پاکستاناہم خبریں

ہنگو میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 7 خوارج ہلاک، کیپٹن حمزہ اکرم شہید

سرکاری بیان کے مطابق کیپٹن حمزہ اکرم نے انتہائی مشکل اور خطرناک حالات میں خوارج کا تعاقب جاری رکھا اور اپنے ساتھی اہلکاروں کی قیادت کرتے ہوئے بہادری سے مقابلہ کیا۔

سید عاطف ندیم-ادارت

ہنگو: سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ سیکیورٹی فورسز کے مطابق کارروائی میں سات خوارج ہلاک کر دیے گئے، تاہم آپریشن کے دوران ایک بہادر فوجی افسر کیپٹن حمزہ اکرم بھی لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔

سیکیورٹی فورسز کے مطابق ہنگو میں خوارج کی موجودگی سے متعلق موصول ہونے والی انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کی گئی۔ آپریشن کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے مشتبہ ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور وہاں موجود مسلح افراد کے خلاف کارروائی شروع کی۔

سرکاری بیان کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران خوارج نے فرار ہونے یا مزاحمت جاری رکھنے کی کوشش کی اور ایک مسجد کے اندر پناہ لی۔ سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے عبادت گاہ کے تقدس کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے اپنے لیے پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا۔

فائرنگ کے تبادلے میں سات خوارج ہلاک

سیکیورٹی فورسز کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے میں سات خوارج مارے گئے۔ سرکاری بیان میں ان افراد کو بھارت سے منسلک فتنہ الخوارج قرار دیا گیا ہے۔

کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے انتہائی محتاط انداز میں پیش قدمی کی اور مسلح افراد کے خلاف کارروائی جاری رکھی۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق آپریشن کا بنیادی مقصد علاقے میں موجود مسلح عناصر کا خاتمہ اور مقامی آبادی کو ممکنہ دہشت گردی کے خطرے سے محفوظ بنانا تھا۔

سرکاری بیان کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز کا دعویٰ ہے کہ ہلاک افراد سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث رہے، جبکہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے میں بھی ان کا کردار تھا۔

کیپٹن حمزہ اکرم کی بہادری اور شہادت

آپریشن کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے ایک اور قیمتی جان کی قربانی دی۔ سیکیورٹی فورسز کے مطابق کیپٹن حمزہ اکرم، جن کی عمر 27 سال تھی اور جن کا تعلق ضلع نارووال سے تھا، آپریشن کے دوران اپنے دستوں کی قیادت کرتے ہوئے آگے سے کارروائی میں شریک تھے۔

سرکاری بیان کے مطابق کیپٹن حمزہ اکرم نے انتہائی مشکل اور خطرناک حالات میں خوارج کا تعاقب جاری رکھا اور اپنے ساتھی اہلکاروں کی قیادت کرتے ہوئے بہادری سے مقابلہ کیا۔

شدید فائرنگ کے دوران کیپٹن حمزہ اکرم نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر کارروائی جاری رکھی اور وطن کے دفاع کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے شہادت حاصل کی۔

سیکیورٹی فورسز نے کیپٹن حمزہ اکرم کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے بہادر سپاہیوں کی قربانیاں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

نارووال کے سپوت نے مادر وطن کے دفاع میں جان قربان کردی

کیپٹن حمزہ اکرم کا تعلق ضلع نارووال سے بتایا گیا ہے۔ 27 سالہ افسر نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران انتہائی مشکل سکیورٹی آپریشن میں اپنی جان قربان کی۔

ان کی شہادت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب سیکیورٹی فورسز خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

کیپٹن حمزہ اکرم کی قربانی اس عزم کی علامت قرار دی جا رہی ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گی۔

دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد

سیکیورٹی فورسز کے مطابق آپریشن کے اختتام پر ہلاک کیے گئے خوارج کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

حکام کے مطابق برآمد ہونے والا اسلحہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ علاقے میں موجود مسلح عناصر دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے مسلح تھے۔

سیکیورٹی فورسز نے اس کارروائی کو انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیا جانے والا آپریشن قرار دیا ہے، جس میں ہدف کی نشاندہی کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔

علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری

سیکیورٹی فورسز کے مطابق ہنگو کے متاثرہ علاقے میں ممکنہ طور پر موجود دیگر مسلح عناصر کے خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کا مقصد علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنانا اور کسی بھی ممکنہ دہشت گرد کو دوبارہ منظم ہونے یا شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کا موقع نہ دینا ہے۔

سیکیورٹی اداروں کی جانب سے علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مکمل سدباب کیا جا سکے۔

انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں میں اضافہ

ہنگو میں ہونے والی کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

ان کارروائیوں کا مقصد دہشت گرد گروہوں کے ٹھکانوں، نقل و حرکت اور معاون نیٹ ورک کے بارے میں حاصل ہونے والی اطلاعات کو بنیاد بنا کر انہیں کارروائی سے پہلے ہی نشانہ بنانا ہے۔

سیکیورٹی فورسز کے مطابق انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے، ان کے ٹھکانوں کو ختم کرنے اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔

عبادت گاہوں کے تقدس کا معاملہ

سرکاری بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ کارروائی کے دوران مسلح افراد نے ایک مسجد کے اندر پناہ لینے کی کوشش کی۔

سیکیورٹی فورسز کے مطابق دہشت گردوں کی جانب سے عبادت گاہ کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنا نہ صرف مذہبی مقامات کے تقدس کی خلاف ورزی ہے بلکہ شہریوں کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔

حکام کا مؤقف ہے کہ دہشت گرد عناصر ماضی میں بھی شہری علاقوں اور حساس مقامات کو اپنی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، جس کے باعث سیکیورٹی فورسز کو انتہائی محتاط انداز میں کارروائی کرنا پڑتی ہے۔

وژن ’’عظیم استحکام‘‘ کے تحت انسداد دہشت گردی مہم جاری رکھنے کا عزم

سیکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے انسداد دہشت گردی کی مہم جاری رہے گی۔

سرکاری بیان میں وژن ’’عظیم استحکام‘‘ کے تحت دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور متعلقہ ریاستی ادارے باہمی تعاون کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

شہداء کی قربانیاں قومی عزم کو مضبوط کرتی ہیں

کیپٹن حمزہ اکرم کی شہادت نے ایک مرتبہ پھر یہ واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کو بھاری قربانیاں دینا پڑ رہی ہیں۔

سیکیورٹی فورسز کے مطابق ملک کے دفاع میں جان قربان کرنے والے افسران اور جوانوں کی قربانیاں قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان قربانیوں سے دہشت گردی کے خلاف قومی عزم مزید مضبوط ہوتا ہے۔

ریاستی اداروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا مقصد ملک کے شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا، ریاستی رٹ کو برقرار رکھنا اور دہشت گرد گروہوں کو دوبارہ منظم ہونے سے روکنا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان

ہنگو آپریشن کے بعد سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

حکام کے مطابق دہشت گرد عناصر جہاں بھی موجود ہوں گے، ان کے خلاف انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی اور علاقے میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

ہنگو میں سات خوارج کی ہلاکت اور کیپٹن حمزہ اکرم کی شہادت کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے، جبکہ سیکیورٹی ادارے مزید ممکنہ خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر افسران اور جوانوں کی قربانیاں دہشت گردی کے خلاف قومی جدوجہد کو مزید تقویت دیتی ہیں اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ریاستی اداروں کے عزم کو مضبوط کرتی ہیں۔

کیپٹن حمزہ اکرم شہید سمیت وطن کے دفاع میں جان قربان کرنے والے تمام شہداء کو قوم کا سلام۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button