
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد/نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ عالمی ادارے کے امن مشنز کو واضح سیاسی سمت، مستقل سیاسی حمایت اور مناسب وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ دنیا کے مختلف تنازعات اور بحرانوں میں تعینات امن دستے اپنے فرائض مؤثر انداز میں انجام دے سکیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 18 ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ کے امن مشنز اور امن کارروائیوں پر ہونے والی بحث سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ امن مشنز کی کامیابی کے لیے مضبوط سیاسی پشت پناہی اور مربوط حکمت عملی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ سلامتی کونسل کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق اجلاس 10226 کے عنوان سے منعقد ہوا۔
امن مشنز صرف فوجی تعیناتی کا نام نہیں: پاکستان
سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں اس امر پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کے امن مشنز کو محض فوجی یا سکیورٹی کارروائی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ انہیں سیاسی عمل، تنازعات کے تدارک اور پائیدار امن کی کوششوں کے ساتھ مربوط انداز میں آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
ان کے مطابق امن مشنز ایسے حالات میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جہاں مکمل سیاسی حل فوری طور پر ممکن نہ ہو۔ مؤثر امن دستے تشدد میں کمی لانے، شہریوں کے تحفظ میں مدد دینے اور سیاسی مذاکرات کی بحالی کے لیے سازگار ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔
سیاسی عمل اور امن مشنز ایک دوسرے کے متبادل نہیں
پاکستانی مندوب نے کہا کہ اگرچہ تنازعات کے پائیدار حل کے لیے سیاسی عمل کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، تاہم سیاسی مذاکرات کے انتظار میں عملی اقدامات کو روک دینا ضروری نہیں۔
ان کے مطابق امن مشنز سیاسی عمل کے ساتھ ساتھ کام کر سکتے ہیں اور ان کا کردار تشدد کو محدود کرنے اور فریقین کو دوبارہ سیاسی مذاکرات کی طرف لانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ مؤقف اقوام متحدہ کے امن مشنز کے اس تصور پر زور دیتا ہے جس میں سکیورٹی اقدامات اور سیاسی سفارت کاری کو ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
مینڈیٹ واضح اور زمینی ضرورتوں کے مطابق ہونا چاہیے
سفیر عاصم افتخار نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ امن مشنز کے مینڈیٹ واضح، حقیقت پسندانہ اور زمینی حالات کے مطابق ہونے چاہئیں۔
ان کے مطابق امن دستوں کو ایسی ذمہ داریاں سونپی جانی چاہئیں جنہیں وہ دستیاب وسائل، افرادی قوت اور عملی صلاحیتوں کے ساتھ مؤثر انداز میں پورا کر سکیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امن مشنز کو غیر واضح یا ضرورت سے زیادہ وسیع ذمہ داریاں دے دی جائیں اور ان کے مطابق وسائل فراہم نہ کیے جائیں تو اس سے مشن کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔
پہلے سیاسی اہداف، پھر مینڈیٹ اور وسائل
پاکستانی مندوب نے امن مشنز کی منصوبہ بندی کے حوالے سے ایک واضح ترتیب کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کے مطابق پہلے سیاسی اہداف کا تعین ہونا چاہیے، اس کے بعد ان اہداف کے حصول کے لیے مناسب مینڈیٹ وضع کیا جائے اور پھر مطلوبہ وسائل مختص کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ مختلف تنازعات کی نوعیت ایک جیسی نہیں ہوتی، اس لیے ہر امن مشن کے لیے یکساں فارمولہ اختیار کرنے کے بجائے مخصوص حالات اور ضروریات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
’ہر تنازع کے لیے ایک ہی فارمولا مؤثر نہیں‘
سفیر عاصم افتخار کے مطابق مختلف خطوں میں جاری تنازعات کی نوعیت، سیاسی حالات، سکیورٹی چیلنجز اور مقامی ضروریات ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔
اسی لیے امن مشنز کے لیے مخصوص اور مرکوز مینڈیٹ ضروری ہے تاکہ سیاسی مقاصد، امن دستوں کی ذمہ داریوں اور دستیاب صلاحیتوں کے درمیان واضح تعلق قائم رہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی توجہ مرکوز حکمت عملی وسائل کے مؤثر استعمال اور امن مشنز کی مجموعی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے امن نظام کو جدید بنانے پر زور
پاکستان نے سلامتی کونسل سے کہا کہ مستقبل کے سکیورٹی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ کے امن مشنز کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔
سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ دنیا میں تنازعات کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے اور امن مشنز کو بھی نئے حالات سے نمٹنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہوگا۔
تاہم انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اصلاحات کے عمل میں امن مشنز کی بنیادی خصوصیات کو متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
عالمی سطح پر اقوام متحدہ کی قانونی حیثیت برقرار رکھنے کی ضرورت
پاکستانی مندوب نے کہا کہ اقوام متحدہ کے امن مشنز کی ایک بنیادی طاقت ان کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ قانونی و سیاسی حیثیت ہے۔
ان کے مطابق امن مشنز کو مختلف ممالک سے اہلکاروں، تجربات اور صلاحیتوں کو یکجا کرنے کا منفرد موقع حاصل ہے، جبکہ اقوام متحدہ کا مربوط ادارہ جاتی ڈھانچہ بھی انہیں دیگر انتظامات سے ممتاز کرتا ہے۔
پاکستان نے زور دیا کہ جدید تقاضوں کے مطابق اصلاحات ضرور کی جائیں لیکن امن مشنز کی عالمی اور اجتماعی نوعیت کو برقرار رکھا جائے۔
پائیدار مالی معاونت ناگزیر قرار
سفیر عاصم افتخار نے امن مشنز کے لیے پائیدار مالی وسائل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ان کے مطابق کسی بھی امن مشن کو مؤثر بنانے کے لیے صرف اہلکار فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ انہیں مناسب تربیت، مواصلاتی نظام، لاجسٹک سہولیات، طبی معاونت اور دیگر ضروری وسائل بھی فراہم کرنا ہوتے ہیں۔
اگر مینڈیٹ اور وسائل میں توازن نہ ہو تو امن دستوں سے توقعات پوری کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
میزبان ملک کی رضامندی کو عملی تعاون میں بدلنے کی ضرورت
پاکستان نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ میزبان ریاست کی رضامندی کو صرف رسمی اصول کے طور پر نہیں بلکہ عملی تعاون کی بنیاد کے طور پر استعمال کیا جائے۔
اس کا مقصد یہ ہے کہ امن دستوں کو ان کے مینڈیٹ پر عملدرآمد کے لیے ضروری تعاون، رسائی اور عملی سہولیات میسر ہوں۔
پاکستان کے مطابق میزبان ملک اور امن مشن کے درمیان مؤثر رابطہ مشن کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
امن دستوں کی حفاظت بھی عالمی ذمہ داری
پاکستان نے اقوام متحدہ کے امن دستوں کی حفاظت اور ان کے لیے مناسب حالات کی فراہمی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
دنیا کے مختلف مشکل اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں امن دستے ایسے ماحول میں خدمات انجام دیتے ہیں جہاں انہیں مسلح گروہوں، سیاسی کشیدگی، کمزور ریاستی اداروں اور دیگر خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ایسے حالات میں امن دستوں کو مناسب تربیت، سازوسامان اور واضح قواعد فراہم کرنا ان کی حفاظت اور مشن کی کامیابی دونوں کے لیے اہم ہے۔
پاکستان چھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں شریک
سفیر عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کے طویل کردار کو بھی اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے اور بڑی تعداد میں پاکستانی اہلکار مختلف مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔
پاکستانی مندوب کے مطابق ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد پاکستانی امن اہلکار اقوام متحدہ کے پرچم تلے خدمات انجام دے چکے ہیں جبکہ 183 پاکستانی اہلکار امن مشنز میں اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔
پاکستان کی اقوام متحدہ امن مشنز میں طویل شرکت کا حوالہ اس کی جانب سے عالمی امن کے لیے اپنی عملی شراکت داری کو اجاگر کرنے کے تناظر میں دیا گیا۔
پاکستانی امن اہلکاروں کی قربانیاں
پاکستان نے امن مشنز کے دوران جانیں قربان کرنے والے اپنے اہلکاروں کی خدمات کو بھی سلامتی کونسل کے سامنے نمایاں کیا۔
اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 4,500 امن اہلکار فرائض کی انجام دہی کے دوران جانیں گنوا چکے ہیں، جن میں 183 پاکستانی اہلکار بھی شامل ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق یہ قربانیاں اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ امن مشنز میں خدمات انجام دینے والے اہلکار بعض اوقات انتہائی مشکل اور خطرناک حالات میں ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔
پاکستان UNMOGIP کی میزبانی بھی کر رہا ہے
سفیر عاصم افتخار نے پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ برائے بھارت و پاکستان (UNMOGIP) کی میزبانی کا بھی حوالہ دیا۔
UNMOGIP کا تعلق جموں و کشمیر میں جنگ بندی کی نگرانی سے ہے اور پاکستان طویل عرصے سے اس مشن کی میزبانی کرتا آ رہا ہے۔
پاکستانی مندوب کے مطابق فوج فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک امن مشن کی میزبانی کا تجربہ پاکستان کو اقوام متحدہ کی امن کارروائیوں کے عملی پہلوؤں کو سمجھنے کا ایک منفرد نقطہ نظر فراہم کرتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے ’اجتماعی عالمی ذمہ داری‘ پر زور
پاکستان کا مؤقف ہے کہ اقوام متحدہ کے امن مشنز کسی ایک ملک یا خطے کی ذمہ داری نہیں بلکہ عالمی برادری کی اجتماعی کوشش کا اظہار ہیں۔
سفیر عاصم افتخار نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں مختلف ممالک کی افرادی قوت، وسائل، تجربات اور صلاحیتوں کو یکجا کیا جاتا ہے، اس لیے ان کی کامیابی کے لیے بھی وسیع عالمی تعاون ضروری ہے۔
امن مشنز کو سیاسی حمایت کے ساتھ وسائل بھی درکار
پاکستانی مؤقف کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ امن مشنز سے مؤثر نتائج حاصل کرنے کے لیے صرف سیاسی بیانات کافی نہیں۔
سلامتی کونسل کو امن مشنز کے لیے واضح سیاسی اہداف، قابل عمل مینڈیٹ، مناسب مالی وسائل، مطلوبہ افرادی قوت اور ضروری عملی صلاحیتیں فراہم کرنا ہوں گی۔
پاکستان کے مطابق ان عناصر میں سے کسی ایک کی کمی امن مشن کی مجموعی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔
مستقبل کے تنازعات کے لیے ابھی سے تیاری کی ضرورت
سفیر عاصم افتخار نے سلامتی کونسل سے کہا کہ اقوام متحدہ کو مستقبل میں درکار امن مشنز کی صلاحیتوں کے بارے میں آج ہی تیاری شروع کرنا ہوگی۔
ان کے مطابق بدلتے ہوئے عالمی حالات میں تنازعات کی نوعیت بھی تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے امن کارروائیوں کے روایتی طریقہ کار کے ساتھ ساتھ نئی صلاحیتوں، جدید ٹیکنالوجی اور بہتر ادارہ جاتی رابطوں کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے امن مشنز کی منفرد خصوصیات برقرار رکھنے پر زور
پاکستان نے امن مشنز میں اصلاحات کی حمایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ جدید خطوط پر استوار کرنے کا عمل ان کی بنیادی خصوصیات کو متاثر نہیں کرنا چاہیے۔
پاکستان کے مطابق اقوام متحدہ کے امن مشنز کی نمایاں خصوصیات میں عالمی قانونی حیثیت، مختلف ممالک سے اہلکاروں اور صلاحیتوں کا حصول، مربوط ادارہ جاتی ڈھانچہ، پائیدار مالی معاونت اور کئی دہائیوں میں حاصل ہونے والا ادارہ جاتی تجربہ شامل ہیں۔
امن، سیاست اور سکیورٹی کو ایک ساتھ آگے بڑھانے کی ضرورت
پاکستانی مؤقف کا مجموعی خلاصہ یہ ہے کہ پائیدار امن صرف فوجی موجودگی سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
امن دستوں کو تشدد کم کرنے اور فوری سکیورٹی فراہم کرنے میں کردار ادا کرنا ہوتا ہے، جبکہ سیاسی عمل کو تنازع کے بنیادی اسباب اور اختلافات کے پائیدار حل کی طرف پیش رفت کرنا ہوتی ہے۔
اسی لیے پاکستان نے امن مشنز اور سیاسی عمل کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔
عالمی امن کے لیے پاکستان کا طویل کردار
پاکستان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں اس کی چھ دہائیوں سے زائد شرکت عالمی امن اور سلامتی کے لیے اس کی طویل عملی شراکت داری کی عکاسی کرتی ہے۔
پاکستانی اہلکاروں کی مختلف امن مشنز میں تعیناتی اور قربانیاں ملک کے اس کردار کا اہم حصہ ہیں، جبکہ UNMOGIP کی میزبانی پاکستان کو امن کارروائیوں کے میزبان ملک کے طور پر بھی ایک الگ تجربہ فراہم کرتی ہے۔
مجموعی منظرنامہ
سلامتی کونسل میں پاکستان کا تازہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے امن مشنز کو مختلف خطوں میں بدلتے ہوئے سکیورٹی، سیاسی اور انسانی چیلنجز کا سامنا ہے۔
پاکستان نے بحث کے دوران ایک ایسے امن مشن نظام کی ضرورت پر زور دیا جس میں واضح سیاسی اہداف، مؤثر مینڈیٹ، مناسب وسائل، میزبان ریاست کا عملی تعاون اور امن دستوں کے لیے مضبوط سیاسی حمایت موجود ہو۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق اقوام متحدہ کے امن مشنز کو جدید ضرور بنایا جانا چاہیے، تاہم ان کی عالمی، اجتماعی اور غیر جانب دار حیثیت برقرار رہنی چاہیے تاکہ وہ تنازعات میں تشدد کم کرنے، سیاسی عمل کے لیے ماحول سازگار بنانے اور پائیدار امن کی کوششوں میں اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کر سکیں۔



