
سید عاطف ندیم-ادارت
جنوبی ایشیا کے جوہری طاقت کے حامل ملک پاکستان میں، حکومت نے ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے فیول سبسڈی کا آغاز کیا ہے جس کا نفاذ بدھ سے ہو چکا ہے۔
موسمِ سرما کے دوران پاکستان کے شعبہ بجلی کو روزانہ 400 ملین مکعب فٹ تک گیس کی ضرورت ہوگی۔
تاہم، اس سبسڈی کے حصول کے لیے گاڑیوں کے مالکان کو رجسٹریشن کروانا لازمی ہے اور یہ پروگرام آسانی سے کام نہیں کر رہا۔ کراچی کے رہائشی محمد مشرف کا کہنا ہے کہ وہ اپنی موٹر سائیکل اور شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے رجسٹریشن کروانے کی کوشش میں کئی دن گزار چکے ہیں لیکن انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔
ان مصائب کے بارے میں انہوں نے کہا،’’سب سے پہلے تو آپ کو اپنی گاڑی کی رجسٹریشن کروانی پڑتی ہے۔ پھر آپ کو اپنے موبائل فون کی رجسٹریشن کروانی ہوتی ہے۔ اگر شرائط اتنی مشکل ہوں تو ایک ان پڑھ شخص کیسے گزارا کر سکتا ہے؟‘‘
اُدھر بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں، کھانا پکانے کے اوقات کا تعین محلے میں پائپ لائن کے ذریعے گیس کی فراہمی کے مطابق کرنا پڑ رہا ہے۔ عالمی توانائی بحران کے باعث گیس کی فراہمی میں تعطل کی وجہ سے، بنگلہ دیشی باشندوں کو اب کبھی کبھار رات کے کھانے کی تیاری کے لیے آدھی رات تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔

یہاں تک کہ انڈکشن ککر کا استعمال بھی کارگر ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ بجلی کی بندش کے باعث اکثر کھانا ادھورا ہی پک پاتا ہے۔
چھ ماہ قبل ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے راستے تیل اور گیس کی برآمدات میں خلل پیدا ہوا تھا۔ اب ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا اور سعودی عرب کے درمیان جاری لڑائی نے بحیرہ احمر کے راستے ہونے والی تجارت کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ان دو اہم گزرگاہوں پر درپیش مسائل کی وجہ سے ایشیا میں مائع قدرتی گیس (LNG) کی قیمتیں اس ہفتے دوبارہ 30 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹس کی سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ جنگ سے قبل یہ قیمت تقریباً 10 ڈالر تھی اور رواں سال کے دوران قیمتوں میں اس طرح کا یہ دوسرا بڑا اضافہ ہے۔
بین الاقوامی توانائی کمپنی شیل (Shell) کے اندازے کے مطابق رواں سال اب تک عالمی منڈی کو مشرقِ وسطیٰ سے تقریباً 3 کروڑ 60 لاکھ ٹن مائع قدرتی گیس (LNG) کم ملی ہے۔ اس قلت کے اثرات خاص طور پر ان ممالک پر زیادہ پڑ رہے ہیں جہاں حکومتوں کے پاس توانائی کی قیمتوں یا فراہمی کے بحران سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل محدود ہیں۔



