پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

دہشت گردی کا مقابلہ صرف طاقت سے نہیں، مضبوط آئینی نظام اور بروقت انصاف بھی ضروری: اسپیکر پنجاب اسمبلی

دہشت گردی کے خلاف قربانیاں ناقابلِ فراموش، پائیدار امن کے لیے سیاسی استحکام، قانون کی حکمرانی اور بروقت انصاف ناگزیر: اسپیکر پنجاب اسمبلی

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش سکیورٹی، سیاسی اور انتظامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام، قانون کی حکمرانی، مؤثر اداروں اور عوام کو بروقت انصاف کی فراہمی پر بھی یکساں توجہ دینا ہوگی۔

دیپالپور کے نئے جوڈیشل کمپلیکس میں وکلاء کے چیمبرز کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں طویل عرصے تک مشکلات کا سامنا کیا ہے، جس کے دوران شہریوں، طلباء، عبادت گزاروں، وکلاء اور معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں۔

ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران و اہلکاروں نے بھی ملک کے امن، سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور دہشت گردی کے خلاف قومی جدوجہد میں شہداء کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی اور قومی سلامتی کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، تاہم دیرپا اور پائیدار امن کے لیے صرف سکیورٹی اقدامات کافی نہیں۔ ان کے مطابق سیاسی استحکام، قانون کی حکمرانی، مضبوط ادارے، آئینی نظام اور شہریوں کو بروقت انصاف کی فراہمی بھی امن کے قیام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

پائیدار امن کے لیے مضبوط ادارے ضروری

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ پاکستان کو ایک مضبوط، مستحکم اور آئینی نظام کی ضرورت ہے جس میں ریاستی ادارے اپنے متعین آئینی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے ذمہ داریاں ادا کریں۔

انہوں نے زور دیا کہ ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے ساتھ اداروں کی مضبوطی اور قانون کی یکساں عملداری بھی ضروری ہے۔ ان کے بقول مؤثر حکمرانی اور قانون کی حکمرانی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عوامل ہیں، جن کے بغیر عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مستحکم کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

ملک محمد احمد خان نے کہا کہ عوام کو بروقت اور مؤثر انصاف کی فراہمی ریاستی نظام کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے، اس لیے عدالتی نظام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رہنا چاہیے۔

بینچ اور بار نظام انصاف کے اہم ستون

بینچ اور بار کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ عدلیہ اور وکلاء برادری نظامِ انصاف کے بنیادی ستون ہیں۔ مؤثر انصاف کی فراہمی کے لیے دونوں کے درمیان بہتر رابطہ، تعاون اور پیشہ ورانہ ہم آہنگی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر عوام کو بروقت انصاف فراہم کرنا ہے تو عدالتی نظام کے ساتھ ساتھ انتظامی ڈھانچے میں بھی ضروری اصلاحات کرنا ہوں گی۔ ان کے مطابق عدالتوں میں مقدمات کے بروقت فیصلوں کے لیے عدالتی اصلاحات اہم ہیں، جبکہ عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی اور انتظامی معاملات میں بہتری کے لیے انتظامی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔

اسپیکر نے کہا کہ ایک مضبوط عدالتی نظام، مؤثر انتظامیہ اور ذمہ دار جمہوری ادارے مل کر شہریوں کو بہتر انصاف اور عوامی خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔

اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پر زور

ملک محمد احمد خان نے جمہوری نظام میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر منتخب نمائندوں کو مؤثر اختیارات اور ذمہ داریاں دینے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے علاقوں کے عوامی مسائل کو زیادہ بہتر انداز میں حل کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ آئین ریاستی اداروں اور حکومت کی مختلف سطحوں کے اختیارات اور ذمہ داریوں کا تعین کرتا ہے، اس لیے تمام اداروں کو اپنے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے فرائض انجام دینے چاہئیں۔

اسپیکر کے مطابق فیصلہ سازی کے عمل کو عوام کے قریب لانے سے عوامی نمائندگی زیادہ مؤثر بن سکتی ہے، جبکہ مقامی ضروریات، ترقیاتی ترجیحات اور اراضی کے استعمال جیسے معاملات میں منتخب نمائندوں کا فعال کردار جمہوری حکمرانی کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

دیپالپور بار کے لیے وکلاء چیمبرز اہم منصوبہ قرار

اس موقع پر ملک محمد احمد خان نے پنجاب کے وزیر قانون رانا محمد اقبال خان کے ہمراہ دیپالپور کے نئے جوڈیشل کمپلیکس میں وکلاء کے چیمبرز کا افتتاح کیا۔

اسپیکر نے وکلاء چیمبرز کے منصوبے کو قانونی برادری کی پیشہ ورانہ ضروریات پوری کرنے کی جانب اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کو بہتر پیشہ ورانہ ماحول اور ضروری سہولیات کی فراہمی سے قانونی خدمات کے معیار میں بھی بہتری لائی جا سکتی ہے۔

انہوں نے وکلاء کو یقین دلایا کہ منصوبے کے آئندہ مراحل، بالخصوص اراضی کے حصول سے متعلق معاملات میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا اور منصوبے کی جلد تکمیل کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

آئین اور قانون کی پاسداری میں وکلاء کا کردار اہم

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ قانونی برادری نے ملک میں آئین، قانون اور انصاف کے اصولوں کی پاسداری کے لیے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء نہ صرف عدالتوں میں شہریوں کے قانونی حقوق کا دفاع کرتے ہیں بلکہ آئینی اور قانونی شعور کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں، عدلیہ، انتظامیہ اور قانونی برادری کے درمیان مؤثر رابطہ شہریوں کو بہتر انصاف اور عوامی خدمات کی فراہمی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

ملک محمد احمد خان نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کو درپیش مختلف چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی استحکام، آئینی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عوامی نمائندگی کو مؤثر بنانا ضروری ہے۔

سیاسی استحکام اور انصاف کا باہمی تعلق

اسپیکر نے کہا کہ پائیدار امن اور معاشرتی استحکام کے لیے سیاسی نظام کا مستحکم ہونا بھی اہم ہے۔ ان کے مطابق جب ادارے مؤثر انداز میں کام کریں، قانون سب کے لیے یکساں ہو اور شہریوں کو بروقت انصاف میسر آئے تو ریاستی نظام پر اعتماد کو مضبوط بنانے میں مدد ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سمیت قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرتے ہوئے ریاستی اداروں کی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ ایسے انتظامی اور قانونی اقدامات بھی ضروری ہیں جو شہریوں کے مسائل کے حل اور انصاف تک رسائی کو آسان بنائیں۔

تقریب کے اختتام پر اسپیکر نے قانونی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ آئین، قانون اور انصاف کی بالادستی کے لیے بینچ اور بار سمیت تمام متعلقہ اداروں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔

تقریب میں ارکان پنجاب اسمبلی افتخار حسین چھچھڑ، ملک علی عباس کھوکھر، نور الامین وٹو اور ملک تیمور احمد خان، سابق رکن قومی اسمبلی راؤ اجمل، قانونی برادری اور عدلیہ کے اراکین سمیت دیگر ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button