
خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی مشترکہ کارروائیاں، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 32 مبینہ دہشت گرد ہلاک، اسلحہ اور بارودی مواد بھی تباہ
کارروائی کے بعد مختلف مقامات سے اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا، جسے بم ڈسپوزل ٹیموں نے موقع پر ہی ناکارہ بنا دیا۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف مقامات پر متعدد مشترکہ آپریشنز کیے، جن میں سرکاری بیان کے مطابق مجموعی طور پر 32 مبینہ دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ حکام کے مطابق کارروائیاں ان گروہوں کے خلاف کی گئیں جنہیں سرکاری مؤقف میں "بھارتی سپانسرڈ فتنہ الخوارج” اور "فتنہ الہندوستان” سے منسلک قرار دیا جاتا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کے سہولت کاروں اور مبینہ ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئیں۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشنز کا مقصد ملک میں دہشت گردی کی حالیہ سرگرمیوں کو روکنا، حساس تنصیبات کا تحفظ یقینی بنانا اور عوام کے جان و مال کو درپیش خطرات کا خاتمہ کرنا ہے۔
ضلع خیبر میں متعدد انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز
سرکاری اعلامیے کے مطابق 28 اور 29 جولائی 2026 کی درمیانی شب خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں سیکیورٹی فورسز نے متعدد انٹیلی جنس بیسڈ ایریا سینیٹائزیشن اور ٹارگٹڈ آپریشنز کیے۔ کارروائیوں سے قبل حساس اداروں نے مختلف علاقوں میں مشتبہ نقل و حرکت اور دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق اطلاعات اکٹھی کیں، جس کے بعد مختلف مقامات پر بیک وقت کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔
بیان کے مطابق کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا، جہاں شدید جھڑپوں کے بعد فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 24 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے کر سرچ اور کلیئرنس آپریشن بھی شروع کیا تاکہ کسی بھی فرار ہونے والے مشتبہ شخص کو گرفتار کیا جا سکے اور علاقے کو محفوظ بنایا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے بعد مختلف مقامات سے اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا، جسے بم ڈسپوزل ٹیموں نے موقع پر ہی ناکارہ بنا دیا۔
نوشکی میں کارروائی، آٹھ مبینہ دہشت گرد ہلاک
اسی دوران بلوچستان کے ضلع نوشکی میں بھی سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر متعدد کارروائیاں کیں۔ سرکاری بیان کے مطابق ایک شدید مقابلے کے بعد فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے آٹھ مبینہ دہشت گرد مارے گئے۔
حکام کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے مبینہ بنکر اور دیگر محفوظ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ بم برآمد ہوئے۔ بعد ازاں ان تمام دھماکہ خیز مواد کو محفوظ طریقے سے تباہ کر دیا گیا تاکہ مستقبل میں انہیں تخریبی کارروائیوں کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نوشکی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے اور کسی بھی مشتبہ نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
اسلحہ اور بارودی مواد برآمد
سرکاری بیان کے مطابق دونوں صوبوں میں ہونے والی کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے زیر استعمال جدید اور روایتی ہتھیار، گولہ بارود، مواصلاتی آلات اور دیسی ساختہ بم (IEDs) برآمد کیے گئے۔ بم ڈسپوزل ماہرین نے موقع پر ہی دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنا کر تباہ کیا تاکہ شہری آبادی اور سیکیورٹی اہلکاروں کو کسی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والے مواد کا فرانزک معائنہ بھی کیا جائے گا تاکہ دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونت کے ذرائع سے متعلق مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔
کلیئرنس آپریشن جاری
سیکیورٹی اداروں کے مطابق کارروائیوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔ ان کارروائیوں کا مقصد علاقے میں موجود کسی بھی دوسرے مشتبہ دہشت گرد یا ان کے سہولت کاروں کا سراغ لگانا اور انہیں گرفتار یا غیر مؤثر بنانا ہے۔
حکام نے بتایا کہ حساس مقامات، سرکاری تنصیبات، قومی شاہراہوں اور داخلی و خارجی راستوں پر نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔
محسن نقوی کا خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کامیاب آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
وزیرداخلہ محسن نقوی نے سکیورٹی فورسز کی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے 32 دہشت گردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچا کر مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں قیام امن کے لیے سکیورٹی فورسز کی کامیابیاں قابل تحسین ہیں۔انہوں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے قوم سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
وفاقی وزیرداخلہ نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کو کہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔
سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ بیان کے مطابق یہ اقدامات نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی سطح پر منظور کردہ "ویژن عزمِ استحکام” کے مطابق کیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد ملک بھر سے دہشت گردی اور شدت پسند نیٹ ورکس کا خاتمہ اور داخلی سلامتی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ غیر ملکی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد گروہوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
نوٹ: اس خبر میں دہشت گرد گروہوں کی شناخت اور ان سے متعلق دعوے پاکستانی حکام کے جاری کردہ سرکاری بیان پر مبنی ہیں۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔



