
ٹرمپ کی 250 فٹ بلند ٹرائمفل آرچ اب فوجی کمپلیکس بھی ہوگی، ڈرونز، سنائپرز اور گولہ بارود کے لیے سہولت کا اعلان
واشنگٹن میں 250 فٹ بلند محراب میں ڈرونز کی تعیناتی، سنائپر پوزیشنز اور گولہ بارود ذخیرہ کرنے کی تجویز؛ منصوبہ پہلے ہی تاریخی ورثے، منظوریوں اور عدالتی تنازعات کی زد میں
مدثر احمد-ادارت
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن ڈی سی میں آرلنگٹن نیشنل سیمٹری کے قریب تعمیر کی جانے والی مجوزہ 250 فٹ بلند ٹرائمفل آرچ کے منصوبے میں ایک نیا اور غیر معمولی پہلو شامل کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ یادگاری محراب ایک اعلیٰ درجے کے فوجی کمپلیکس کے طور پر بھی استعمال کی جائے گی۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر کہا کہ امریکی فوج کی درخواست اور قومی سلامتی کے مقاصد کے تحت مجوزہ عمارت میں ڈرونز رکھنے اور استعمال کرنے، سنائپرز کے لیے پوزیشنز اور بڑی مقدار میں گولہ بارود ذخیرہ کرنے کی صلاحیت شامل کی جائے گی۔
صدر کے اس تازہ اعلان نے اس منصوبے کی نوعیت سے متعلق بحث کو مزید وسیع کردیا ہے، کیونکہ یہ منصوبہ ابتدا میں امریکی تاریخ اور 250ویں سالگرہ سے متعلق ایک یادگاری تعمیر کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
250 فٹ بلند یادگاری محراب کا منصوبہ
مجوزہ ٹرائمفل آرچ واشنگٹن ڈی سی میں میموریل سرکل کے قریب تعمیر کی جانی ہے، جو دریائے پوٹومیک کے پار لنکن میموریل اور آرلنگٹن نیشنل سیمٹری کے درمیان تاریخی منظرنامے کا حصہ ہے۔
امریکی انتظامیہ کے مطابق محراب تقریباً 250 فٹ بلند ہوگی اور اس کے ساتھ ایک فوجی مشاہداتی ڈیک بھی شامل ہوگا۔
محکمہ داخلہ کے سیکریٹری ڈوگ برگم نے ستمبر کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ منصوبے کے لیے کھدائی کا کام جلد شروع کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس مقام پر یادگار تعمیر کرنے کا تصور ایک صدی سے زیادہ پرانا ہے۔
ٹرمپ کا نیا فوجی تصور
ٹرمپ کے تازہ بیان کے مطابق محراب صرف ایک یادگار نہیں رہے گی بلکہ اسے قومی سلامتی کے لیے عملی استعمال میں بھی لایا جائے گا۔
صدر کے مطابق مجوزہ کمپلیکس میں:
- ڈرونز رکھنے اور استعمال کرنے کی سہولت؛
- عمارت کی چھت اور پلازہ پر سنائپر پوزیشنز؛
- بڑی مقدار میں گولہ بارود ذخیرہ کرنے کی صلاحیت؛
- فوجی اور قومی سلامتی سے متعلق دیگر سہولیات
شامل کی جائیں گی۔
ٹرمپ نے اسے دنیا میں اپنی نوعیت کی منفرد سہولت قرار دیا ہے، تاہم اس فوجی استعمال کی تفصیلی عملی ساخت اور انتظامی نظام کے بارے میں انتظامیہ کی جانب سے مکمل تکنیکی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔
قومی سلامتی کو جواز بنایا گیا
صدر ٹرمپ نے نئے فوجی پہلو کی وضاحت کرتے ہوئے قومی سلامتی کو بنیادی جواز قرار دیا ہے۔
یہ مؤقف ان کے واشنگٹن میں جاری دیگر بڑے تعمیراتی منصوبوں کے حوالے سے بھی سامنے آچکا ہے۔ خاص طور پر وائٹ ہاؤس کے مجوزہ بڑے بال روم کے بارے میں بھی ٹرمپ انتظامیہ نے حالیہ عرصے میں اس کے قومی سلامتی سے متعلق پہلوؤں کو نمایاں کیا ہے۔
یوں انتظامیہ واشنگٹن میں بعض بڑے تعمیراتی منصوبوں کو محض تعمیراتی یا جمالیاتی منصوبوں کے بجائے قومی سلامتی اور حکومتی ضرورت کے تناظر میں پیش کررہی ہے۔
منصوبہ کہاں تعمیر ہوگا؟
ٹرائمفل آرچ میموریل سرکل، کولمبیا آئی لینڈ کے علاقے میں تعمیر کرنے کی تجویز ہے۔
یہ مقام واشنگٹن کے انتہائی اہم تاریخی منظرنامے میں واقع ہے۔ ایک جانب لنکن میموریل ہے جبکہ دوسری جانب آرلنگٹن نیشنل سیمٹری واقع ہے، جہاں امریکی فوجیوں اور قومی شخصیات کی قبریں موجود ہیں۔
اسی جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے منصوبے کے حامی اور مخالفین دونوں اس کے تاریخی اور علامتی اثرات پر خاص توجہ دے رہے ہیں۔
لنکن میموریل اور آرلنگٹن سیمٹری کے درمیان تاریخی منظر
منصوبے پر اعتراض کرنے والے تاریخی ورثے کے ماہرین اور بعض سابق فوجیوں کا کہنا ہے کہ اتنی بلند عمارت اس تاریخی بصری محور کو متاثر کرسکتی ہے جو لنکن میموریل اور آرلنگٹن نیشنل سیمٹری کے درمیان قائم ہے۔
رپورٹس کے مطابق مخالفین کا مؤقف ہے کہ یہ مقام امریکی خانہ جنگی کے بعد قومی مفاہمت اور اتحاد کی علامت سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہاں ایک بہت بڑی نئی تعمیر تاریخی منظرنامے کو تبدیل کرسکتی ہے۔
منصوبے کا تاریخی پس منظر
ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ میموریل سرکل کے مقام پر کسی بڑی یادگار کا تصور نیا نہیں۔
محکمہ داخلہ کے مطابق اس علاقے کے لیے یادگاری تعمیر کا تصور ایک صدی سے زیادہ پرانا ہے اور ماضی کے شہری منصوبوں میں بھی اس مقام کو ایک اہم یادگار کے لیے موزوں سمجھا گیا تھا۔
تاہم موجودہ انتظامیہ نے اس تصور کو ایک بڑے اور بلند ٹرائمفل آرچ کی شکل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
’دنیا کی سب سے شاندار محراب‘ بنانے کا دعویٰ
صدر ٹرمپ اور ان کے حامیوں نے مجوزہ محراب کو واشنگٹن کی ایک نئی نمایاں شناخت کے طور پر پیش کیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق واشنگٹن دنیا کے بڑے دارالحکومتوں میں ایک ایسے شہر کے طور پر منفرد ہے جہاں پیرس کے آرک ڈی ٹرائمف جیسی عظیم الشان فتحی محراب موجود نہیں۔
مجوزہ محراب تقریباً 250 فٹ بلند ہوگی، جو اسے واشنگٹن کی بلند ترین یادگاروں میں شامل کرسکتی ہے۔
پیرس کے آرک ڈی ٹرائمف سے تقابل
ٹرمپ انتظامیہ نے واشنگٹن کے منصوبے کو عالمی سطح کی معروف فتحی محرابوں کے تناظر میں بھی پیش کیا ہے۔
خاص طور پر پیرس کے Arc de Triomphe کا حوالہ دیا جاتا ہے، تاہم واشنگٹن کی مجوزہ محراب کا ڈیزائن، حجم اور محل وقوع اپنے مخصوص تاریخی و سیاسی تناظر کی وجہ سے الگ نوعیت رکھتا ہے۔
انتظامیہ اسے امریکی تاریخ اور قومی شناخت کی ایک نئی علامت بنانے کی خواہاں ہے۔
تعمیر سے قبل ہی قانونی تنازع
مجوزہ محراب ابھی تعمیر کے مرحلے تک مکمل طور پر نہیں پہنچی لیکن اس کے خلاف قانونی کارروائی شروع ہوچکی ہے۔
سابق فوجیوں اور ایک معماری تاریخ دان کی جانب سے دائر مقدمے میں منصوبے کی قانونی حیثیت اور مطلوبہ منظوریوں پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق 4 ستمبر کو ایک وفاقی جج نے انتظامیہ کو حکم دیا تھا کہ مقام پر بعض کام شروع کرنے سے پہلے 48 گھنٹے کا نوٹس دیا جائے، جبکہ زیر زمین ثقافتی آثار کی شناخت سے متعلق کام کو استثنا دیا گیا تھا۔
حتمی منظوریوں پر سوالات
رپورٹس کے مطابق منصوبے کو تمام مطلوبہ وفاقی منظوریوں کے حوالے سے بھی قانونی اور انتظامی سوالات کا سامنا ہے۔
انتظامیہ نے کھدائی شروع کرنے کی تیاری کا اعلان کیا، تاہم نیشنل کیپیٹل پلاننگ کمیشن کی حتمی منظوری سمیت بعض معاملات پر قانونی کارروائی اور جائزے جاری رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ منصوبے کے حامی تعمیراتی پیش رفت کی بات کررہے ہیں جبکہ مخالفین اسے روکنے کے لیے عدالتوں اور انتظامی فورمز سے رجوع کررہے ہیں۔
سابق فوجیوں اور تحفظِ آثار کے ماہرین کے اعتراضات
منصوبے پر تنقید کرنے والوں میں سابق فوجی، تاریخی ورثے کے ماہرین، بعض شہری اور سیاسی مخالفین شامل ہیں۔
ان کا بنیادی اعتراض منصوبے کے حجم، مقام، تاریخی منظرنامے پر ممکنہ اثرات اور آرلنگٹن نیشنل سیمٹری کے ماحول سے متعلق ہے۔
بعض سابق فوجی حلقوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ تعمیراتی سرگرمیاں قبرستان میں فوجی تدفین کے عمل کو متاثر کرسکتی ہیں۔
یہ اعتراضات منصوبے کی سیاسی مخالفت کے ساتھ ساتھ تاریخی اور انتظامی نوعیت کے سوالات کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔
ریگن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب مقام
مجوزہ محراب کے مقام کے حوالے سے فضائی سلامتی بھی ایک موضوع رہی ہے کیونکہ یہ علاقہ رونالڈ ریگن واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب واقع ہے۔
رائٹرز کے مطابق منصوبے کو فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن سے متعلق منظوری ملی ہے، جس میں فضائی سلامتی کے تقاضوں کے تحت مخصوص شرائط شامل تھیں۔
یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ 250 فٹ بلند تعمیر واشنگٹن کے پہلے سے انتہائی حساس فضائی حدود کے قریب واقع ہوگی۔
وائٹ ہاؤس بال روم سے مماثلت
ٹرمپ کی نئی وضاحت کو ان کے وائٹ ہاؤس بال روم کے منصوبے سے بھی جوڑا جارہا ہے۔
صدر نے بال روم کے حوالے سے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ منصوبے میں فوجی اور قومی سلامتی کے اجزا شامل ہوں گے۔
واشنگٹن میں جاری بڑے تعمیراتی منصوبوں کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے قومی سلامتی کے جواز کو زیادہ نمایاں کیے جانے نے ان منصوبوں کے مقصد اور دائرہ کار پر بحث کو مزید وسیع کردیا ہے۔
واشنگٹن کی تاریخی شناخت میں بڑی تبدیلی؟
مجوزہ ٹرائمفل آرچ ٹرمپ انتظامیہ کے واشنگٹن کے شہری منظرنامے کو تبدیل کرنے کے وسیع تر منصوبوں کا حصہ ہے۔
ان منصوبوں میں وائٹ ہاؤس کمپلیکس میں نئی تعمیرات، لنکن میموریل ریفلیکٹنگ پول میں تبدیلیاں اور دیگر اہم سرکاری و تاریخی مقامات سے متعلق منصوبے شامل ہیں۔
حامی اسے دارالحکومت کی خوبصورتی اور قومی شناخت میں سرمایہ کاری قرار دیتے ہیں، جبکہ مخالفین تاریخی منظرنامے اور موجودہ یادگاروں کے تحفظ پر سوال اٹھاتے ہیں۔
فوجی استعمال سے منصوبے کی نوعیت تبدیل
ابتدائی طور پر مجوزہ محراب بنیادی طور پر ایک یادگاری اور علامتی تعمیر کے طور پر سامنے آئی تھی، لیکن ڈرونز، سنائپرز اور گولہ بارود ذخیرہ کرنے کی صلاحیت شامل کرنے کا اعلان اس کے تصور کو ایک نئے رخ پر لے جاتا ہے۔
اب یہ منصوبہ بیک وقت یادگار، مشاہداتی مقام اور فوجی سہولت کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔
تاہم اس اضافی فوجی استعمال کی مکمل تفصیلات، لاگت، آپریشنل کمانڈ اور مستقل تعیناتی کے حوالے سے مزید سرکاری معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔
واشنگٹن میں ایک نئی بحث
ٹرمپ کے تازہ اعلان نے امریکی دارالحکومت میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ قومی یادگاروں اور فوجی سہولیات کے درمیان حدود کہاں قائم ہونی چاہئیں۔
ایک طرف انتظامیہ قومی سلامتی کے تقاضوں کو بنیاد بنا رہی ہے، دوسری جانب تاریخی ورثے کے تحفظ کے حامی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ واشنگٹن کے اہم تاریخی مقامات کی تعمیر و تزئین میں ان کے اصل شہری اور تاریخی کردار کو برقرار رکھا جائے۔
منصوبے کا اگلا مرحلہ
محکمہ داخلہ پہلے ہی ستمبر کے دوران ابتدائی کھدائی کے لیے تیاریوں کا اعلان کرچکا ہے، جبکہ عدالت میں قانونی چیلنج بھی جاری ہے۔
اس لیے منصوبے کا مستقبل صرف تعمیراتی پیش رفت سے نہیں بلکہ زیر التوا منظوریوں اور عدالتی کارروائی کے نتائج سے بھی جڑا ہوا ہے۔
اگر منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو 250 فٹ بلند یہ محراب واشنگٹن کے تاریخی منظرنامے میں ایک نمایاں اضافہ ہوگی اور اس میں فوجی سہولیات شامل ہونے کی صورت میں امریکی دارالحکومت میں یادگاری فنِ تعمیر اور قومی سلامتی کے امتزاج کی ایک غیر معمولی مثال سامنے آئے گی۔



