پاکستاناہم خبریں

اقوام متحدہ میں عالمی پولیس سربراہی اجلاس کا آغاز، پاکستان کی نمائندگی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی

موجودہ دور میں دنیا کو درپیش سکیورٹی خطرات پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مربوط اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

نیویارک: اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں پانچویں اقوام متحدہ چیفس آف پولیس سمٹ (UNCOPS 2026) کا آغاز ہو گیا، جہاں دنیا بھر سے وزرائے داخلہ، پولیس سربراہان، اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام اور بین الاقوامی شراکت دار عالمی امن، سلامتی اور ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔ پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی کر رہے ہیں۔

دو روزہ سربراہی اجلاس 7 اور 8 جولائی کو اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں منعقد ہو رہا ہے، جس کا مقصد اقوام متحدہ کی پولیسنگ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا، بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا اور عالمی امن مشنز کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

محسن نقوی کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں

سربراہی اجلاس میں شرکت کے دوران وزیر داخلہ سید محسن نقوی مختلف ممالک کے وزراء اور پولیس سربراہان سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ان کی ملاقاتیں زمبابوے، سری لنکا، بنگلہ دیش، سوڈان اور روس کے نمائندوں کے علاوہ چین کے نائب وزیر برائے عوامی سلامتی سے بھی متوقع ہیں۔

ان ملاقاتوں میں انسداد دہشت گردی، سرحدی سلامتی، منظم جرائم، معلومات کے تبادلے، پولیس اصلاحات اور دوطرفہ تعاون کے فروغ سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

عالمی سلامتی کے نئے چیلنجز پر غور

سربراہی اجلاس سے قبل میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے امن آپریشنز جین پیئر لاکروکس نے کہا کہ موجودہ دور میں دنیا کو درپیش سکیورٹی خطرات پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مربوط اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ UNCOPS 2026 بین الاقوامی پولیس قیادت کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے جہاں مختلف ممالک اپنے تجربات، مہارت اور بہترین طریقہ کار ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کریں گے تاکہ عالمی امن و سلامتی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

تین بنیادی موضوعات پر خصوصی توجہ

اقوام متحدہ کے پولیس مشیر فیصل شاہکار کے ہمراہ پریس بریفنگ کے دوران جین پیئر لاکروکس نے بتایا کہ اس سال کے سربراہی اجلاس میں تین بنیادی شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

ان میں شامل ہیں:

  • جدید امن مشنز میں اقوام متحدہ کی پولیس کا مستقبل اور کردار۔
  • نئی ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت اور جدید اختراعات کا پولیسنگ میں استعمال۔
  • بین الاقوامی امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے عالمی تعاون۔

انہوں نے کہا کہ محدود مالی وسائل اور آپریشنل چیلنجز کے باوجود اقوام متحدہ کی پولیس دنیا بھر میں امن مشنز کے لیے ناگزیر کردار ادا کر رہی ہے۔

منظم جرائم سے سائبر کرائم تک اہم موضوعات زیر بحث

دو روزہ اجلاس کے دوران متعدد خصوصی سیشنز اور ضمنی پروگرام بھی منعقد کیے جا رہے ہیں جن میں مختلف عالمی سکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔

ان موضوعات میں شامل ہیں:

  • منظم بین الاقوامی جرائم
  • خواتین، امن اور سلامتی
  • تنازعات سے متعلق جنسی تشدد
  • صنفی حساس پولیسنگ
  • فرانزک سائنس
  • سائبر کرائم اور ڈیجیٹل تشدد
  • ثقافتی ورثے کا تحفظ
  • زبان کی تربیت
  • عالمی سپلائی چین کی سکیورٹی

ماہرین کا کہنا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں پولیسنگ صرف روایتی جرائم تک محدود نہیں رہی بلکہ ڈیجیٹل اور سرحد پار جرائم سے نمٹنے کے لیے بھی جدید مہارت اور عالمی تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔

اقوام متحدہ کی پولیس کا کردار

جین پیئر لاکروکس نے کہا کہ اقوام متحدہ کی پولیس کا بنیادی مقصد صرف امن مشنز میں قانون نافذ کرنا نہیں بلکہ میزبان ممالک کی قومی پولیس فورسز کی استعداد کار میں اضافہ بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے پولیس افسران مقامی اداروں کو تربیت، جدید مہارت، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوام کا اعتماد بحال کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ مستقبل میں اپنی سکیورٹی کی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں خود سنبھال سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت 77 ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 4,500 پولیس افسران دنیا کے مختلف امن مشنز میں اقوام متحدہ کے تحت خدمات انجام دے رہے ہیں۔

فیصل شاہکار کا پیغام

اقوام متحدہ کے پولیس مشیر فیصل شاہکار نے کہا کہ اس سربراہی اجلاس کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ امن کے قیام کے لیے مؤثر سکیورٹی ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں امن صرف جنگ بندی یا ہتھیاروں کی خاموشی کا نام نہیں بلکہ عوام کا محفوظ گھروں کو لوٹنا، بچوں کا بلا خوف و خطر اسکول جانا، انصاف تک رسائی حاصل کرنا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بحال ہونا بھی حقیقی امن کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی پولیس اکثر ان کمیونٹیز کے ساتھ براہِ راست رابطے میں رہتی ہے جو جنگ، دہشت گردی یا تشدد سے متاثر ہوتی ہیں، اسی لیے ان کا کردار امن کے قیام میں انتہائی اہم ہے۔

عالمی تجربات کا اشتراک

فیصل شاہکار نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی پولیس مختلف ممالک کی 77 پولیسنگ ثقافتوں، زبانوں اور پیشہ ورانہ تجربات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہے، جس سے عالمی سطح پر پولیسنگ کے معیار میں بہتری آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہی تنوع اقوام متحدہ کی پولیس کو منظم جرائم، سائبر کرائم، جنسی و صنفی تشدد، ڈیجیٹل جرائم اور دیگر جدید سکیورٹی خطرات سے زیادہ مؤثر انداز میں نمٹنے کے قابل بناتا ہے۔

امن میں سرمایہ کاری

اقوام متحدہ کے حکام نے زور دیا کہ موجودہ مالی مشکلات کے باوجود امن مشنز اور اقوام متحدہ کی پولیس میں سرمایہ کاری دراصل عالمی امن و استحکام میں سرمایہ کاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں سکیورٹی خطرات کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہے بلکہ دہشت گردی، سائبر حملے، منظم جرائم، انسانی اسمگلنگ اور دیگر چیلنجز سرحدوں سے ماورا ہو چکے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے اجتماعی عالمی تعاون ناگزیر ہے۔

پاکستان کا مؤقف

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت اس بات کی عکاس ہے کہ ملک عالمی امن، انسداد دہشت گردی، پولیس اصلاحات اور بین الاقوامی سکیورٹی تعاون کے فروغ میں فعال کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔

سربراہی اجلاس کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی کی مختلف ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتوں کو بھی پاکستان کے دوطرفہ سکیورٹی تعاون، معلومات کے تبادلے اور عالمی سطح پر انسداد دہشت گردی کی مشترکہ کوششوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button