اہم خبریںپاکستان پریس ریلیز

پاکستان بھر میں عاشورہ محرم کے موقع پر سخت سکیورٹی، ہزاروں اہلکار تعینات

انٹیلیجنس اداروں نے بعض شدت پسند عناصر کی جانب سے محرم کے جلوسوں اور مذہبی اجتماعات کو نشانہ بنانے کے ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا ہے

انصار ذاہد سیال-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان میں ممکنہ دہشت گردانہ حملوں کے خدشات کے پیش نظر ملک بھر میں ہزاروں پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ انٹیلیجنس اطلاعات کے مطابق بعض شدت پسند عناصر محرم کے جلوسوں اور اجتماعات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
پاکستان میں اگرچہ سنی اور شیعہ برادریاں پرامن طور پر ایک ساتھ رہتی ہیں، تاہم ماضی میں فرقہ وارانہ حملوں میں شیعہ مساجد، جلوسوں اور مذہبی اجتماعات کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، جن میں سینکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
سکیورٹی حکام کے مطابق بعض حساس علاقوں میں جلوسوں اور مجالس کے دوران موبائل فون سروس عارضی طور پر معطل کی جا سکتی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔
محرم الحرام کے مقدس ایام کے دوران ممکنہ دہشت گردانہ حملوں کے خدشات کے پیش نظر پاکستان بھر میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے عزاداری کے جلوسوں، مجالس اور مذہبی اجتماعات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہزاروں پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔
لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں شیعہ مسلمانوں کے روایتی ماتمی جلوسوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں عزادار حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کی یاد میں نوحہ خوانی اور ماتم کر رہے ہیں۔ ان اجتماعات کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق انٹیلیجنس اداروں نے بعض شدت پسند عناصر کی جانب سے محرم کے جلوسوں اور مذہبی اجتماعات کو نشانہ بنانے کے ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا ہے۔ انہی اطلاعات کی بنیاد پر ملک بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور حساس علاقوں میں خصوصی نگرانی کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔
پاکستان میں اگرچہ سنی اور شیعہ برادریاں عمومی طور پر باہمی احترام اور پرامن ماحول میں زندگی گزارتی ہیں، تاہم ماضی میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں شیعہ مساجد، امام بارگاہوں، جلوسوں اور مذہبی اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں سینکڑوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے تھے، جس کے باعث محرم الحرام کے دوران سکیورٹی ادارے خصوصی طور پر متحرک رہتے ہیں۔
سکیورٹی حکام کے مطابق بعض حساس اضلاع اور شہروں میں جلوسوں اور مجالس کے دوران موبائل فون سروس عارضی طور پر معطل کی جا سکتی ہے تاکہ دہشت گرد عناصر کی ممکنہ سرگرمیوں کو روکا جا سکے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
دریں اثنا وزیر مملکت برائے داخلہ امور طلال چوہدری اور سیکرٹری داخلہ کی زیر صدارت محرم الحرام کے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے ہوم سیکرٹریز، اعلیٰ پولیس حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران محرم الحرام کے جلوسوں، مجالس اور دیگر مذہبی سرگرمیوں کے لیے مرتب کردہ سکیورٹی پلان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ شرکاء نے مجموعی انتظامات، حساس مقامات کی نگرانی، انٹیلیجنس شیئرنگ، ہنگامی ردعمل کے نظام اور بین الادارہ جاتی تعاون کا جامع جائزہ لیا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے دوران شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی تاکہ عزاداری کے تمام پروگرام پرامن ماحول میں منعقد ہو سکیں۔
انہوں نے ہوم سیکرٹریز اور سکیورٹی اداروں کو ہدایت کی کہ موجودہ خطرات کے پیش نظر حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنائے جائیں، حساس مقامات پر نگرانی بڑھائی جائے اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
حکام کے مطابق محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے اور مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر مربوط حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی ادارے مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button