رانا عامر محمودکالمز

تاندلیانوالہ کے لیے اُمید کی کرن ،عائشہ منظور وٹو…………رانا عامر محمود

افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بھی اس حلقے میں وہی چند ترقیاتی منصوبے نمایاں نظر آتے ہیں جو برسوں پہلے میاں منظور احمد وٹو اپنے دورِ اقتدار میں دے گئے تھے

بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا تعارف ان کے نام سے نہیں بلکہ ان کی خدمات، کردار اور خاندانی روایات سے ہوتا ہے۔ محترمہ عائشہ منظور وٹو بھی انہی شخصیات میں شامل ہیں۔ وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں، کیونکہ ان کا تعلق ایک ایسے سیاسی اور عوامی خاندان سے ہے جس نے دہائیوں تک عوامی خدمت کو اپنی سیاست کا محور بنایا۔ وہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد وٹو کی صاحبزادی ہیں، جنہوں نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں عوام کے مسائل کو ترجیح دی اور اپنے دروازے ہر خاص و عام کے لیے کھلے رکھے۔
کہا جاتا ہے کہ بچے اپنے ماحول سے سیکھتے ہیں۔ عائشہ منظور وٹو نے بھی بچپن سے اپنے والد کو عوامی خدمت کرتے دیکھا۔ انہوں نے دیکھا کہ کس طرح دور دراز سے آنے والے لوگ میاں منظور احمد وٹو کے دروازے پر آتے اور کبھی خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی خدمت کا جذبہ ان کی شخصیت کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ آج بھی وہ اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے عوام کے مسائل سننے، ان کے دکھ درد بانٹنے اور ان کے حل کے لیے کوشاں دکھائی دیتی ہیں۔
حال ہی میں مجھے محترمہ عائشہ منظور وٹو کے ساتھ تاندلیانوالہ اور اس کے نواحی علاقوں کے دورے کا موقع ملا۔ یہ محض ایک سیاسی دورہ نہیں تھا بلکہ عوام اور اپنی بیٹی، بہن اور ہمدرد رہنما کے درمیان ایک جذباتی ملاقات کا منظر پیش کر رہا تھا۔ جہاں بھی وہ گئیں، لوگوں کا جمِ غفیر ان کے گرد جمع ہوگیا۔ بزرگ، نوجوان، خواتین اور بچے سب ان سے ملنے کے لیے بے تاب دکھائی دیے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے پورے علاقے میں خوشی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہو۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ عوام انہیں کسی سیاسی شخصیت کے طور پر نہیں بلکہ اپنے خاندان کے فرد کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ ہر شخص انہیں اپنے گھر لے جانا چاہتا تھا، ان کے ساتھ بیٹھنا چاہتا تھا اور اپنے مسائل بیان کرنا چاہتا تھا۔ محترمہ عائشہ منظور وٹو نے بھی کسی کو مایوس نہیں کیا۔ انہوں نے نہ کسی سے منہ موڑا اور نہ ہی خود کو عوام سے دور رکھا۔ ان کی گفتگو، انداز اور رویے میں عاجزی، خلوص اور اپنائیت نمایاں تھی۔ وہ ایک حکمران نہیں بلکہ ایک بیٹی اور بہن کے روپ میں عوام کے درمیان موجود تھیں۔

عائشہ منظور وٹو
عائشہ منظور وٹو

اس دورے کے دوران ایک حقیقت نے دل کو بے حد افسردہ کیا۔ تاندلیانوالہ کے نواحی علاقے کلیاں والا سمیت متعدد بستیاں آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ صاف پانی جیسی بنیادی ضرورت بھی یہاں کے لوگوں کے لیے ایک خواب بنی ہوئی ہے۔ اتنے بڑے علاقے میں صرف ایک فلٹریشن پلانٹ موجود ہے، جس کے باعث لوگوں کو دور دراز سے پانی لانا پڑتا ہے۔ آلودہ پانی کے استعمال کے باعث ہیپاٹائٹس اور دیگر خطرناک بیماریوں کے پھیلنے کی شکایات بھی سامنے آتی ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ متعلقہ اداروں کی توجہ کی بھی متقاضی ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ان علاقوں کے لوگ بھی اسی پنجاب کا حصہ نہیں؟ کیا انہیں بنیادی انسانی حقوق اور ضروری سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری نہیں؟ آخر کیوں اس علاقے کو ترقیاتی منصوبوں میں مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا؟ کیوں یہاں کے عوام کو صاف پانی، بہتر صحت، معیاری تعلیم اور روزگار کے مناسب مواقع میسر نہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر باشعور شہری کے ذہن میں گردش کرتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بھی اس حلقے میں وہی چند ترقیاتی منصوبے نمایاں نظر آتے ہیں جو برسوں پہلے میاں منظور احمد وٹو اپنے دورِ اقتدار میں دے گئے تھے۔ اس کے بعد ترقی کا سفر جیسے رک سا گیا۔ غربت، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی نے عوام کی زندگی کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ معمولی خریداری، بہتر علاج یا دیگر ضروری سہولیات کے حصول کے لیے بھی لوگوں کو فیصل آباد، ساہیوال یا لاہور کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
محترمہ عائشہ منظور وٹو نے جب یہ تمام حالات اپنی آنکھوں سے دیکھے تو ان کے چہرے پر گہری تشویش نمایاں تھی۔ مختلف مقامات پر عوام کے مسائل سنتے ہوئے وہ انتہائی سنجیدہ دکھائی دیں۔ انہیں احساس تھا کہ یہ صرف سیاسی گفتگو یا اعداد و شمار کا معاملہ نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی زندگی اور مستقبل کا سوال ہے۔
عوام کی جانب سے انہیں جس محبت، عزت اور اعتماد کا اظہار ملا، وہ اس بات کا عکاس ہے کہ لوگ آج بھی میاں منظور احمد وٹو کے خاندان سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر کوئی ان کے مسائل کو سن سکتا ہے، سمجھ سکتا ہے اور ان کے حل کے لیے مؤثر آواز بلند کر سکتا ہے تو وہ عائشہ منظور وٹو ہیں۔
دورے کے اختتام پر محترمہ عائشہ منظور وٹو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ تاندلیانوالہ اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں کو محرومیوں سے نکالنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی خدمت ہی ان کی سیاست کا اصل مقصد ہے اور وہ اپنے والد کے مشن کو جاری رکھتے ہوئے علاقے کی ترقی، خوشحالی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔
بلاشبہ تاندلیانوالہ کے عوام آج بھی ایک بہتر مستقبل کے منتظر ہیں۔ انہیں ایسے نمائندوں کی ضرورت ہے جو صرف انتخابات کے دنوں میں نہیں بلکہ ہر مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں، ان کے مسائل سنیں اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں۔ عائشہ منظور وٹو کی عوامی وابستگی اور خدمت کا جذبہ اس علاقے کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن کر سامنے آیا ہے۔ اگر یہ جذبہ مؤثر منصوبہ بندی، مسلسل جدوجہد اور عملی اقدامات میں تبدیل ہو جائے تو وہ دن دور نہیں جب تاندلیانوالہ بھی ترقی، خوشحالی اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے پنجاب کے نمایاں علاقوں میں شمار ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button