کاروبارپیر مشتاق رضوی

قتل حسینؑ اصل میں مرگ یزید ہے…. پیر مشتاق رضوی

ملوکیت "یزیدیت" ہے کیونکہ وہ *اللہ کی زمین کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھتی ہےحسینیت"حق"ہے کیونکہ وہ اللہ کی زمین پر اللہ کا قانون چاہتی ہے

"یزیدیت” کوئی ایک شخص کا نام نہیں، ایک مذموم فکر، ایک باطل نظام اور ایک ظالمانہ سرکش رویےکا نام ہے۔ اس کی بنیاد "ملوکیت” ہے۔ یزیدیت باطل نظام ملوکیت کا پرتو ہے لعین یزید نے اسلامی نظام ریاست پس پشت ڈال کر ملوکیت کا آغاز کیا ملوکیت کی خصلت اور یزیدیت کی نمایاں مثال "صلح حسن” کی خلاف ورزی کرکے لعین یزید کا ولی عہد بننا اور اسلام میں موروثی حکمرانی کا آغاز کرنا ہے مدینہ کے گورنر کو حکم دینا کہ حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام سے جبرا”بیعت لو” بیعیت فاسق سے انکار پر قتل کردو کربلا میں حق کو طاقت سے دبانے کے لئے ہزاروں کا لشکر 72 پر بھیجا سچ بولنے والوں قید و بند کی صعوبتوں میں جکڑ دو دین اسلام کو تخت کے لیے استعمال کرنااور طاقت کے زور پر خلیفہ کہلوایا یہ یزیدی مذموم عزائم تھے اسلامی ریاست میں فسق و فاجر شراب اور جوروظلم کو عام کیا مذہب کا لبادہ اوڑھ کر حرام خوری کرنا اور فسق و فاجر تمام حدیں توڑ ڈالنا ،کوفیوں کو دھمکی و لالچ سے خریدا،ووٹ (بعیت) خریدنا، ضمیر بیچنا جہاں یہ بد خصلتیں ہوں سمجھ لو وہاں”یزیدیت” رائج ہے،کربلا سے پہلے اوربعد میں ملوکیت یزیدیت کی راہ ھموار کی خلافت راشدہ کے بعد یزیدیت نے بادشاہت کی طرز حکمرانی، موروثیت ، محل ، دربار بنیاد رکھی اسلامی تاریخ میں پہلی بار”امیر المومنین” نے تخت پرتاج رکھا۔ملوکیت اپنے عروج پرپہنچ کر یزیدیت بن گئی دین نام کا رہ گیا، جبکہ ” تخت و تاج مورثی” بن گیا۔سیدنا امام حسینؑ نے اسی لیے فرمایا تھا کہ”مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کر سکتایعنی”نبوت کی میراث” اور "ملوکیت کی وراثت”جمع نہیں ہو سکتیں۔ قرآن مجید نے پہلے خبردار کر دیا تھا "وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ”(البقرہ) ترجمہ "جب وہ حاکم بنتا ہے تو زمین میں فساد پھیلاتا ہے، کھیتی اور نسل تباہ کرتا ہےیہی ملوکیت ہے۔ یہی یزیدیت ہے۔ کربلا میں یزید نے "حرث” یعنی خیموں کو جلایا،نہر فرات پر پہرے بٹھائے اور خانوادہ نبوت یعنی سیدنا علی اکبر سے لیکر معصوم سیدنا علی اصغرؑ کو شہید کیا.

*ابلیسِ تختِ شام کو اک سر کا خوف تھا
یا پھر علیؑ کی بیٹیؑ کی چادر کا خوف تھا
تفریق، جمع، ضرب یاتقسیم ہو کے بھی
نولاکھ کے عدد کو بَہتّر (72) کا خوف تھا*

سیدنا امام حسینؑ نے کربلا میں”حسینیت” کو بچایا۔ اگر بیعت کر لیتے تو آج اسلام کا نام ملوکیت ہوتا،یزید مردود مر گیا،مگر سوال زندہ ہے کہ ہر دور میں ہمیں فیصلہ کرنا ہےاگر ھم ظلم پر خاموش ہیں تو کیا ھم کوفی ہیں اور اگر حق کے لیے جان ومال کی قربانیاں ہیں تو یقینا” حسینی ہیں،تخت و تاج کے لیے ضمیر بیچتے ہیں تو یزیدی ہیں”سب چلتا ہے” کہہ کر رشوت لیتے اور دیتے ہیں تو ملوکیت کے حمایتی ہیں

*جب بھی ضمیر و ظرف کا سودا ہو دوستو
قائم رہو حسین کے انکار کی طرح*

مومن "ملوکیت” قبول نہیں کرتا وہ”حسینیت”کا علمبردار ہوتا ہے۔ملوکیت "یزیدیت” ہے کیونکہ وہ *اللہ کی زمین کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھتی ہےحسینیت”حق”ہے کیونکہ وہ اللہ کی زمین پر اللہ کا قانون چاہتی ہےاسی لیے کربلا کے بعد فیصلہ ہو گیا تخت والے مٹ جاتے ہیں، حق والےامرہوجاتے ہیں "ملوکیت مردہ باد، حسینیت زندہ باد”یہی عاشورہ کا نعرہ ہے، یہی اسلام کا پیغام ہے

*انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہرقوم پکارے گی ھمارے ہین حسینؑ *
کربلا میں ملوکیت نے اہل بیتؑ کے مقابل آنے کی”ناپاک جسارت” کی تھی کربلاصرف دو لشکروں کی جنگ نہ تھی یہ”نبوت کے گھرانے” اور بادشاہت کے نشے میں دھت "یزدیت”کی جنگ تھی۔ یعنی حق کے علمبردار اہل بیتؑ اطہار تھے باطل کی نمائندہ ملوکیت یزیدیت تھی یہ عظیم مسلمہ حقیقت ہے کہ ایک طرف رسول اللہ ﷺ کا خون، علیؑ و فاطمہؑ کی اولاد مقدسہ اھلبیت اطہار تھے دوسری طرف بنوامیہ کے مشرکین مکہ کی اولاد وہی جو فتح مکہ تک اسلام کے دشمن رہے،کربلا میں یزیدیت کو للکارنے کا مقصد عظیم نیابت الہی’ کا قیام اور "امت کی اصلاح اورامر بالمعروف کا علم بلند کرنا تھا جبکہ یزیدیت کا مذموم مقصد: تخت بچانا،موروثی بادشاہت قائم رکھنا”ایک طرف عظیم لا زوال قربانیاں، صبرعظیم ، نماز، اور دعا تھی دوسری طرف ظلم عظیم پانی بند، وعدہ خلافی اوررسول ﷺ کے گھرنے کا قتل عام کیا گیا مقدس نفوس کی لاشوں کی بے حرمتی کی گئی درس کربلا یہی ہے کہ "موت عزت کی، زندگی ذلت کی نہیں چاہیے اور جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے جبکہ یزید کے ناپاک ارادے تھے کہ "تخت کے لیے سب جائز ہےجنگ میدان میں ہوتی، مقابلہ اصول کا ہوتا۔ مگر یزید نے نہ اصول دیکھا، نہ رشتہ دیکھا، نہ حرمت دیکھی۔ حرمت رسولؑ پامال کی، نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ "حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں” جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی” یزیدیت کے لبادے میں ملوکیت نے اسی "منی و انا من حسین” کو میدان میں پیاسا شہید کر دیا۔ اس سے بڑی گستاخئ رسول ﷺ کیا ہو گی؟ حرمت والے مہینے کی بھی دیدہ دلیری سے کھلے عام بےحرمتی کی گئی کیونکہ محرم میں جنگ حرام تھی عرب کے کافر بھی اس کا پاس رکھتےتھےلیکن یزیدی ملوکیت نے محرم کی 10 تاریخ کو خاندان نبوت کا خون بہایا۔ قرآن کہتا ہے:کہ "فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ” – ان مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔ یزید نے ظلم وستم کی انتہا کر دی۔جنگ میں بادشاہ لڑتے ہیں تو فوج سے لڑتے ہیں۔ یزیدیت نے 6 ماہ کے معصوم سیدناعلی اصغرؑ کے گلے پر تیر چلایا، خیموں کو آگ لگائی، مقدس بیبیوں کی چادریں چھینیں یہ جنگ نہیں شیطانیت اور درندگی کی انتہاتھی حضرت سیدنا امام حسنؑ نےاس شرط پر صلح کی تھی کہ آئندہ خلافت کا فیصلہ شوریٰ سے ہو گا، موروثی حکمرانی نہیں ہوگی لیکن لعین یزید کی ولی عہدی وہ پہلی "ناپاک جسارت” تھی جس نے ملوکیت کی بنیاد رکھی جس کا نتیجہ کربلا تھا ،لیکن یزیدی ملوکیت جیت کر ہار گئی،اہل بیتؑ کٹ کر بھی جیت گئے لعین یزید کی تین سالہ ظالمانہ حکمرانی کے بعد اس کا بیٹا تخت چھوڑ کر بھاگ گیا یزیدی نسل مٹ گئی، یزید کا نام لعنت کا استعارہ بن گیا آج کوئی اپنے بیٹے کا نام "یزید”نہیں رکھتا لیکن سیدنا امام حسینؑ سر کٹاکر ھمیشہ کے لئے سر بلند ہو گیےکربلا آج مرجع خلائق بن گئی بچے بچے کی زبان پر۔ "حسین زندہ باد” ہر سال گونجتا ہے۔علامہ اقبال نے فرمایا: "بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق، عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی”ملوکیت "عقل” تھی جو تخت بچاتی رہی۔ حسینیت "عشق” تھا جو اصول پر کود پڑا۔جیت عشق کی ہوئی۔ یہی درس کربلا ہے کہ ہر دور کی یزیدیت اور ملوکیت پہچانو،یزید مر گیا، مگر "یزیدیت” باطل نظام کا نام ہے جو طاقت سے حق دباتا ہےسچ بولنے والے کا پانی بند کرتا ہے موروثی حکمرانی کو دین کا نام دیتا ہے،اہل حق کو "باغی” کہتا ہے اور حسینیت ہر اس آواز کا نام ہے جو کہتی ہے: *”ہم جھکیں گے نہیں، چاہے مٹ جائیں”کربلا نے ثابت کر دیا کہ”ملوکیت کے پاس تلوار ہوتی ہے،اہل بیتؑ کے پاس کردار” اور تاریخ ہمیشہ کردار کو سلام کرتی ہے، تلوار کو نہیں۔اسی لیے 1400 سال بعد بھی دنیا کہتی ہے "سلام یا حسینؑ – آپ نے ملوکیت کی ناپاک جسارت کو اپنی پاکیزہ شہادت سے خاک میں ملا دیا”

*اک سمت ہے یزید تو اک سمت ہے حسینؑ
فرقے بچے ہیں دو ہی فقط کربلا کے بعد*

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button