
گورو ارجن دیو جی کے شہیدی دن (جوڑ میلہ) کی مرکزی تقریب کا آغاز، بھارتی سکھ یاتری لاہور پہنچ گئے
تقریب کے دوران گورو ارجن دیو جی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے خصوصی مذہبی رسومات ادا کی جائیں گی
ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
لاہور: گورو ارجن دیو جی کے شہیدی دن (جوڑ میلہ) کی مرکزی تقریبات کا آغاز تاریخی گردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور میں عقیدت و احترام کے ساتھ ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں بھارت سے پاکستان آنے والے سکھ یاتری مختلف مذہبی مقامات کی یاترا مکمل کرنے کے بعد لاہور پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ تین روز تک قیام کریں گے اور مرکزی مذہبی تقریب میں شرکت کریں گے۔
متروکہ وقف املاک بورڈ (ETPB) کے زیر انتظام منعقد ہونے والی ان تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں نے گردوارہ دربار صاحب کرتارپور اور گردوارہ روہڑی صاحب ایمن آباد کی یاترا مکمل کرنے کے بعد لاہور کا رخ کیا۔ لاہور پہنچنے پر یاتریوں کا استقبال متروکہ وقف املاک بورڈ کے حکام، پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی (PSGPC) کے نمائندوں اور مقامی سکھ برادری کے افراد نے کیا۔
بھارتی سکھ یاتریوں نے پاکستان میں فراہم کی جانے والی سہولیات، انتظامات اور مذہبی آزادی کے ماحول پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان، متروکہ وقف املاک بورڈ اور دیگر متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ یاتریوں کا کہنا تھا کہ پاکستان آمد کے بعد انہیں جس عزت، محبت اور سہولت کے ساتھ مذہبی رسومات کی ادائیگی کا موقع ملا، وہ قابل تعریف ہے۔
سکھ یاتری گردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور میں تین روز تک قیام کریں گے، جہاں گورو ارجن دیو جی کے شہیدی دن کی مرکزی تقریب عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد کی جائے گی۔ تقریب میں بھارت سے آئے ہوئے سینکڑوں سکھ یاتریوں کے علاوہ پاکستان بھر سے سکھ برادری کے افراد، مذہبی رہنما اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات شرکت کریں گی۔
تقریب کے دوران گورو ارجن دیو جی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے خصوصی مذہبی رسومات ادا کی جائیں گی، جبکہ کیرتن دربار، ارداس اور دیگر روحانی تقاریب کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔ مذہبی رہنما گورو ارجن دیو جی کی تعلیمات، قربانیوں اور انسانیت کے لیے ان کی خدمات پر روشنی ڈالیں گے۔
مرکزی تقریب میں چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ قمرالزمان بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے جبکہ پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے پردھان سردار رمیش سنگھ اروڑہ، ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز ناصر مشتاق، بورڈ کے اعلیٰ حکام، مقامی سکھ سنگت اور بھارت سے آئے ہوئے سکھ یاتریوں کی بڑی تعداد بھی موجود ہوگی۔
متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے یاتریوں کی سہولت اور تحفظ کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ یاتریوں کی رہائش، لنگر، پینے کے صاف پانی، صفائی ستھرائی، ٹرانسپورٹ اور طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ گردوارہ ڈیرہ صاحب اور دیگر مقدس مقامات پر خصوصی صفائی مہم بھی چلائی گئی تاکہ زائرین کو بہترین ماحول فراہم کیا جا سکے۔
سکیورٹی کے حوالے سے بھی جامع اور فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس، اسپیشل برانچ اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکار یاتریوں کی حفاظت کے لیے تعینات ہیں۔ گردواروں اور یاتریوں کے قیام گاہوں کے اطراف سکیورٹی کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے تاکہ مذہبی تقریبات پرامن ماحول میں منعقد ہو سکیں۔
ریسکیو 1122 اور متروکہ وقف املاک بورڈ کی میڈیکل ٹیمیں بھی یاتریوں کے ہمراہ موجود ہیں اور ہنگامی طبی امداد کے لیے خصوصی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق کسی بھی غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔
مذہبی اور ثقافتی ماہرین کے مطابق گورو ارجن دیو جی کا شہیدی دن سکھ مذہب میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ گورو ارجن دیو جی سکھوں کے پانچویں گورو تھے جنہوں نے امن، رواداری، محبت اور انسانیت کے اصولوں کو فروغ دیا۔ ان کی قربانی کو سکھ تاریخ میں ایک عظیم باب کی حیثیت حاصل ہے اور دنیا بھر کے سکھ ہر سال ان کی یاد میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں۔
پاکستان میں منعقد ہونے والی یہ تقریبات نہ صرف مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب رواداری کی عکاس ہیں بلکہ پاکستان اور بھارت کے سکھ برادری کے درمیان مذہبی و ثقافتی روابط کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ حکومت پاکستان کی جانب سے ہر سال سکھ یاتریوں کو مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، جسے عالمی سطح پر بھی سراہا جاتا ہے۔
متروکہ وقف املاک بورڈ کے حکام کے مطابق دورہ پاکستان مکمل ہونے کے بعد بھارتی سکھ یاتری 19 جون کو اپنی مذہبی رسومات مکمل کرکے وطن واپس روانہ ہو جائیں گے۔ اس دوران وہ پاکستان میں واقع مختلف مقدس سکھ مذہبی مقامات پر حاضری دے کر اپنی عقیدت کا اظہار کریں گے۔
سکھ یاتریوں اور مقامی سکھ برادری نے امید ظاہر کی ہے کہ اس طرح کے مذہبی اجتماعات اور یاترائیں مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے عوام کے درمیان محبت، بھائی چارے اور مذہبی رواداری کے فروغ کا ذریعہ بنتی رہیں گی۔



