پاکستاناہم خبریں

وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر اور اے آئی کلاؤڈ "سکائی 47 قراقرم ون” کا افتتاح کر دیا

موجودہ دور میں ڈیٹا کسی بھی ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ بن چکا ہے، اس لیے حساس قومی اور تجارتی معلومات کو ملک کے اندر محفوظ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جمعہ کو پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کلاؤڈ پلیٹ فارم "سکائی 47 قراقرم ون” کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے منصوبے کو پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی، ٹیکنالوجی میں خود انحصاری اور قومی سلامتی کی جانب ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ ملک کے متحرک، ترقی یافتہ اور محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔

افتتاحی تقریب میں چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ، دیگر وفاقی وزراء، اعلیٰ سرکاری حکام، آئی ٹی ماہرین، نجی شعبے کے نمائندوں اور منصوبے کے شراکت داروں نے شرکت کی۔ تقریب کے آغاز میں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو جدید ڈیٹا سینٹر کی تکنیکی صلاحیتوں، مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا سکیورٹی اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ سکائی 47 ڈیٹا سینٹر قراقرم ون کی افتتاحی تقریب میں شرکت ان کے لیے باعث اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ یہ منصوبہ انتہائی متاثر کن، قابل تحسین اور پاکستان کے روشن مستقبل کی علامت ہے۔ ان کے بقول اتنے مختصر عرصے میں غیر معمولی عزم، پیشہ ورانہ مہارت اور مضبوط قیادت کے ذریعے اس منصوبے کی تکمیل ایک قابل تقلید مثال ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگر پاکستان اسی جذبے، عزم اور منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو نہ صرف ماضی میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ ممکن ہوگا بلکہ ملک کو ایک جدید، متحرک اور ترقی یافتہ ریاست بنایا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کا راستہ آسان نہیں ہوتا لیکن مستقل مزاجی، امید، حوصلے اور قومی اتحاد کے ذریعے ہر مشکل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح پاکستان نے "معرکہ حق” میں تاریخی کامیابی حاصل کی، اسی طرح ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت کے میدان میں بھی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونا ممکن ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مضبوط ارادے اور واضح وژن کے ساتھ کوئی بھی ہدف ناقابل حصول نہیں رہتا۔

وزیراعظم نے سکائی 47 منصوبے کو پاکستان کے مستقبل کی ضمانت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک ڈیٹا سینٹر نہیں بلکہ قومی خودمختاری، جدید معیشت اور ڈیجیٹل سکیورٹی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ڈیٹا کسی بھی ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ بن چکا ہے، اس لیے حساس قومی اور تجارتی معلومات کو ملک کے اندر محفوظ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے منصوبے کی کامیاب تکمیل پر چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بصیرت افروز قیادت، منصوبے کے شراکت دار ادارے زیڈ ٹی ای، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ، وزارت آئی ٹی، سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی اور منصوبے پر کام کرنے والی پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سکائی 47 پاکستان کے عوام کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے جو نہ صرف جدید ڈیجیٹل خدمات فراہم کرے گا بلکہ قومی سکیورٹی کو بھی مزید مضبوط بنائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ملک کے تمام سرکاری اداروں کو اس جدید کلاؤڈ انفراسٹرکچر سے منسلک کیا جائے تاکہ حکومتی ڈیٹا محفوظ، تیز رفتار اور مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ اسی طرز کے جدید ڈیٹا سینٹرز کراچی اور لاہور میں بھی قائم کیے جائیں تاکہ ملک بھر میں یکساں ڈیجیٹل سہولیات دستیاب ہوں۔

وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سکائی 47 ڈیٹا سینٹر کا افتتاح پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے اور اب حقیقی معاشی طاقت ڈیٹا اور اس سے حاصل ہونے والی معلومات میں پوشیدہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں عالمی مسابقت صرف مصنوعی ذہانت تیار کرنے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ محفوظ، کم لاگت اور مؤثر انداز میں ڈیٹا کے استعمال پر منحصر ہوگی۔ ان کے مطابق سکائی 47 میں جدید ترین ڈیٹا اسٹوریج، ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ، طاقتور جی پی یوز اور مصنوعی ذہانت کے جدید تقاضوں کے مطابق انفراسٹرکچر موجود ہوگا، جس سے مقامی صنعت، تعلیمی اداروں، تحقیقاتی مراکز اور نجی شعبے کو نمایاں فائدہ پہنچے گا۔

سکائی 47 کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حسن عباس نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 12 ہزار ڈیٹا سینٹرز موجود ہیں جبکہ پاکستان میں صرف 22 ڈیٹا سینٹرز کام کر رہے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ملک میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی گنجائش اور ضرورت دونوں بہت زیادہ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ای کامرس کا شعبہ سالانہ 25 سے 30 فیصد کی رفتار سے ترقی کر رہا ہے، جس کے باعث جدید ڈیٹا سینٹرز کی ضرورت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق سکائی 47 نہ صرف ملکی ڈیجیٹل معیشت کو نئی بنیاد فراہم کرے گا بلکہ مقامی کمپنیوں، سٹارٹ اپس، بینکوں، سرکاری اداروں اور ٹیکنالوجی کے شعبے کو عالمی معیار کی کلاؤڈ خدمات بھی فراہم کرے گا۔

ماہرین کے مطابق سکائی 47 قراقرم ون پاکستان میں ٹیکنالوجی کے میدان میں خود انحصاری کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ جدید ڈیٹا سینٹر مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ، ڈیٹا ہوسٹنگ اور ڈیجیٹل سروسز کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ذریعے حساس قومی اور تجارتی معلومات کو بیرون ملک منتقل کرنے کے بجائے ملک کے اندر محفوظ رکھا جا سکے گا، جس سے سائبر سکیورٹی مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل معیشت کو بھی نئی رفتار ملنے کی توقع ہے۔

تقریب کے اختتام پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل اختراع اور علم پر مبنی معیشت کی طرف لے جانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں کو نئے مواقع فراہم کیے جا سکیں، سرمایہ کاری میں اضافہ ہو اور پاکستان عالمی ڈیجیٹل معیشت میں ایک مضبوط اور باوقار مقام حاصل کر سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button