
پانچ جولائی سے پہلے اور بعد میں ….حیدر جاوید سید
تیسرا مارشل لاء خانہ جنگی کے خطرے کی وجہ سے نافذ کیا گیا تھا یہی جنرل ضیا نے کہا تھا خانہ جنگی کا تاثر پاکستان قومی اتحاد کے جلسوں جلوسوں کے جواب میں پیپلز پارٹی کے اکا دُکا جلسوں جلوسوں سے کشید کیا گیا تھا
پانچ جولائی کی اشاعت کیلئے کالم لکھنے کی خواہش تھی لیکن علالت مانع ہوئی یہی وہ وجہ ہے کہ پچھلے بارہ پندرہ دنوں میں کچھ لکھ نہیں پایا آج پانچ جولائی ( یہ سطور لکھتے وقت ) 2026 ہے لگ بھگ 49 برس قبل پانچ جولائی 1977 ء کی شب اُس وقت کے آرمی چیف جنرل محمد ضیا الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں تیسرا مارشل لاء نافذ کردیا جنرل ضیا گیارہ برس ایک ماہ بارہ دن اس ملک میں برسر اقتدار رہے سترہ اگست 1988 کو بہاولپور کے قریب ان کے سی ون تھرٹی کو حادثہ پیش آیا وہ متعدد ساتھیوں امریکی سفیر اور دیگر افراد کے ہمراہ راہی ملک عدم ہولئے
49 برس بعد آج پانچ جولائی کے دن سوچ رہا ہوں کیا جنرل ضیا واقعی راہی ملکِ عدم ہوگئے ؟ چار اور دیکھتا ہوں تو ان کے دیئے تحفے اور کاشت کردہ بیجوں کی تروتازہ "جوان” فصلیں مارکیٹ میں دستیاب دِکھتی ہیں جنرل ضیا نے جس بھٹو کو پھانسی چڑھوایا تھا سپریم کورٹ نے 48 برس بعد اس عدالتی فیصلے کو نادرست قراردے دیا کاش اس نادرست فیصلے کے ذمہ داروں اور سہولت کاروں کیلئے بھی سپریم کورٹ کوئی فیصلہ دیتی "ارشاد” کرتی
تیسرا مارشل لاء خانہ جنگی کے خطرے کی وجہ سے نافذ کیا گیا تھا یہی جنرل ضیا نے کہا تھا خانہ جنگی کا تاثر پاکستان قومی اتحاد کے جلسوں جلوسوں کے جواب میں پیپلز پارٹی کے اکا دُکا جلسوں جلوسوں سے کشید کیا گیا تھا مارشل لاء لگانے والوں نے حکومت اور پی این اے کی قیادتوں کو حفاظتی تحویل میں لے لیا جنرل ضیاالحق نے مری میں معزول وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کی اس ملاقات کی سینہ گزٹ خبروں نے ” سماں ” باندھ دیا ” راوی ” کہتے تھے بھٹو اور ضیا میں تلخی ہوئی بات توتو میں میں سے آگے چلی گئی
کہتے ہیں کہ تیسرے فوجی آمر نے اپنی پہلی نشری تقریر میں 90 دن میں انتخابات کرانے کے بعد فوج کے واپس بیرکوں میں چلنے جانے کا جو اعلان کیا تھا اس اعلان سے پیچھے ہٹنے کی ایک وجہ مری میں ہونے والی بھٹو ضیا ملاقات میں ہوئی تلخی بھی بنی دیگر وجوہات بھی تھیں ان وجوہات کے بہت سارے سیاہ کرداروں نے پچھلے 49 برسوں میں دبے دبے لفظوں یا کھلم کھلا ان کا اعتراف بھی کیا
مارشل لا کی طوالت میں اُس وقت کے اسلام پسند صحافیوں کا بھی عمل دخل تھا کچھ عرصہ قبل ان اسلام پسند صحافیوں کے شام چوراسی والے سرخیل نے ایک ٹی وی پروگرام میں مارشل لا کیلئے اپنی خدمات کا اعتراف بھی کیا
مرحوم پروفیسر غفور احمد جو مارشل لا لگنے کے وقت بھٹو مخالف سیاسی اتحاد پی این اے کے سیکرٹری جنرل تھے اپنی زندگی میں ایک سے زائد بار یہ اعتراف کرتے پائے گئے کہ حکومت اور پی این اے کے درمیان مذاکرات کا میاب ہوگئے تھے دستخطوں کیلئے مسودہ تیار کرلیا گیا تھا پھر مارشل لا آگیا،
پی این اے کے بعض رہنماوں کا خیال تھا حکومت اور پی این اے میں اختلافی امور طے پاگئے تھے سمجھوتے کا مسودہ تیار کرلیا گیا تھا کہ بھٹو صاحب اچانک عرب ممالک کے دورہ پر چلے گئے ان کی غیرموجودگی میں پتہ نہیں کیا کھچڑی پکی ،
اُس وقت کے بعض سیاسی رہنما اور تجزیہ نگاروں میں سے بعض کی یہ رائے تھی کہ پی این اے کے رہنما اور تحریک استقلال کے سربراہ اصغر ان کے مسلح افواج کے سربراہوں کو لکھے گئے خط میں جس آئینی ذمہ داری سے عہدہ برا ہونے کی دعوت دی گئی تھی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اس دعوت کو قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا سمجھوتے سے قبل بھٹو کے غیر ملکی دورے نے ” اُنہیں منظم ہونے کا وقت دے دیا ”
ایک اور رائے بھی اُنہی دنوں زبانِ زد عام رہی یہ بھٹو اور امریکی سفیر کی ستمبر 1976 سے جون 1977 کے درمیان ہوئی ملاقاتوں کے حوالے سے سامنے آنی والی معلومات سے بُنی گئی بتایا گیا کہ امریکہ ایران اور افغانستان میں پنپتی حکومت مخالف لہروں سے آگاہ تھا ہردوممالک میں وہ پاکستان کے کردار کا خواہش مند تھا بھٹو اس کیلئے تیار نہ ہوئے تو حزب اختلاف کے اتحاد یو ڈی ایف کو گود لینے کا فیصلہ ہوا یو ڈی ایف آگے چل کر پی این اے بنا نیز یہ کہ آرمی چیف جنرل ضیا اردن کے شاہ حسین کے توسط سے امریکہ کی گڈ بک میں تھے بھٹو کو انہوں نے بغاوت کیس کی اٹک قلعہ میں سماعت کرنے والی فوجی عدالت کے سربراہ کے طور پر متاثر کیا اس باہمی اعتماد کا امریکہ نے کمال مہارت سے فائدہ اٹھایا اور نتیجتاً جنرل ضیا گیارہ برس تک خطے میں امریکی تابعدار کے طور پر کردار ادا کرتے رہے
تیسرے مارشل لا نے ملک کو ایسے مذہبی شاونزم میں گردن تک پھنسایا کہ اس سے جان نہیں چھوٹ رہی ، رہی سہی کسر آٹھویں آئینی ترمیم نے پوری کردی جس نے مارشل لا کے بعض قوانین کو آئینی تحفظ عطا کردیا تھا مارشل لا بظاہر 1985 کے غیر جماعتی قومی انتخابات سے بننے والی قومی اسمبلی میں وزیراعظم محمد خان جونیجو کی تقریر سے ختم ہوگیا لیکن عملاً اس کا خاتمہ کبھی نہیں ہوسکا جنرل مشرف کی بغاوت کمزور ہوتی فوجی بالادستی کو مضبوط کرنے کیلئے ہی تھی اس سے پہلے اور بعد میں ساجھے داری پر مبنی نظام کے مختلف ادوار سب کے سامنے ہیں خیر ان باتوں قصوں اور باریک وارداتوں کو اٹھا رکھتے ہیں
فی الوقت تو یہ عرض کرنا ہے کہ یہ ملک اور سماج آج بھی ضیاالحقیوں میں پھنسا ہوا سسک رہا ہے سیاسی جماعتوں نے بھی حالات سے سمجھوتہ کرنے میں عافیت محسوس کی اور ساجھے داری کے نظام کی دہلیز پر ڈھیر ہوگئیں
بچے کھچے سیاسی کارکن اپنی جماعتوں اور قیادتوں کا دفاع کرتے ہیں تو ہنسی آتی ہے چار اور بالخصوص تین فوجی حکومتوں کے ادوار میں جمہوریت کی بحالی کیلئے جدوجہد کرنے سزائیں بھگتنے کوڑے کھانے اور دربدری کے عذاب سہنے والی نسلوں کے خواب تعبیروں سے پہلے چوری ہوگئے اسی عرصے میں ریاست نے اپنی خالص جماعت کی تعمیر کے خواب کی تعبیر بھی "حاصل” کرلی اس سب کچھ کے باوجود یہ ملک اور عوام ضیاالحقیوں سے نجات حاصل نہیں کرسکے آج جو حالات ہیں وہ سب کے سامنے ہیں
ماضی کی طرح حکومت و ریاست کے حامی ” شدید محب وطن ” ہیں اختلاف رائے رکھنے والے ملک دشمن صوبوں اور وفاق کے درمیان بداعتمادی کی خلیج وسیع ہوتی جارہی ہے طاقت کے استعمال کو حرف آخر سمجھ لیا گیا ہے کڑوا سچ یہ ہے کہ ہم پانچ جولائی 1977 میں ہی پھنسے ہوئے ہاتھ پاوں مار رہے ہیں اور نجات کی کوئی صورت بنتی دیکھائی نہیں دے رہی ایسا لگتا ہے کہ یہی سب ہماری آئندہ نسلوں کا مقدر ٹھہرے گا

