
شہید آیت اللہ خامنہ ای کا جنازہ، حق و سچ کا فیصلہ !!…..پیر مشتاق رضوی
اخلاقیات کا ایک بنیادی اصول ہے: جنگ بھی ہو تو کچھ لکیریں نہ پار کرو۔ جنازہ، ہسپتال، بچے - یہ لکیریں ہیں
یہ قول امام خمینیؒ کا ہےکہ ۔
"حق و باطل را شهادت ما مشخص میکند` "حق و سچ کا فیصلہ ہمارے جنازے کریں گے” یا "حق و باطل کا فیصلہ ہماری شہادت کرے گی” ایران کے قائدِ انقلاب امام خمینیؒ نے فرمایا تھا کہ جب دشمن کہتا تھا کہ "ایران کمزور ہے، جھک جاؤ” تو امامؒ نے جواب دیا کہ تاریخ کا فیصلہ میدان میں لڑنے والوں کے لہو سے ہوگا۔ جس کے جنازے زیادہ ہوں گے اور جو آخر تک کھڑا رہے گا، حق اسی کے ساتھ ہے۔ بعد ازاں حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے بھی کئی تقاریر میں اس تاریخی جملے کو دہرایا اور اسے "مزاحمت کا فلسفہ” کہا۔ یہ جملہ کہتا ہے کہ زبانی بحثوں، میڈیا وار اور پروپیگنڈے سے حق ثابت نہیں ہوتا۔ قربانی، استقامت اور شہادت ہی فیصلہ کن ہوتی ہے۔ آج بھی ایران میں یہ نعرہ بہت مقبول ہے، یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ حق اور سچ کا ثبوت ہمارے جنازے ہوتے ہیں۔ "ایران کے رہبرِ معظم شہید سید علی خامنہ ای کا جنازہ امریکہ اور اسرائیل کی واضح شکست کا ثبوت ہے” لیکن اس عظیم سانحہ ارتحال کے موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے انتہائی فسطائیت اور خباثت کا ثبوت دیا اور ٹرمپ کا حالیہ بیان تمام تر عالمی سفارتی آداب اور انسانی اخلاقیات کے منافی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شہید سید آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے موقع پر ایرانی عوام کی بڑی تعداد میں شرکت اور سوگ کے اظہار پر مذموم ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے کے لیے ایران میں سب ایک جگہ جمع ہیں، ہمیں صرف ایک فائر کرنا ہے، لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے۔امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے صحافی باراک راوِد کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنازے میں ایرانیوں کو روتا دیکھ کر انہیں حیرت ہوئی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں سب ایک جگہ جمع ہیں، ہمیں صرف ایک فائر کرنا ہے، لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے، کیونکہ پھر ہم سے بات کرنے کے لیے کوئی نہیں بچے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں ایک ہفتے کے وقفے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی انجام دہی کے باعث کیا گیا۔ ٹرمپ کا یہ بیان زیادہ تر عالمی اخلاقی معیارات اور سفارتی روایات کی روشنی میں "اخلاقی گراوٹ” کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ کسی بھی مذہب، تہذیب اور روایت میں جنازہ مقدس ہوتا ہے۔ جنازے میں شریک سوگواروں کو "ٹارگٹ” کہنا، چاہے دھمکی کے طور پر ہی کیوں نہ ہو، دنیا بھر میں غیر انسانی سمجھا جاتا ہے۔
یہاں تک کہ جنگ کے "جنیوا کنونشن” قوانین میں بھی شہری اجتماعات اور مذہبی اجتماعات پر حملے منع ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان دشمنی سہی، لیکن کسی ملک کے سربراہ/رہبر کے جنازے پر اس طرح کا بیان دینا سفارتی آداب کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ حالانکہ دنیا میں یہ روایت ہے کہ دشمن ملک کے رہنما کے انتقال پر بھی "تعزیت” یا کم از کم "خاموشی” اختیار کی جاتی ہے۔ ٹرمپ کا "ایک فائر کرنا ہے” کہنا اس روایت کو توڑتا ہے۔ یہ بیان اخلاقی طور پر ہی نہیں، حکمت کے لحاظ سے بھی کمزور ہے۔ کیونکہ:
اس سے ایران میں حکومت کے مخالفین بھی حکومت کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مذاکرات کی میز خود ہی ٹوٹ جاتی ہے۔ اس سے امریکہ کا امیج "بدلہ لینے والا” بنتا ہے نہ کہ "امن کا خواہاں”۔ یقیناً دنیا بھر کے تجزیہ کار، مسلم ممالک، یورپ اور اقوامِ متحدہ اسے "اشتعال انگیزی اور غیر اخلاقی زبان” ہی قرار دیں گے۔ اخلاقیات کا ایک بنیادی اصول ہے: جنگ بھی ہو تو کچھ لکیریں نہ پار کرو۔ جنازہ، ہسپتال، بچے – یہ لکیریں ہیں۔ ٹرمپ کا یہ بیان اس لکیر کو چھوتا ہے، اس لیے اسے اخلاقی گراوٹ کہا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام کا سوگ شہید رہنما کی عظمت، وقار اور عوامی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عوامی سوگ پر امریکہ اور اسرائیل کی ناراضی بھی قابلِ توجہ ہے، جو اس غیرمعمولی عوامی ردِعمل کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ صدر مسعود پزشکیان نے اسرائیل کی جانب سے خطے میں جاری کارروائیوں پر عالمی برادری کی خاموشی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اسرائیل کو خطے کے متعدد ممالک پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ایران کی نئی قیادت پر اسلامی دنیا کے اتحاد کو مضبوط بنانے اور مسلم ممالک کے درمیان یکجہتی کو فروغ دینے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ مسعود پزشکیان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران خطے میں تعاون، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنی کوشیں جاری رکھے گا۔ صدر مسعود پزشکیان کا یہ بیان ٹرمپ کے بیان کے بالکل برعکس ہے۔ ٹرمپ نے "سب ایک جگہ جمع ہیں” کو دھمکی بنایا۔ پزشکیان نے اسی منظر کو "عظمت اور مقبولیت” قرار دیا۔ ایرانی صدر کا یہ بیانیہ ایران کو برتری عطا کرتا ہے۔ دنیا کے سامنے پیغام گیا کہ دیکھو عوام عقیدت و احترام کے ساتھ خود سڑکوں پر ہیں۔ اور دنیا نے کروڑوں سوگواروں کو گریہ کرتے، اشکبار دیکھا۔”امریکہ اور اسرائیل کی دیرینہ دشمنی قابلِ تشویش ضرور ہے” یعنی دشمن کی تکلیف کو اپنی کامیابی کی دلیل بنا دیا۔ یہ روایتی نفسیاتی برتری ہے کہ دشمن کے ردعمل کو اپنے بیانیے کی تصدیق کے طور پر پیش کرنا۔ جبکہ اسرائیل پر عالمی خاموشی پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے موضوع کو ایران سے ہٹا کر "فلسطین اور خطے” پر لے گئے۔ یہ سفارتی طور پر مضبوط قدم ہے۔ اس سے ایران خود کو صرف "شکار” نہیں بلکہ "خطے کے استحکام کا خواہاں” دکھا رہا ہے۔ ایرانی صدر نے "اسلامی دنیا کے اتحاد کی ذمہ داری” پر زور دیا۔ یہ سب سے اہم جملہ ہے۔ ایرانی قیادت کا اعلان ہی "اتحاد” سے کیا۔ اس کا مقصد سعودی عرب، پاکستان، ترکی، عراق سمیت تمام مسلم ممالک کو پیغام دینا ہے کہ ایران تنہا نہیں لڑنا چاہتا۔ صدر پزشکیان نے انتہائی مدبرانہ انداز سے جذباتی ردعمل دینے کے بجائے بیانیہ کو اپنے حق میں موڑ دیا۔ انہوں نے جنازے کو صرف سوگ نہیں بلکہ "عالمِ اسلام کا تاریخی سرمایہ و اثاثہ” قرار دیا۔ اخلاقی طور پر بھی یہ بیان زیادہ متوازن ہے کیونکہ اس میں کسی پر حملے کی بات نہیں، بلکہ اتحاد اور تعاون کی بات ہے۔ تہران میں سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے موقع پر یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ایرانی حکام نے شریک ہونے والے مختلف غیر ملکی وفود کے لیے قرآنِ مجید کی الگ الگ آیات منتخب کیں، جنہیں متعلقہ ممالک کی موجودہ سیاسی پالیسیوں اور علاقائی کردار سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ جس کے مطابق مختلف وفود کے لیے منتخب کی گئی آیات کے مفاہیم کچھ یوں بیان کیے گئے، سعودی عرب: ایسی آیت جس میں دو گروہوں کے آمنے سامنے آنے کا ذکر ہے، ایک ایمان والوں کا اور دوسرا منکرین کا۔ ترکیہ: وہ آیت جس میں اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنے والوں کی فضیلت اور گھر بیٹھ رہنے والوں پر ان کی برتری بیان کی گئی ہے۔ لبنان (سرکاری وفد): ایسی آیت جس میں دعوت یا پکار کے وقت پیچھے ہٹ جانے والوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ حزب اللہ: حوصلہ افزا پیغام پر مشتمل آیت: "اور نہ کمزور پڑو اور نہ غم کرو، اگر تم مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔” حماس: وہ آیت جس میں ان اہلِ ایمان کی تعریف کی گئی ہے جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا، کچھ شہید ہو چکے اور کچھ اپنے وقت کے منتظر ہیں۔ پاکستان: "اور عرض کرو: اے میرے رب! مجھے اچھائی کے ساتھ داخل فرما، اور اچھائی کے ساتھ نکال، اور اپنی طرف سے میرے لیے ایک مددگار قوت عطا فرما۔” بھارت:
"یہ وہ لوگ ہیں جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے مقابلے کے لیے بڑا لشکر جمع ہو چکا ہے، اس لیے ان سے ڈرو۔ مگر اس بات نے ان کے ایمان میں اضافہ کر دیا اور وہ کہنے لگے: ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے، اور وہی بہترین کارساز ہے۔” ایران کی جانب سے مذہبی متن کے ذریعے سفارتی اشاروں اور علامتی پیغام رسانی کی ایک منفرد مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
امام خمینیؒ کے انقلابی اقوال کے مطابق استقامت کے بارے میں انہوں نے فرمایا کہ
"امریکہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا”آمریکا هیچ غلطی نمیتواند بکند` یعنی جب قوم اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے کھڑی ہو جائے تو کوئی سپر پاور بھی اسے جھکا نہیں سکتی۔ شہادت کے بارے میں ان کا مشہور فرمان ہے کہ "حق و سچ کا فیصلہ ہمارے جنازے کریں گے” حق و باطل را شهادت ما مشخص میکند` یعنی قربانیاں ہی تاریخ کا رخ موڑتی ہیں۔ لہو سے لکھی گئی تحریکیں کبھی ناکام نہیں ہوتیں۔ فلسطین کے بارے میں کہا تھا کہ "اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹنا چاہیے” اسرائیل باید از صفحه روزگار محو شود` امامؒ نے فلسطین کے مسئلے کو امت کا مرکزی مسئلہ قرار دیا اور مظلوموں کی حمایت کو عبادت کہا۔ جوانوں کے لیے پیغام کہا تھا کہ "میری امیدیں اس قوم کے جوانوں سے وابستہ ہیں” امید من به نسل جوان این مملکت است` وہ انقلاب کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں دیکھتے تھے۔ علم، ایمان اور جہاد تینوں کا مجموعہ قرار دیتے ہوئے مسلم حکمرانوں کے لیے نصیحت کی تھی "خدا کے لیے کام کرو، عوام کے خادم بنو، بادشاہ نہیں” برای خدا کار کنید و خادم مردم باشید نه پادشاه` اقتدار کو عبادت بنانا، عیاشی نہیں۔ یہ ان کا پورے نظام کے لیے ضابطہ تھا۔ امامؒ کی ہر بات میں 3 چیزیں مشترک تھیں: _خدا پر توکل، عوام سے محبت، اور ظالم سے مقابلہ کرنا۔ اس سلسلے میں گذشتہ نصف دہائی سے امریکہ اور اسرائیل کی کھلی جارحیت کے خلاف مردانہ وار مقابلہ امامؒ کے فلسفہ انقلاب کا نتیجہ ہے۔ اس دوران ایران نے لازوال قربانیاں پیش کیں۔ سید امام علی خامنہ ای اور ایرانی رہنماؤں کی عظیم شہادتیں اس کا تسلسل ہیں۔
شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کے ساتھ شہید ہونے والے ان کے اہلِ خانہ کی میتیں تہران میں عوامی دیدار کے لیے رکھ دی گئیں۔
ایرانی عوام بڑی تعداد میں شہید رہبر کو الوداع کہنے کے لیے موجود ہیں۔ جنازے کا جلوس تہران سے قم جائے گا۔ اور تدفین سے پہلے آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت کو عراق کے شہروں نجف اور کربلا بھی لے جایا جائے گا جبکہ ان کو مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ ایرانی شہید رہبر کو وزیرِ اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ پاکستانی وفد اور بین الاقوامی رہنماؤں نے خراجِ عقیدت پیش کیا تھا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایرانی سپریم لیڈر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے شہید رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور الوداعی تقریب کے موقع پر حکومت اور پاکستان کے عوام کی جانب سے ایران کی حکومت اور برادر عوام سے تعزیت، گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
"آلِ نبی ﷺ کا کام تھا، آلِ نبی ہی کر گئے”


