
ایران۔امریکہ جنگ کے 100 روز: امن معاہدہ بھی عالمی توانائی بحران فوری ختم نہیں کر سکے گا، ماہرین کا انتباہ ،رپورٹ
آبنائے ہرمز کھلنے کے باوجود تیل، گیس اور سپلائی چینز کی مکمل بحالی میں برسوں لگ سکتے ہیں؛ عالمی معیشت کو مہنگائی اور کساد بازاری کا خطرہ برقرار
سید عاطف ندیم پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کو 100 روز مکمل ہو چکے ہیں، اور اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، لیکن توانائی، شپنگ اور عالمی معیشت کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے باوجود عالمی منڈیوں کو معمول پر آنے میں طویل عرصہ درکار ہوگا۔
ماہرین کے مطابق بہت سے پالیسی ساز، سرمایہ کار اور کاروباری حلقے یہ امید کر رہے ہیں کہ جیسے ہی آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر کھول دی جائے گی، تیل اور گیس کی سپلائی بحال ہو جائے گی اور عالمی توانائی کی قیمتیں تیزی سے نیچے آنا شروع ہو جائیں گی۔ تاہم توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین اس تصور کو حد سے زیادہ خوش فہمی قرار دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جنگ نے صرف تیل کی ترسیل ہی متاثر نہیں کی بلکہ پورے خطے کے بنیادی ڈھانچے، شپنگ نیٹ ورکس، تجارتی راستوں اور توانائی کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا ہے، جن کی بحالی میں کئی ماہ بلکہ بعض صورتوں میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کھلنے سے بحران فوری ختم نہیں ہوگا
دنیا کی تیل تجارت کا ایک بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 100 دنوں کے دوران اس اہم آبی گزرگاہ میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے عالمی توانائی منڈیوں کو شدید متاثر کیا۔
سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی سعودی ارامکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امین ناصر کے مطابق اگر آبنائے ہرمز آج ہی مکمل طور پر بحال ہو جائے تب بھی عالمی توانائی کی منڈیوں کو دوبارہ متوازن ہونے میں کئی ماہ درکار ہوں گے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ آبی گزرگاہ مزید چند ہفتوں تک متاثر رہی تو توانائی کی عالمی مارکیٹ کی مکمل بحالی کا عمل 2027 تک جاری رہ سکتا ہے۔
تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں 30 فیصد اضافہ
جنگ کے آغاز کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔
اس اضافے کے اثرات صرف پٹرول اور ڈیزل تک محدود نہیں رہے بلکہ کھاد، بجلی، نقل و حمل اور صنعتی پیداوار کے اخراجات بھی نمایاں طور پر بڑھ گئے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عالمی مہنگائی کو مزید بڑھا رہا ہے اور متعدد ممالک کے مرکزی بینکوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔
زرعی شعبہ بھی دباؤ میں
توانائی بحران کے اثرات زرعی شعبے پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
قدرتی گیس کھاد کی تیاری کا ایک اہم جزو ہے اور گیس کی بڑھتی قیمتوں نے کھاد کی لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے کسانوں کے پیداواری اخراجات بڑھنے سے خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ترقی پذیر ممالک میں غذائی عدم تحفظ کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
شپنگ انڈسٹری کو اعتماد بحال کرنے میں وقت لگے گا
تجزیہ کاروں کے مطابق ممکنہ امن معاہدے کے بعد بھی عالمی شپنگ انڈسٹری فوری طور پر معمول پر واپس نہیں آ سکے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں جہاز بھیجنے سے قبل شپنگ کمپنیاں سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیں گی۔
ان کے مطابق کم از کم 30 سے 45 روز تک حالات کا مشاہدہ کیا جائے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آبی راستے واقعی محفوظ ہیں اور کسی نئے حملے کا خطرہ موجود نہیں۔
حملوں کا خطرہ اب بھی برقرار
امریکی توانائی کمپنی شیورون کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مائک ورتھ کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب جہازوں پر حملوں کے واقعات اب بھی سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صرف گزشتہ ہفتے متعدد تجارتی جہاز نشانہ بنے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ خطے میں سکیورٹی صورتحال اب بھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوئی۔
ان کے مطابق آبنائے ہرمز کی بحالی کا عمل "رک رک کر آگے بڑھنے” والا مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے۔
مارکیٹ انٹیلی جنس ادارے اسپارٹا کموڈیٹیز کے ریسرچ سربراہ نیل کروسبی کا کہنا ہے کہ اگر امن معاہدے کے بعد بھی ایک بڑا حملہ ہو جاتا ہے تو متعدد شپنگ کمپنیاں دوبارہ اس راستے کے استعمال سے گریز کر سکتی ہیں۔
خلیج میں پھنسے جہازوں کی واپسی بھی بڑا چیلنج
ماہرین کے مطابق صرف راستہ کھل جانا کافی نہیں ہوگا۔
خلیج میں موجود درجنوں تیل بردار جہازوں کو محفوظ انداز میں اپنی منزلوں تک پہنچانے اور دنیا بھر کی بندرگاہوں سے نئے جہازوں کو خلیجی ممالک تک لانے میں بھی وقت درکار ہوگا۔
نیل کروسبی کے مطابق اس پورے عمل کو مکمل ہونے میں کم از کم آٹھ ہفتے یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
توانائی تنصیبات کی مرمت میں برسوں لگ سکتے ہیں
جنگ کے دوران متعدد توانائی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، جن میں سب سے نمایاں قطر کا راس الفان انڈسٹریل سٹی ہے۔

یہ دنیا کے سب سے بڑے ایل این جی مراکز میں شمار ہوتا ہے اور اطلاعات کے مطابق جنگی حملوں کے نتیجے میں اس کی تقریباً 17 فیصد پیداواری صلاحیت متاثر ہوئی۔
قطری حکام کا کہنا ہے کہ اس تنصیب کی مکمل مرمت اور بحالی میں تین سے پانچ سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
قانونی تنازعات بھی بحالی میں رکاوٹ
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تکنیکی مرمت کے ساتھ ساتھ قانونی مسائل بھی کمپنیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔
سپلائی میں تعطل، کارگو کی منسوخی اور معاہدوں کی خلاف ورزی سے پیدا ہونے والے تنازعات کو حل کرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق متعدد ایل این جی اور تیل کمپنیاں ابھی سے اربوں ڈالر کے ممکنہ قانونی دعوؤں اور معاوضوں کا سامنا کر رہی ہیں۔
حفاظتی معائنے ناگزیر
صنعتی ماہرین کے مطابق جنگ سے متاثرہ توانائی تنصیبات کو دوبارہ فعال کرنے سے پہلے جامع حفاظتی معائنے ضروری ہوں گے۔
طویل عرصے تک بند رہنے والی مشینری میں زنگ لگنے، پائپ لائنوں میں ملبہ جمع ہونے اور تکنیکی خرابیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر جلد بازی میں پیداوار بحال کی گئی تو بڑے صنعتی حادثات رونما ہو سکتے ہیں۔
دنیا ذخائر کے بحران کے قریب؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی اس وقت عارضی طور پر ذخائر کے سہارے چل رہی ہے، لیکن یہ ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔
جنگ کے آغاز کے بعد امریکہ نے ریکارڈ سطح پر تیل کی پیداوار بڑھائی، چین نے اپنے اسٹریٹیجک ذخائر استعمال کیے اور انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے رکن ممالک نے بھی ہنگامی ذخائر مارکیٹ میں جاری کیے۔
تاہم یہ اقدامات مستقل حل نہیں ہیں۔
جولائی اور اگست فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی سربراہ فیتھ برول نے خبردار کیا ہے کہ ابتدائی مہینوں میں موجود اضافی ذخائر نے مارکیٹ کو سہارا دیا، لیکن ذخائر میں مسلسل کمی کے باعث جولائی اور اگست کے دوران عالمی تیل مارکیٹ ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔
نیل کروسبی کے مطابق جب ذخائر ختم ہونے لگتے ہیں تو مارکیٹ میں توازن بحال کرنے کا واحد راستہ قیمتوں میں اضافہ رہ جاتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو خام تیل کی قیمتیں موجودہ سطح سے دوگنی تک بھی ہو سکتی ہیں۔
عالمی کساد بازاری کا خدشہ
معاشی ماہرین کے مطابق اگر توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جائیں گے۔
ایندھن، خوراک، ٹرانسپورٹ، صنعتی پیداوار اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عالمی مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ کئی معیشتیں سست روی یا کساد بازاری کا شکار ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ممکنہ امن معاہدہ جنگ کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہوگا، لیکن اس کے باوجود عالمی معیشت کو اس بحران کے اثرات سے نکلنے کے لیے ایک طویل اور پیچیدہ بحالی کے عمل سے گزرنا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی نظریں صرف امن معاہدے پر نہیں بلکہ اس کے بعد آنے والے بحالی کے مرحلے پر بھی مرکوز ہیں، جو آنے والے کئی برسوں تک عالمی معیشت کی سمت کا تعین کر سکتا ہے۔



