائنسی تحقیق، نوجوانوں کے تبادلے، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل گورننس کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نوجوان نسل کی ترقی اور جدید مہارتوں کا فروغ مستقبل کی شراکت داری کا اہم ستون ہوگا۔
دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اعادہ
اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے اختتام پر پاکستان اور یورپی یونین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں فریق سیاسی، اقتصادی، تجارتی، سائنسی، تعلیمی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔ دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ باقاعدہ اعلیٰ سطحی رابطے اور اسٹریٹجک مذاکرات باہمی اعتماد اور شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت
مبصرین کے مطابق 8واں یورپی یونین-پاکستان اسٹریٹجک ڈائیلاگ ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب پاکستان علاقائی اور عالمی سفارت کاری میں بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں سہولت کاری، علاقائی امن کے لیے کوششیں، اور عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی اعلیٰ سطحی قیادت کا یہ دورہ اس امر کا واضح اشارہ ہے کہ یورپ پاکستان کو نہ صرف ایک اہم تجارتی شراکت دار بلکہ خطے میں امن، استحکام اور سفارتی رابطوں کے لیے ایک مؤثر اور بااعتماد ملک کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس دورے سے دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہونے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔



