پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

سی اے ایس ایس اسلام آباد میں سری لنکن دفاعی وفد کی آمد، مستقبل کی جنگ، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور دفاعی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال

مقررین کے مطابق جو ممالک ان جدید ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کریں گے، وہ مستقبل میں دفاعی میدان میں زیادہ مؤثر صلاحیت کے حامل ہوں گے۔

سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (CASS) اسلام آباد نے دفاعی سفارت کاری، علمی تعاون اور جدید عسکری تحقیق کے فروغ کے سلسلے میں ڈیفنس سروسز کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج، سری لنکا کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کی میزبانی کی۔ وفد کا دورہ مستقبل کی جنگی حکمت عملی، فضائی قوت، ابھرتی ہوئی عسکری ٹیکنالوجیز، ملٹی ڈومین آپریشنز اور پاکستان و سری لنکا کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ دورہ 3 اگست 2026 کو سی اے ایس ایس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جہاں دونوں ممالک کے دفاعی ماہرین، محققین اور سینئر عسکری حکام نے خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال، جدید جنگ کے تقاضوں اور مستقبل میں مشترکہ تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

دفاعی تحقیق اور پالیسی سازی میں سی اے ایس ایس کا کردار

دورے کے آغاز میں وفد کو سی اے ایس ایس کے تحقیقی اور پالیسی کردار سے آگاہ کیا گیا۔ ادارے کے حکام نے بتایا کہ سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز ایک آزاد تھنک ٹینک ہے، جو قومی سلامتی، دفاعی حکمت عملی، فضائی قوت، خلائی تحقیق، نئی ٹیکنالوجیز اور علاقائی و عالمی سکیورٹی امور پر تحقیق اور پالیسی سفارشات فراہم کرتا ہے۔

ادارے کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ سی اے ایس ایس نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی تعلیمی اداروں، دفاعی تنظیموں، پالیسی سازوں اور قومی سلامتی کے ماہرین کے ساتھ مسلسل روابط استوار کر رہا ہے تاکہ تحقیق، علم اور تجربات کے تبادلے کو فروغ دیا جا سکے۔

پاک۔بھارت تنازع اور فضائی برتری پر خصوصی بریفنگ

دورے کے دوران سی اے ایس ایس کے ڈائریکٹر ائیر وائس مارشل (ر) ناصر الحق وائیں نے سری لنکن وفد کو مئی 2025 میں پیش آنے والے چار روزہ پاک۔بھارت عسکری تنازع کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

انہوں نے اپنی پریزنٹیشن میں اس بات کی وضاحت کی کہ جدید جنگ صرف روایتی عسکری طاقت تک محدود نہیں رہی بلکہ اب فضائی، زمینی، بحری، خلائی، سائبر اور الیکٹرانک شعبوں کو یکجا کر کے ملٹی ڈومین آپریشنز کے ذریعے کامیابی حاصل کی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاک فضائیہ نے جدید ٹیکنالوجی، بروقت فیصلہ سازی، مربوط آپریشنل منصوبہ بندی اور مختلف جنگی شعبوں کے مؤثر انضمام کے ذریعے فضائی برتری برقرار رکھنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا، جو جدید جنگی حکمت عملی میں فضائی طاقت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

مستقبل کی جنگ میں ٹیکنالوجی کا کردار

بریفنگ کے دوران اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ مستقبل کی جنگوں میں مصنوعی ذہانت (AI)، بغیر پائلٹ فضائی نظام (ڈرونز)، خودکار دفاعی نظام، سائبر سکیورٹی، خلائی ٹیکنالوجی، ڈیٹا اینالیٹکس اور جدید سینسرز فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔

مقررین کے مطابق جو ممالک ان جدید ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کریں گے، وہ مستقبل میں دفاعی میدان میں زیادہ مؤثر صلاحیت کے حامل ہوں گے۔

سی اے ایس ایس کی تحقیقاتی سرگرمیوں پر پریزنٹیشن

سی اے ایس ایس کے ریسرچ اسسٹنٹ شہیر احمد نے ادارے کے تحقیقی پروگراموں، شائع شدہ مطالعات، جاری منصوبوں اور مستقبل میں ایرو اسپیس شعبے میں تحقیق کے امکانات پر جامع پریزنٹیشن دی۔

انہوں نے بتایا کہ ادارہ قومی سلامتی، ایرو اسپیس ٹیکنالوجی، دفاعی جدت، مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق، ہائبرڈ وارفیئر، سائبر سکیورٹی اور اسٹریٹجک پالیسی جیسے شعبوں میں مسلسل تحقیق کر رہا ہے تاکہ قومی سطح پر مؤثر پالیسی سازی میں معاونت فراہم کی جا سکے۔

مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی ناگزیر قرار

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سی اے ایس ایس کے صدر ائیر مارشل (ر) جاوید احمد نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں کسی بھی ملک کی مضبوط دفاعی صلاحیت کا انحصار اس کی مقامی سائنسی اور تکنیکی استعداد پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ درآمدی دفاعی نظام پر مکمل انحصار مستقبل میں کسی بھی ملک کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے، لہٰذا مقامی تحقیق، دفاعی صنعت اور جدید ٹیکنالوجی کی ترقی قومی سلامتی کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔

نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کی اہمیت

ائیر مارشل (ر) جاوید احمد نے پاکستان کے نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک (NASTP) کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان میں تحقیق، اختراع، دفاعی ٹیکنالوجی، صنعتی اشتراک اور مقامی خود انحصاری کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ این اے ایس ٹی پی کے ذریعے جامعات، صنعت، دفاعی اداروں اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ جدید ٹیکنالوجیز کی مقامی سطح پر تیاری ممکن بنائی جا سکے۔

پاکستان اور سری لنکا کے مشترکہ سکیورٹی چیلنجز

اپنے خطاب میں صدر سی اے ایس ایس نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کو کئی مشترکہ سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں دہشت گردی، غیر روایتی جنگ، سمندری سلامتی، علاقائی استحکام اور ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات شامل ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک ان چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے عسکری تعاون، مشترکہ تربیتی پروگراموں، تحقیقی سرگرمیوں، دفاعی ٹیکنالوجی کی ترقی اور تجربات کے تبادلے کو مزید فروغ دے سکتے ہیں۔

سری لنکا کی تعلیمی ترقی اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو سراہا

ائیر مارشل (ر) جاوید احمد نے سری لنکا کی اعلیٰ شرح خواندگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انسانی وسائل کی ترقی کسی بھی ملک کی قومی طاقت کا اہم ستون ہوتی ہے۔

انہوں نے دہشت گردی کے خلاف سری لنکا کی طویل جدوجہد اور وہاں کے عوام کی استقامت اور قربانیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ ایسے تجربات سے دونوں ممالک ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

دفاعی سفارت کاری کو فروغ دینے پر زور

دورے کے اختتام پر دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دفاعی اداروں، تحقیقی مراکز اور عسکری تربیتی اداروں کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقبل کی جنگوں کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے پیش نظر تحقیق، ٹیکنالوجی، جدت، مشترکہ تربیت اور علمی تعاون نہ صرف دونوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنائیں گے بلکہ جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔

ماہرین کے مطابق ایسے اعلیٰ سطحی مطالعاتی دورے اور علمی تبادلے دفاعی سفارت کاری کا مؤثر ذریعہ ہیں، جو مستقبل میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان سکیورٹی تعاون، پیشہ ورانہ روابط اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button