بین الاقوامیاہم خبریں

امریکا کی 23 ممالک پر مشتمل ’میجر ڈرگ لسٹ‘ جاری، پاکستان، بھارت اور چین بھی شامل

یہ درجہ بندی عام ’Major’s List‘ سے الگ اہمیت رکھتی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ان چار ممالک سے انسدادِ منشیات کے اقدامات بہتر بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
مد ثر احمد-ادارت

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مالی سال 2027 کے لیے 23 ممالک کو ’میجر ڈرگ ٹرانزٹ یا میجر الیگل ڈرگ پروڈیوسنگ کنٹریز‘ کی فہرست میں برقرار رکھا ہے، جس میں پاکستان، بھارت اور چین بھی شامل ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ صدارتی تعیین 15 ستمبر 2026 کو امریکی کانگریس کو پیش کی۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق فہرست میں شامل ممالک وہ ہیں جنہیں امریکا غیر قانونی منشیات یا ان سے متعلق کیمیکلز کی پیداوار یا امریکا تک ترسیل کے حوالے سے اہم سمجھتا ہے۔

تاہم امریکی قانونی نظام کے تحت کسی ملک کا اس فہرست میں شامل ہونا بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتا کہ اس ملک کی حکومت منشیات کے خلاف کارروائی میں ناکام رہی ہے یا امریکا کے ساتھ انسدادِ منشیات کے تعاون میں کمی کر رہی ہے۔ اس فہرست کا مقصد بنیادی طور پر ان ممالک کی نشاندہی کرنا ہے جہاں سے غیر قانونی منشیات کی پیداوار یا ترسیل کے حوالے سے امریکا کو اہم خطرات یا چیلنجز درپیش سمجھے جاتے ہیں۔

23 ممالک کی فہرست

امریکی صدارتی تعیین کے مطابق مالی سال 2027 کے لیے جن 23 ممالک کو Major Drug Transit or Major Illicit Drug Producing Countries قرار دیا گیا ہے، ان میں:

افغانستان، بہاماس، بیلیز، بولیویا، برما، چین، کولمبیا، کوسٹا ریکا، ڈومینیکن ریپبلک، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہیٹی، ہونڈوراس، بھارت، جمیکا، لاؤس، میکسیکو، نکاراگوا، پاکستان، پاناما، پیرو اور وینزویلا شامل ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ اس سال بھی مجموعی فہرست میں 23 ممالک شامل ہیں، تاہم ان میں سے صرف چار ممالک کے بارے میں الگ سے یہ تعین کیا گیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران بین الاقوامی انسدادِ منشیات کی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے ”failed demonstrably“ یعنی نمایاں طور پر ناکافی اقدامات کیے۔

افغانستان، بولیویا، برما اور کولمبیا کے لیے اضافی تعیین

امریکی صدر نے افغانستان، بولیویا، برما اور کولمبیا کو ان ممالک کی مخصوص کیٹیگری میں رکھا ہے جنہوں نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران بین الاقوامی انسدادِ منشیات کے معاہدوں اور ذمہ داریوں کے تحت خاطر خواہ کوششیں نہیں کیں۔

یہ درجہ بندی عام ’Major’s List‘ سے الگ اہمیت رکھتی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ان چار ممالک سے انسدادِ منشیات کے اقدامات بہتر بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

امریکی قانون کے تحت صدر ہر سال کانگریس کو ان ممالک کی فہرست پیش کرتے ہیں جو بڑے منشیات پیدا کرنے یا ترسیلی ممالک سمجھے جاتے ہیں، اور ساتھ ہی ان ممالک کی بھی نشاندہی کی جاتی ہے جن کے بارے میں گزشتہ 12 ماہ کے دوران انسدادِ منشیات کی کوششوں میں نمایاں ناکامی کا تعین کیا گیا ہو۔

پاکستان کے حوالے سے اہم وضاحت

پاکستان کا نام 23 ممالک کی فہرست میں شامل ہے، تاہم دستیاب امریکی صدارتی تعیین میں پاکستان کو ان چار ممالک کے ساتھ شامل نہیں کیا گیا جنہیں ”failed demonstrably“ کی مخصوص کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔

اس فرق کو رپورٹ کرتے ہوئے دونوں درجہ بندیوں کو الگ رکھنا اہم ہے، کیونکہ ’Major Drug Transit or Major Illicit Drug Producing Country‘ قرار دیا جانا اور انسدادِ منشیات کی ذمہ داریوں میں ’نمایاں ناکامی‘ کا تعین ایک ہی چیز نہیں ہیں۔

امریکی قانون میں ’Major’s List‘ کے لیے جغرافیائی، تجارتی اور دیگر متعلقہ عوامل بھی اہمیت رکھتے ہیں، جبکہ ’failed demonstrably‘ کا تعین کسی ملک کی انسدادِ منشیات سے متعلق کوششوں، بین الاقوامی وعدوں اور قانونی و انتظامی اقدامات کے جائزے سے متعلق ہے۔

بھارت بھی فہرست میں، مگر امریکی تعریف میں مختلف صورتحال

بھارت بھی 2027 کی فہرست میں شامل ہے، تاہم امریکی صدارتی تعیین میں نئی دہلی کی جانب سے غیر قانونی افیون کی کاشت کے خلاف اقدامات اور سپلائی چین کی نگرانی بہتر بنانے کی کوششوں کو مثبت طور پر بیان کیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور بھارتی حکومت کی جانب سے غیر قانونی افیون کی کاشت کے خاتمے اور سپلائی چین کی سالمیت بہتر بنانے کے اقدامات کا خیرمقدم کیا۔

یوں بھارت کا فہرست میں شامل ہونا اس مخصوص امریکی دستاویز کے مطابق اسے انسدادِ منشیات کی کوششوں میں ناکام قرار دینے کے مترادف نہیں ہے۔

وینزویلا کی پوزیشن میں تبدیلی

اس سال کی صدارتی تعیین میں وینزویلا ایک اہم تبدیلی کے ساتھ فہرست میں موجود ہے۔ اگرچہ وینزویلا 23 ممالک کی مجموعی ’Major’s List‘ میں شامل ہے، لیکن اسے ان ممالک کی مخصوص فہرست سے نکال دیا گیا ہے جنہیں گزشتہ سال منشیات کے خلاف بین الاقوامی ذمہ داریوں میں نمایاں ناکام قرار دیا گیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق اس تبدیلی کے پس منظر میں کاراکاس کے ساتھ سیکیورٹی تعاون میں بہتری اور بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔

یہ تبدیلی اس اعتبار سے بھی قابلِ ذکر ہے کہ وینزویلا گزشتہ برس ’failed demonstrably‘ کیٹیگری میں شامل تھا، جبکہ مالی سال 2027 کی نئی تعیین میں افغانستان، بولیویا، برما اور کولمبیا اس مخصوص درجہ بندی میں رہ گئے ہیں۔

’میجر ڈرگ کنٹری‘ کا مطلب کیا ہے؟

امریکی قانون اور پالیسی میں ’Major Drug Transit or Major Illicit Drug Producing Country‘ سے مراد ایسا ملک ہے جسے غیر قانونی منشیات کی پیداوار یا ان کی بین الاقوامی ترسیل کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔

یہ ضروری نہیں کہ اس ملک کی حکومت خود منشیات کی پیداوار یا اسمگلنگ میں ملوث ہو، یا یہ کہ حکومت انسدادِ منشیات کے لیے کوئی اقدامات نہیں کر رہی۔

درجہ بندی میں جغرافیائی محل وقوع بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ بعض ممالک بڑے عالمی پیداواری مراکز اور صارف منڈیوں کے درمیان واقع ہونے کے باعث منشیات کی ترسیل کے راستوں میں اہمیت اختیار کر جاتے ہیں، جبکہ بعض ممالک میں مخصوص منشیات یا ان کے پیش خیمہ کیمیکلز کی پیداوار ایک اہم عنصر بن سکتی ہے۔

’Failed Demonstrably‘ ایک الگ قانونی تصور

امریکی کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق امریکی قانون صدر کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ سالانہ بنیاد پر ان ممالک کی نشاندہی کریں جنہوں نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران غیر قانونی منشیات کے خلاف بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے ’substantial efforts‘ نہیں کیے۔ ایسے ممالک کے حوالے سے بعض امریکی امدادی پابندیاں بھی قانونی طور پر لاگو ہو سکتی ہیں، اگرچہ امریکی صدر قومی مفاد کی بنیاد پر بعض امداد کی فراہمی کی اجازت دے سکتے ہیں۔

اسی لیے موجودہ تعیین میں پاکستان، بھارت یا چین کا نام 23 ممالک کی مجموعی فہرست میں ہونا اور افغانستان، بولیویا، برما یا کولمبیا کا ’failed demonstrably‘ کیٹیگری میں شامل ہونا الگ الگ معاملات ہیں۔

امریکا کی نئی انسدادِ منشیات پالیسی

ٹرمپ انتظامیہ نے رواں سال اپنی انسدادِ منشیات پالیسی میں بیرونِ ملک منشیات کی پیداوار، اسمگلنگ اور ان سے متعلق کیمیکلز کی ترسیل کو روکنے پر خاص توجہ مرکوز کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی 2026 کی نیشنل ڈرگ کنٹرول اسٹریٹیجی میں غیر قانونی منشیات اور ان کے پیش خیمہ کیمیکلز کی امریکا تک رسائی روکنے، سرحدی نگرانی بہتر بنانے اور ان ممالک کو زیادہ جواب دہ بنانے پر زور دیا گیا ہے جہاں سے ایسی منشیات یا کیمیکلز کی سپلائی آتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق انتظامیہ کا مقصد منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی اور امریکا میں غیر قانونی منشیات کی دستیابی کم کرنا ہے۔

پاکستان کے لیے فہرست کی اہمیت

پاکستان کا نام اس فہرست میں برقرار رہنا اسلام آباد کے لیے ایک اہم سفارتی اور انسدادِ منشیات پالیسی کا معاملہ ہے، تاہم اس دستاویز سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ امریکا نے پاکستان کو منشیات کے خلاف کارروائی میں ’نمایاں طور پر ناکام‘ قرار دیا ہے۔

دستاویز میں پاکستان کا نام ان 23 ممالک میں موجود ہے جنہیں امریکا منشیات کی پیداوار یا ترسیل کے حوالے سے اہم سمجھتا ہے، لیکن ’failed demonstrably‘ والی مخصوص فہرست میں پاکستان شامل نہیں ہے۔

یہ فرق پاکستان کے بارے میں امریکی صدارتی تعیین کی تشریح کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور خبر میں دونوں اصطلاحات کو یکساں معنی میں استعمال کرنا گمراہ کن ہوسکتا ہے۔

عالمی سطح پر انسدادِ منشیات کی کوششیں

امریکی حکومت کی جانب سے 23 ممالک کی نئی فہرست کا اجرا ایسے وقت میں ہوا ہے جب واشنگٹن عالمی سطح پر فینٹانائل، مصنوعی منشیات، ان کے پیش خیمہ کیمیکلز اور بین الاقوامی اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کو اپنی ترجیحات میں شامل کر رہا ہے۔

15 ستمبر کو ہی وائٹ ہاؤس کے دفتر برائے نیشنل ڈرگ کنٹرول پالیسی نے فینٹانائل کی بعض انتہائی طاقتور اقسام سے متعلق بھی ایک الگ ڈرگ تھریٹ نوٹس جاری کیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق فینٹانائل سے متعلق مصنوعی مرکبات امریکا میں منشیات کے بحران کا اہم حصہ ہیں۔

یوں مالی سال 2027 کی ’Major’s List‘ صرف ممالک کی ایک فہرست نہیں بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی وسیع تر انسدادِ منشیات حکمت عملی کا حصہ ہے، جس میں منشیات کی پیداوار، بین الاقوامی ترسیل، پیش خیمہ کیمیکلز اور اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔

مجموعی طور پر امریکی صدارتی تعیین میں پاکستان، بھارت اور چین سمیت 23 ممالک کو بڑے منشیات پیدا کرنے یا ترسیلی ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، تاہم پاکستان کو ان چار ممالک میں شامل نہیں کیا گیا جن کے بارے میں امریکا نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران انسدادِ منشیات کی ذمہ داریوں میں ’نمایاں ناکامی‘ کا الگ تعین کیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button