بین الاقوامی

نائن الیون کے حملوں سے جرمنی کا کیا تعلق تھا

محمد عطا اور اس کے ساتھی ہیمبرگ کے علاقے ہاربُرگ میں ایک اپارٹمنٹ میں رہتے تھے۔ تفتیش کاروں کے مطابق وہاں سے ہی ان حملوں کی تیاری اور رابطہ کاری کا مرکزی کام انجام دیا گیا تھا۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
مارسل فُرسٹناؤ | ادارت 

11 ستمبر کے حملوں کے بعد اُس وقت کے جرمن صدر یوہانس راؤ نے کہا تھا، ’’آج کے دن نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔‘‘ ان حملوں کی منصوبہ بندی کا ایک اہم حصہ جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں تیار کیا گیا تھا۔

11 ستمبر 2001 کو چار مسافر طیاروں کو ہائی جیک کر کے انہیں ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ متاثرین میں 92 ممالک کے شہری شامل تھے، جن میں 11 جرمن بھی تھے۔

ہیمبرگ میں انتہا پسندی کی بنیاد

مرکزی منصوبہ سازوں میں مصری نژاد محمد عطا بھی شامل تھا، جو 1990 کی دہائی کے اوائل میں تعلیم کے حصول کے لیے ہیمبرگ آیا تھا۔ بعد ازاں وہ انتہا پسند نظریات کی طرف مائل ہو گیا۔ جرمن حکام کے مطابق اس میں ہیمبرگ کی القدس مسجد کا گہرا عمل دخل تھا جسے بعد میں بند کر دیا گیا۔

محمد عطا اور اس کے ساتھی ہیمبرگ کے علاقے ہاربُرگ میں ایک اپارٹمنٹ میں رہتے تھے۔ تفتیش کاروں کے مطابق وہاں سے ہی ان حملوں کی تیاری اور رابطہ کاری کا مرکزی کام انجام دیا گیا تھا۔

’ہیمبرگ سیل‘  اور مقدمات

نام نہاد ”ہیمبرگ سیل‘‘ میں چھ افراد شامل سمجھے جاتے تھے۔ ان میں مراکشی شہری منیر المتصدق بھی شامل تھا، جسے نائن الیون حملوں سے متعلق دنیا کے ابتدائی مقدمات میں سے ایک میں عدالت کے کٹہرے میں لایا گیا تھا۔

2003 میں جرمن عدالت نے اسے دہشت گرد تنظیم کی رکنیت اور ہزاروں قتل میں معاونت کے جرم میں 15 سال قید کی سزا سنائی۔ سزا مکمل کرنے کے بعد اسے مراکش واپس بھیج دیا گیا۔

26 اگست 2011 کو جاری کی گئی اس آرکائیو تصویر میں نام نہاد "ہیمبرگ دہشت گرد سیل" کے ارکان دکھائے گئے ہیں۔ اوپر بائیں سے دائیں: زکریا عیصبار، عبد اللہ بن الشیبہ، سعید بہاجی۔ نیچے بائیں سے دائیں: منیر المتصدق، محمد عطا اور عبدالغنی مزودی۔ یہ افراد 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں سے منسلک ہیمبرگ سیل کے ارکان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ (dpa کی رپورٹ: "11 ستمبر کے حملوں کے مجرم اور پس پردہ کردار")
"ہیمبرگ سیل” نے 11 ستمبر 2001 کے امریکی حملوں میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ تصویر میں اوپر بائیں سے دائیں: زکریا عیصبار، عبداللہ بن الشیبہ اور سعید بہاجی، جبکہ نیچے بائیں سے دائیں: منیر المتصدق، محمد عطا اور عبدالغنی مزودی دکھائی دے رہے ہیں، فائل فوٹوتصویر: dpa/picture alliance

گوانتانامو اور جرمنی

نائن الیون حملوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف شروع ہونے والی عالمی جنگ کے دوران جرمنی کو ایک اور متنازع معاملے کا سامنا کرنا پڑا۔ جرمن شہر بریمن میں پیدا ہونے والے مراد کورناز کو امریکی حکام نے گوانتانامو بے کے حراستی مرکز میں برسوں تک قید رکھا، حالانکہ بعد ازاں ان کے خلاف دہشت گردی کی کسی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے نہیں آ سکے۔

وہ تقریباً پانچ برس قید میں رہنے کے بعد 2006 میں رہا ہوئے۔ بعد ازاں ان کے معاملے نے جرمنی میں سیاسی اور قانونی بحث کو جنم دیا اور اس حوالے سے پارلیمانی تحقیقات بھی ہوئیں۔

انسداد دہشت گردی قوانین میں بڑی تبدیلیاں

نائن الیون کے بعد جرمنی نے اپنی سکیورٹی پالیسی میں تاریخی تبدیلیاں کیں۔ اُس وقت کے چانسلر گیرہارڈ شروئڈر نے امریکہ کے ساتھ  ”غیر مشروط یکجہتی‘‘ کا اعلان کیا اور جرمن پارلیمان نے چند ہی ماہ کے اندر انسدادِ دہشت گردی کے سخت قوانین کی منظوری دے دی۔

ان قوانین کے تحت:

  • پولیس اور خفیہ اداروں کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا۔
  • انٹیلیجنس ایجنسیوں کو بینکوں، ایئر لائنز اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کے ڈیٹا تک رسائی دے دی گئی۔
  • امیگریشن قوانین سخت کیے گئے۔
  • مشتبہ ”سلیپر سیلز‘‘ کی نشاندہی کے لیے وسیع ڈیٹا جانچ کا نظام متعارف کرایا گیا۔
  • بعد ازاں جرمن آئینی عدالت نے ان میں سے بعض اقدامات کو غیر آئینی قرار دیا اور ریاستی اختیارات پر حدود متعین کیں۔

افغانستان کی جنگ میں جرمنی کا کردار

11 ستمبر کے حملوں کے سب سے بڑے سیاسی اور عسکری نتائج میں سے ایک افغانستان جنگ تھی۔ امریکہ نے اکتوبر 2001 میں طالبان حکومت کے خلاف کارروائی شروع کی جبکہ جرمنی دسمبر 2001 میں امریکی قیادت میں قائم اتحاد میں شامل ہو گیا۔

یہ جنگ تقریباً 20 برس جاری رہی اور اس کا 2021 میں طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی پر اختتام ہوا۔ اس دوران 59 جرمن فوجی اور تین جرمن پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔

نائن الیون کے حملوں نے جرمنی کو یہ احساس دلایا کہ بین الاقوامی دہشت گردی کا خطرہ اس کی سرحدوں سے کہیں زیادہ قریب ہے۔ ہیمبرگ میں موجود ایک چھوٹے سے گروپ کا تعلق دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد حملے سے نکلنا جرمن سکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا جھٹکا تھا۔

جرمنی کے لیے یہ صرف امریکہ پر حملہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے اس کی داخلی سلامتی، قوانین اور خارجہ پالیسی کی سمت بھی ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button