
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا کسی ایک طبقے یا صنف کی کامیابی نہیں بلکہ پوری قوم کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کی ضمانت ہے۔ انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ خواتین کے حقوق، تعلیم، صحت، معاشی خودمختاری اور سماجی تحفظ کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تاکہ مسلم دنیا کی خواتین کو مساوی مواقع اور باوقار مستقبل فراہم کیا جا سکے۔
وہ 9ویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین سے خطاب کر رہی تھیں، جس میں مختلف اسلامی ممالک کے وزراء، اعلیٰ سرکاری حکام، سفارت کاروں، بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں اور خواتین کے حقوق کے شعبے سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔
پاکستان پرامن ملک اور مہمان نواز قوم ہے
اپنے خطاب کے آغاز میں وزیراعلیٰ پنجاب نے کانفرنس کے تمام شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، خوبصورت اور مہمان نواز ملک ہے، جہاں مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور روایات کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق اور ترقی سے متعلق اس اہم بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرنا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے اور پاکستان او آئی سی کے رکن ممالک کے ساتھ مل کر خواتین کی ترقی اور فلاح کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔
اسلام نے خواتین کو عزت، وقار اور حقوق دیے
مریم نواز شریف نے کہا کہ اسلام نے خواتین کو چودہ سو سال قبل وہ حقوق عطا کیے جو آج بھی انسانی معاشروں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم، وراثت، معاشی سرگرمیوں، عزت و وقار اور سماجی کردار کے حوالے سے اسلامی تعلیمات واضح ہیں اور مسلم معاشروں کو انہی اصولوں کی روشنی میں خواتین کو بااختیار بنانا چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ تاریخ اسلام اور پاکستان میں ایسی عظیم خواتین موجود ہیں جنہوں نے قیادت، قربانی اور استقامت کی روشن مثالیں قائم کیں۔
انہوں نے حضرت فاطمہؓ، حضرت خدیجہؓ اور حضرت عائشہؓ کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ شخصیات مسلم خواتین کے لیے بہترین نمونہ ہیں۔
انہوں نے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ قائداعظم محمد علی جناح کی مضبوط ساتھی تھیں اور انہوں نے پاکستان کی جدوجہد میں تاریخی کردار ادا کیا۔
وزیراعلیٰ نے اپنی والدہ بیگم کلثوم نواز کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مشکل ترین حالات میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کا بھرپور ساتھ دیا اور ان سے انہوں نے صبر، استقامت اور حوصلے کا درس سیکھا۔

انہوں نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد نے خواتین کے لیے قیادت کے نئے دروازے کھولے۔
پنجاب حکومت کے خواتین دوست منصوبے
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ خواتین کو صرف ترقیاتی منصوبوں کا حصہ بنانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں قومی ترقی کے عمل میں قائدانہ کردار دیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی پالیسی کا مرکز خواتین کو تعلیم، روزگار، صحت، ٹیکنالوجی اور کاروبار کے شعبوں میں خودمختار بنانا ہے۔

اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ نے خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت پنجاب کے مختلف منصوبوں کا تفصیلی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ ہونہار اسکالرشپ پروگرام کے ذریعے ہزاروں طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ لیپ ٹاپ اسکیم میں طالبات کا حصہ 60 فیصد سے بھی زیادہ ہے، جو خواتین کی تعلیم کے فروغ کے حکومتی عزم کا اظہار ہے۔
انہوں نے کہا کہ کئی ایسی طالبات، جو مالی مشکلات کے باعث تعلیم چھوڑنے پر مجبور تھیں، اب اسکالرشپ کی بدولت اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
"اپنا گھر، اپنی چھت” خواتین کے لیے امید کی کرن
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ "اپنا گھر، اپنی چھت” پروگرام کے تحت کئی خواتین پہلی مرتبہ اپنے ذاتی گھروں کی مالک بنی ہیں۔
انہوں نے ایک بیوہ خاتون کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جو پہلے تقریبات میں ڈیکوریشن کا کام کرتی تھیں، اب اسی منصوبے کے تحت اپنے گھر میں باعزت زندگی گزار رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام سے تقریباً دس لاکھ افراد مستفید ہو رہے ہیں اور اس نے خواتین کو معاشی اور سماجی تحفظ فراہم کیا ہے۔
معاشی خودمختاری کے لیے متعدد پروگرام
مریم نواز شریف نے کہا کہ حکومت پنجاب خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے، جن میں:
- اپنا روزگار پروگرام
- اپنی زمین، اپنا روزگار
- صنعت زار کے ذریعے خواتین کی مصنوعات کی مارکیٹنگ
- ای کامرس اور بزنس فنانسنگ
- ٹیلرنگ اور کوکنگ سینٹرز
- آئی ٹی اسکلز پروگرام
- انٹرن شپ پروگرام
- دیہی خواتین کے لیے لائیو اسٹاک اسکیم
شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دیہی خواتین کو ڈیجیٹل مہارتیں سکھا کر انہیں عالمی معیشت سے جوڑا جا رہا ہے تاکہ ہر گاؤں ترقی کے سفر میں شامل ہو سکے۔
خواتین کی صحت حکومت کی اولین ترجیح
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صحت صرف طبی سہولت نہیں بلکہ انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب بھر میں ہزار سے زائد فیلڈ اسپتال، موبائل ہیلتھ یونٹس، کلینک آن ویلز اور ساٹھ ہزار سے زائد لیڈی ہیلتھ ورکرز خواتین اور بچوں کو طبی سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر ماں اور ہر بچے کو معیاری صحت کی سہولت فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
خواتین کا تحفظ "ریڈ لائن” ہے
مریم نواز شریف نے خواتین کے تحفظ کو اپنی حکومت کی "ریڈ لائن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے تمام بڑے شہروں میں سیف سٹی منصوبے کو مزید فعال بنایا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ:
- سیف سٹی اتھارٹی کے ذریعے 30 لاکھ سے زائد خواتین ڈیجیٹل معاونت حاصل کر چکی ہیں۔
- ورچوئل پولیس اسٹیشن سے 10 لاکھ سے زیادہ خواتین مستفید ہوئی ہیں۔
- 36 موبائل پولیس اسٹیشن خواتین کی دہلیز پر انصاف فراہم کر رہے ہیں۔
- 900 سے زائد سیفٹی بٹن اور موبائل چارجنگ اسٹیشن فعال کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں صرف ایک پینک بٹن دبانے سے فوری مدد فراہم کرنے کا نظام قائم کیا گیا ہے۔
پنک ٹیکسی اور خواتین کے لیے روزگار
وزیراعلیٰ نے پنک الیکٹرک ٹیکسی پروگرام کو خواتین کی معاشی خودمختاری کا اہم منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب خواتین نہ صرف محفوظ سفری سہولت فراہم کر رہی ہیں بلکہ باعزت روزگار بھی حاصل کر رہی ہیں۔
انہوں نے ایک طالبہ کا ذکر کیا جو صبح یونیورسٹی جاتی ہے اور دوپہر میں پنک ٹیکسی چلا کر اپنی تعلیم کے اخراجات پورے کرتی ہے۔
خواتین کی مالی شمولیت ضروری
مریم نواز شریف نے کہا کہ خواتین کو مالیاتی نظام، کاروباری مواقع اور ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بنائے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت خواتین کو کاروباری قرضوں، ای کامرس، ٹیکنالوجی اور ہنرمندی کے ذریعے معاشی طور پر مضبوط بنانے کے لیے متعدد منصوبوں پر عمل درآمد کر رہی ہے۔
ذاتی جدوجہد کا ذکر
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے اپنی ذاتی زندگی کے مشکل مراحل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حالات نے انہیں استقامت، صبر اور قربانی کا سبق سکھایا۔
انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہو کر انہوں نے یہ سیکھا کہ اصولوں پر قائم رہنے کے لیے آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔
ان کے بقول:
"سب سے مضبوط فولاد گرم ترین آگ میں ڈھل کر تیار ہوتا ہے۔ مشکلات انسان کی حدود ضرور آزماتی ہیں، لیکن اسی کے ساتھ اس کی پوشیدہ طاقت بھی سامنے لے آتی ہیں۔”
او آئی سی کے لیے مشترکہ پیغام
وزیراعلیٰ پنجاب نے او آئی سی کے تمام رکن ممالک پر زور دیا کہ خواتین کے حقوق، تعلیم، صحت، معاشی خودمختاری، سلامتی اور مساوی مواقع کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں تاکہ مسلم دنیا کی ہر بیٹی، ہر بہن اور ہر ماں کو عزت، احترام، تحفظ اور ترقی کے مساوی مواقع میسر آ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا صرف سماجی انصاف کا تقاضا نہیں بلکہ مسلم دنیا کی اجتماعی ترقی، معاشی استحکام اور پائیدار مستقبل کی بنیاد ہے۔
آخر میں وزیراعلیٰ نے کانفرنس کے شرکاء کو لاہور کا دورہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ، ثقافت، شاعری، باغات اور مہمان نوازی کا شہر لاہور پوری دنیا سے آنے والے مہمانوں کا ہمیشہ گرمجوشی سے استقبال کرتا ہے اور پاکستان خواتین کی ترقی کے لیے عالمی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرتا رہے گا۔



