
ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کا معاملہ، روس اور چین نے امریکی قرارداد ویٹو کردی
ایران کے جوہری معاملے سے متعلق وسیع تر سفارتی اور قانونی تنازع اس ووٹنگ سے ختم نہیں ہوگا۔
نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کے پینل کی مدت میں توسیع کے لیے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد روس اور چین نے ویٹو کردی، جس کے بعد ایران سے متعلق اقوام متحدہ کے پابندیوں کے نظام کی نگرانی کے مستقبل پر ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔
17 ستمبر 2026 کو ہونے والی ووٹنگ میں امریکی مسودے کو سلامتی کونسل کے 15 میں سے 11 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی، جبکہ پاکستان سمیت دو ممالک نے ووٹنگ میں رائے شماری سے گریز کیا اور روس و چین نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔ دونوں ممالک مستقل ارکان ہونے کی وجہ سے ویٹو کا اختیار رکھتے ہیں، جس کے استعمال کے نتیجے میں قرارداد منظور نہ ہوسکی۔
امریکی مسودے کا مقصد ایران سے متعلق سلامتی کونسل کی پابندیوں کی نگرانی کے لیے قائم ماہرین کے پینل کا مینڈیٹ مزید ایک سال کے لیے بڑھانا تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس پینل کا موجودہ مینڈیٹ 26 ستمبر 2026 کو ختم ہونا تھا۔
روس اور چین کا اعتراض کیا ہے؟
روس اور چین طویل عرصے سے ایران کے جوہری معاملے پر مغربی ممالک کے اس مؤقف کی مخالفت کرتے رہے ہیں کہ 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت موجود ’اسنیپ بیک‘ طریقہ کار کے ذریعے ایران پر اقوام متحدہ کی سابقہ پابندیاں دوبارہ نافذ کی جاسکتی ہیں۔
ماسکو اور بیجنگ کا مؤقف ہے کہ ایران کے جوہری مسئلے سے متعلق سابقہ قانونی ڈھانچے اور قرارداد 2231 کی مدت ختم ہونے کے بعد اس طریقہ کار کو دوبارہ استعمال کرنے کی قانونی بنیاد موجود نہیں رہی۔
روس کے اقوام متحدہ میں سفیر واسیلی نیبنزیا نے امریکی مسودے پر تنقید کرتے ہوئے اسے قانونی بنیاد سے محروم قرار دیا۔ روس اور چین نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ سلامتی کونسل کو ایسے طریقے سے ایران کے خلاف پابندیوں کی نگرانی کا نظام برقرار نہیں رکھنا چاہیے جسے وہ ختم شدہ یا متنازع قانونی بنیاد سے جوڑتے ہیں۔
امریکی قرارداد کا مقصد کیا تھا؟
امریکی قرارداد کا بنیادی مقصد ایران سے متعلق اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والے Panel of Experts کے مینڈیٹ میں توسیع کرنا تھا۔
اقوام متحدہ کے مطابق یہ پینل سلامتی کونسل کی ایران سے متعلق پابندیوں کی خلاف ورزیوں سے متعلق معلومات جمع کرتا، مختلف ممالک اور متعلقہ اداروں سے حاصل ہونے والی معلومات کا جائزہ لیتا اور پابندیوں پر عمل درآمد بہتر بنانے کے لیے سلامتی کونسل کو سفارشات پیش کرتا ہے۔
پینل کے دائرۂ کار میں ہتھیاروں کی منتقلی، جوہری اور میزائل سے متعلق سرگرمیوں، برآمدی کنٹرول، مالیاتی معاملات، کسٹمز اور سمندری نقل و حمل جیسے شعبوں سے متعلق معلومات کا جائزہ بھی شامل رہا ہے۔
پینل پہلے ہی عملی مشکلات کا شکار رہا
رائٹرز کے مطابق ایران سے متعلق پابندیوں کی نگرانی کرنے والا یہ ماہرین پینل گزشتہ ایک سال سے عملی طور پر فعال نہیں تھا کیونکہ سلامتی کونسل اس کے ارکان کی تقرری پر اتفاق نہیں کر سکی تھی۔ اس کے باوجود امریکی کوشش کا مقصد اس نگرانی کے ادارہ جاتی مینڈیٹ کو برقرار رکھنا تھا۔
روس اور چین کی جانب سے ویٹو کے بعد اب 26 ستمبر کی ڈیڈ لائن کے قریب اس پینل کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی مزید بڑھ گئی ہے۔
’اسنیپ بیک‘ میکانزم کیا ہے؟
2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے Joint Comprehensive Plan of Action (JCPOA) کے ساتھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد 2231 بھی منظور کی تھی۔
اس انتظام کے تحت اگر معاہدے کے کسی فریق کو یہ معلوم ہوتا کہ ایران اپنی جوہری ذمہ داریوں کی نمایاں خلاف ورزی کر رہا ہے تو ایک مخصوص طریقہ کار کے ذریعے معاملہ سلامتی کونسل میں لایا جاسکتا تھا۔ اس عمل کو عام طور پر ’snapback mechanism‘ کہا جاتا ہے، کیونکہ اس کا مقصد بعض حالات میں سابقہ اقوام متحدہ کی پابندیوں کو دوبارہ نافذ کرنا تھا۔
تاہم اس طریقہ کار کی قانونی حیثیت اب ایران، روس اور چین ایک طرف جبکہ امریکا، برطانیہ، فرانس اور دیگر مغربی ممالک دوسری طرف مختلف انداز میں بیان کرتے ہیں۔
2025 میں پیدا ہونے والا بنیادی قانونی تنازع
اسنیپ بیک کے حوالے سے موجودہ تنازع کی جڑ 2025 کے واقعات میں ہے۔
برطانیہ، فرانس اور جرمنی، جنہیں مشترکہ طور پر E3 کہا جاتا ہے، نے 2025 میں ایران کی جوہری ذمہ داریوں سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسنیپ بیک طریقہ کار کو فعال کرنے کی کوشش کی۔
مغربی ممالک کا مؤقف تھا کہ ایران کی جانب سے جوہری معاہدے سے متعلق ذمہ داریوں کی عدم تکمیل کے باعث سابقہ اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ ہوسکتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق ستمبر 2025 کے آخر میں متعلقہ پرانی قراردادوں کی پابندیوں کو دوبارہ نافذ کیے جانے کا اعلان کیا گیا۔
اس کے برعکس ایران، روس اور چین نے اس اقدام کی قانونی حیثیت کو مسترد کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ طریقہ کار کو اس مرحلے پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
روس نے اقوام متحدہ کو بھیجے گئے ایک خط میں E3 کی جانب سے اسنیپ بیک کے اقدام کو قانونی طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا تھا، جبکہ چین نے بھی اس عمل کو سفارتی حل کی کوششوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
مغربی ممالک کا مؤقف مختلف
اس معاملے میں امریکا اور یورپی ممالک کا قانونی مؤقف روس اور چین سے مختلف ہے۔
مغربی ممالک کے مطابق ایران نے 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے متعلق متعدد وعدے پورے نہیں کیے، جس کے باعث اسنیپ بیک کے قانونی طریقہ کار کو استعمال کیا جاسکتا تھا۔
اقوام متحدہ کے بعض سرکاری ریکارڈز میں 2025 کے دوران متعلقہ سابقہ پابندیوں کے دوبارہ نافذ ہونے کا حوالہ موجود ہے۔ امریکا اور یورپی ممالک اس عمل کو قانونی طور پر مؤثر سمجھتے ہیں، جبکہ روس، چین اور ایران اسے تسلیم نہیں کرتے۔
یہی اختلاف موجودہ سلامتی کونسل کی کارروائی کے پس منظر میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
ایران کا مؤقف
تہران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ مغربی ممالک نے JCPOA کی شرائط پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا اور اس لیے ایران کے خلاف دوبارہ پابندیاں عائد کرنے یا اسنیپ بیک طریقہ کار استعمال کرنے کا قانونی جواز موجود نہیں۔
ایران روس اور چین کے ساتھ مل کر یہ مؤقف بھی اختیار کرچکا ہے کہ 2025 میں E3 کی جانب سے اسنیپ بیک شروع کرنے کی کوشش قرارداد 2231 کے تقاضوں کے مطابق نہیں تھی۔
دوسری جانب مغربی ممالک ایران کے جوہری پروگرام اور یورینیم افزودگی سے متعلق سرگرمیوں کو اپنی تشویش کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں۔ سلامتی کونسل کی مارچ 2026 کی کارروائی میں امریکا اور بعض یورپی ممالک نے ایران کے جوہری پروگرام اور دوبارہ نافذ ہونے والی اقوام متحدہ کی پابندیوں کو اپنی تشویش کے تناظر میں پیش کیا تھا۔
روس اور چین کا ویٹو، سلامتی کونسل میں ایک اور تقسیم
روس اور چین کا تازہ ویٹو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کا جوہری معاملہ پہلے ہی سلامتی کونسل میں شدید اختلافات کا باعث بن چکا ہے۔
امریکی مسودے کو 11 ارکان کی حمایت ملنے کے باوجود روس اور چین کے ویٹو نے اسے منظور ہونے سے روک دیا۔ پاکستان سمیت دو ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
یہ صورتحال سلامتی کونسل میں ایران کے معاملے پر موجود گہری تقسیم کی عکاسی کرتی ہے، جہاں مغربی ممالک ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں کے نفاذ کو اہم سمجھتے ہیں، جبکہ روس اور چین سفارتی حل، قانونی اختلافات اور یکطرفہ دباؤ کے خاتمے پر زور دیتے رہے ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کا پس منظر
تازہ ووٹنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کئی ماہ سے برقرار ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں، علاقائی سلامتی اور فوجی کشیدگی سے متعلق اختلافات نے سفارتی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق موجودہ تنازع میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی اور اس کے بعد سفارتی و اقتصادی دباؤ بھی اہم پس منظر رکھتے ہیں۔ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کو اپنی قومی سلامتی کی تشویش قرار دیتا ہے، جبکہ تہران اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا رہا ہے۔
پابندیوں کی نگرانی کا نظام کیوں اہم ہے؟
سلامتی کونسل کے پابندیوں کی نگرانی کے پینل کا مقصد محض پابندیوں کی فہرست تیار کرنا نہیں بلکہ یہ جانچنا بھی ہے کہ مختلف ممالک اور ادارے متعلقہ پابندیوں پر کس حد تک عمل کر رہے ہیں۔
پینل کو مبینہ خلاف ورزیوں، غیر قانونی منتقلی، مالیاتی سرگرمیوں، ہتھیاروں، ٹیکنالوجی اور دیگر متعلقہ معاملات کی معلومات جمع کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ اس کے نتیجے میں سلامتی کونسل کو پابندیوں کے نفاذ اور ممکنہ خلاف ورزیوں کے بارے میں آزادانہ تکنیکی معلومات دستیاب ہوتی تھیں۔
امریکی مؤقف کے مطابق اس نگرانی کے نظام کا خاتمہ پابندیوں کی خلاف ورزیوں کی غیر جانب دارانہ دستاویز بندی کو متاثر کرسکتا ہے، جبکہ روس اور چین اس کے برعکس موجودہ قانونی بنیاد ہی کو متنازع قرار دے رہے ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
روس اور چین کے ویٹو کے بعد موجودہ امریکی مسودہ منظور نہیں ہوسکا۔ اس کے نتیجے میں 26 ستمبر کو موجودہ ماہرین کے پینل کے مینڈیٹ کی مدت ختم ہونے کے بعد اس کی آئینی اور عملی حیثیت اہم سوال بن گئی ہے۔
تاہم ایران کے جوہری معاملے سے متعلق وسیع تر سفارتی اور قانونی تنازع اس ووٹنگ سے ختم نہیں ہوگا۔ پابندیوں کے نفاذ، اسنیپ بیک کی قانونی حیثیت، قرارداد 2231 کے اثرات اور ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی جیسے معاملات پر سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے درمیان اختلاف برقرار رہنے کا امکان ہے۔
تازہ پیش رفت نے ایک مرتبہ پھر یہ واضح کردیا ہے کہ ایران کے جوہری مسئلے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں صرف پابندیوں کے نفاذ کا سوال ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون، قرارداد 2231 کی تشریح، JCPOA کی حیثیت اور سفارتی حل کے مستقبل پر بھی بنیادی اختلاف موجود ہے۔



