بین الاقوامیاہم خبریں

حوثیوں کی مکہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کا سعودی دعویٰ، حوثیوں کی تردید

ریاض کا کہنا تھا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے 2017 میں یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے مکہ مکرمہ کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیا تھا۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
اے پی کے ساتھ

سعودی قیادت میں یمن کے حوثیوں کے خلاف لڑنے والے اتحاد نے بدھ کو حوثی باغیوں پر اسلام کے مقدس شہر مکہ کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا۔
حوثیوں نے ریاض کی اس رپورٹ کو فوری طور پر ’’جھوٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک ڈرون کو مار گرایا۔

ڈرون کو منگل کی شام سعودی وقت کے مطابق چھ بج کر 50 منٹ پر مکہ مکرمہ کے جنوب میں روک کر تباہ کیا گیا۔

یمن میں اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بدھ کی صبح جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش ’ریڈ لائن‘ ہے۔

المالکی نے کہا، ’’حرمین شریفین اور زائرین کی سلامتی ایک ریڈ لائن ہے اور اتحادی افواج کی مشترکہ کمان دہشت گرد حوثی ملیشیا کے خلاف ضروری اور مؤثر اقدامات کرنے سے دریغ نہیں کرے گی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ حوثیوں کی یہ کوشش ’دہشت گرد حوثی ملیشیا کی طرف سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کے ریکارڈ پر ایک سیاہ دھبہ‘ رہے گی اور اسے لاکھوں مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے کی دانستہ کوشش قرار دیا۔

یہ واقعہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف حملوں میں شدت کی نشاندہی کے طور پر سامنے آیا ہے۔

یمن کے حوثی باغی صنعا میں ایک مارچ میں حصہ لے رہے ہیں (فائل فوٹو)
حوثیوں  کی طرف سے مبینہ طور پر مکہ کو نشانہ بنانے کے سعودی دعوے سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں تشویش پیدا ہونے کا امکان ہےتصویر: AP Photo/picture alliance

حوثیوں نے الزامات کی تردید کر دی

حوثیوں نے فوری طور پر ریاض کی اس رپورٹ کو ’’جھوٹ‘‘ قرار دے دیا جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب نے باغیوں کا ایک ڈرون مار گرایا ہے جو سعودی شہر مکہ کی جانب بڑھ رہا تھا۔

حوثیوں کے ترجمان حزام الاسد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’مکہ کو نشانہ بنانے کا الزام ایک پرانا جھوٹ ہے، جو پہلے بھی استعمال ہو چکا ہے اور اب کوئی اس دھوکے میں نہیں آتا۔‘‘

مکہ مکرمہ اسلام کا مقدس ترین مقام ہے۔ دنیا بھر سے مسلمان اس شہر اور اس کے مقدس مقامات کا رخ کرتے ہیں۔

ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں  کی طرف سے مبینہ طور پر مکہ کو نشانہ بنانے کے سعودی دعوے سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں تشویش پیدا ہونے کا امکان ہے۔

او آئی سی کا لوگو
او آئی سی نے اسے ’’گھناؤنا‘‘ حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہےتصویر: Yasser Al-Zayyat/AFP/Getty Images

او آئی سی نے حملے کی مذمت کی

57 مسلم ممالک پر مشتمل تنظیم اسلامی تعاون (او آئی سی) نے اسے ’’گھناؤنا‘‘ حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

سعودی عرب نے منگل کو مکہ اور یمن سے متصل مملکت کے جنوبی علاقوں کے مختلف حصوں میں ممکنہ حملوں کے حوالے سے مختصر انتباہات جاری کیے تھے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب نے پہلے بھی مکہ مکرمہ کے اطراف میں حوثیوں کی جانب سے میزائل داغے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔

ریاض کا کہنا تھا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے 2017 میں یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے مکہ مکرمہ کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button