پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

واقعہ کربلا ظلم کے خلاف تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج ہے، احسن رضوی

مظلومِ کربلا حضرت امام حسینؓ نے پوری انسانیت کو یہ سبق دیا کہ مظلومیت کمزوری نہیں بلکہ ایک طاقتور اخلاقی ہتھیار ہے۔ مظلومیت انسانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے، احساسات کو بیدار کرتی ہے

سید قاسم بخاری-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب احسن رضوی نے یومِ عاشور کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ واقعہ کربلا ظلم، جبر اور باطل قوتوں کے خلاف تاریخ کا سب سے بڑا اور مؤثر احتجاج ہے، جس نے رہتی دنیا تک حق و صداقت کی سربلندی کا درس دیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی عظیم قربانیاں امت مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور ان کا پیغام آج بھی دنیا بھر کے مظلوموں اور حق پسند لوگوں کے لیے حوصلے اور استقامت کا سرچشمہ ہے۔
احسن رضوی نے کہا کہ واقعہ کربلا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حضرت امام حسینؓ کا مقصد اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے اسلامی فریضے کو ادا کرنا تھا۔ انہوں نے اپنے نانا حضرت محمد ﷺ کے دین کی بقا اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانی پیش کی اور حق و باطل کے معرکے میں ہمیشہ کے لیے حق کا پرچم بلند کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ کربلا ایک ایسی عظیم آزمائش گاہ تھی جہاں مسلمانوں کے ایمان، دینی وابستگی، حق پرستی اور اصولوں سے وفاداری کو پرکھا گیا۔ میدانِ کربلا میں حضرت امام حسینؓ نے اپنے اہلِ خانہ، بھائیوں، بیٹوں اور وفادار ساتھیوں کی قربانی دے کر ثابت کیا کہ دین اسلام کی سربلندی اور حق کے تحفظ کے لیے جان و مال کی قربانی بھی کوئی بڑی چیز نہیں۔ ان قربانیوں کے نتیجے میں اسلام کو وہ استحکام اور دوام حاصل ہوا جو قیامت تک قائم رہے گا۔
احسن رضوی نے مزید کہا کہ مظلومِ کربلا حضرت امام حسینؓ نے پوری انسانیت کو یہ سبق دیا کہ مظلومیت کمزوری نہیں بلکہ ایک طاقتور اخلاقی ہتھیار ہے۔ مظلومیت انسانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے، احساسات کو بیدار کرتی ہے اور حق کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود کربلا کا واقعہ آج بھی دنیا کے ہر انصاف پسند انسان کے دل میں تازہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ واقعہ کربلا ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اپنے عقیدے، نظریے اور ایمان پر ثابت قدم رہنا چاہیے، چاہے اس راستے میں کتنی ہی مشکلات، پابندیاں، معاشی دباؤ یا طاقتور قوتوں کی مخالفت کیوں نہ درپیش ہو۔ حضرت امام حسینؓ اور ان کے رفقاء نے انتہائی نامساعد حالات میں بھی حق کا دامن نہیں چھوڑا اور رہتی دنیا تک استقامت، صبر اور جرات کی ایک لازوال مثال قائم کی۔
ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کا کہنا تھا کہ واقعہ کربلا نے دنیا پر یہ حقیقت آشکار کر دی کہ اگر کوئی قوم حق اور سچائی پر قائم ہو تو عسکری برتری، جنگی سازوسامان کی فراوانی اور ظاہری طاقت بھی اس کے عزم و حوصلے کو شکست نہیں دے سکتی۔ کربلا کا معرکہ تعداد اور طاقت کا نہیں بلکہ اصول، کردار اور حق پر ثابت قدمی کا معرکہ تھا جس میں فتح ہمیشہ حق اور سچائی کی ہوئی۔
احسن رضوی نے عشرہ محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے حکومت، ضلعی انتظامیہ، محکمہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کیے گئے انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان اداروں نے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مذہبی اجتماعات کے پرامن انعقاد کے لیے قابلِ قدر اقدامات کیے ہیں جو لائق تحسین ہیں۔
انہوں نے عوام، علمائے کرام، مذہبی رہنماؤں، تنظیموں اور عزاداروں سے اپیل کی کہ وہ ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ محرم الحرام کے تمام پروگرام، مجالس اور جلوس مکمل طور پر پرامن ماحول میں منعقد ہو سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی یکجہتی، مذہبی رواداری اور باہمی احترام کے فروغ سے ہی محرم الحرام کے تقدس اور امن کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر احسن رضوی نے کہا کہ یومِ عاشور ہمیں اس عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم سیدالشہداء حضرت امام حسینؓ کی سیرت، اقوال، فرامین اور اعلیٰ اخلاقی اوصاف سے رہنمائی حاصل کریں۔ کربلا کا پیغام حق، انصاف، صبر، استقامت اور انسانیت کی خدمت ہے، جسے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button