
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پنجاب پولیس کی قیادت میں ایک اہم مرحلہ اختتام کو پہنچ گیا ہے، جہاں ڈاکٹر عثمان انور کا بطور انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب تقریباً تین سالہ دور ختم ہو گیا۔ پیر کے روز وفاقی حکومت نے ان کی خدمات پنجاب سے واپس مانگ لیں، جس کے بعد 3 فروری 2026 کو باضابطہ طور پر پولیس قیادت میں تبدیلی عمل میں آئی۔

ڈاکٹر عثمان انور کو 24 جنوری 2023 کو اُس وقت کے نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کے دور میں آئی جی پنجاب تعینات کیا گیا تھا۔ ان کا اس عہدے پر تقریباً تین برس تک برقرار رہنا حالیہ برسوں میں ایک غیر معمولی مثال ہے، کیونکہ پولیس آرڈر 2002 کے تحت اگرچہ آئی جی کی مدت تین سال مقرر ہے، لیکن عملی طور پر کم ہی افسران اس مدت کے قریب پہنچ پاتے ہیں۔
نگراں حکومت سے منتخب حکومت تک کا سفر
ڈاکٹر عثمان انور کے دورِ قیادت میں پنجاب نے ایک پیچیدہ سیاسی مرحلہ دیکھا۔ نگران حکومت سے منتخب حکومت تک منتقلی، فروری 2024 کے عام انتخابات، اور اس دوران امن و امان کی صورتحال پولیس کے لیے مسلسل چیلنج بنی رہی۔ انتخابات کے بعد جب مریم نواز وزیر اعلیٰ منتخب ہوئیں تو انہوں نے آئی جی کو تبدیل نہیں کیا، جو ایک غیر معمولی فیصلہ سمجھا گیا۔ یوں ڈاکٹر عثمان انور ان چند پولیس سربراہان میں شامل ہو گئے جو نگراں سیٹ اپ میں تعیناتی کے باوجود منتخب حکومت میں بھی اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔
پیشہ ورانہ پس منظر
ڈاکٹر عثمان انور کا تعلق پاکستان پولیس سروس کے 23ویں کامن سے ہے۔ انہوں نے 1995 میں بطور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس سروس میں شمولیت اختیار کی۔ وہ قانون کی ڈگری بھی رکھتے ہیں اور اپنے کیریئر کے دوران فیلڈ، انتظامی اور انٹیلی جنس نوعیت کے متعدد اہم عہدوں پر خدمات انجام دیتے رہے۔
آئی جی بننے سے قبل وہ اوکاڑہ اور سرگودھا میں ڈی پی او، فیصل آباد میں ایس ایس پی آپریشنز، راولپنڈی میں چیف ٹریفک آفیسر، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور سپیشل برانچ میں ایڈیشنل آئی جی، نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس میں ایڈیشنل آئی جی اور ایف آئی اے لاہور میں ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔
سکیورٹی چیلنجز اور متنازع واقعات
ڈاکٹر عثمان انور کے دور کا سب سے بڑا سکیورٹی چیلنج 9 مئی 2023 کے واقعات تھے، جب سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد پنجاب کے مختلف شہروں میں احتجاج اور پرتشدد واقعات پیش آئے۔ لاہور میں جناح ہاؤس سمیت کئی حساس تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ ان واقعات کے بعد پنجاب پولیس نے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کیں اور تحقیقات کا آغاز کیا، تاہم انسانی حقوق کی بعض تنظیموں نے ان کارروائیوں پر تحفظات کا اظہار بھی کیا۔
اسی عرصے میں صحافی عمران ریاض خان کی گرفتاری اور بعد ازاں لاپتہ ہونے کا معاملہ بھی شدید بحث کا موضوع بنا، جبکہ مارچ 2023 میں زمان پارک کے قریب سیاسی کارکن ظلے شاہ کی ہلاکت نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا۔ پولیس نے اس واقعے کو ٹریفک حادثہ قرار دیا، مگر سیاسی حلقوں کی جانب سے اس مؤقف پر شکوک و شبہات ظاہر کیے جاتے رہے۔
عام انتخابات 2024 اور پولیس کا کردار
فروری 2024 کے عام انتخابات کے دوران پنجاب پولیس کے کردار پر بھی تنقید سامنے آئی، خاص طور پر انتخابی عمل کے مختلف مراحل میں پولیس کی موجودگی اور کارروائیوں کے حوالے سے۔ پولیس حکام کا کہنا تھا کہ تمام اقدامات قانون اور ضابطے کے مطابق کیے گئے اور امن و امان کو برقرار رکھنا اولین ترجیح تھی۔
جنوبی پنجاب میں کچے کے آپریشنز
ڈاکٹر عثمان انور کے دور میں جنوبی پنجاب کے کچے کے علاقوں میں جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف آپریشنز بھی نمایاں رہے۔ اگست 2024 میں رحیم یار خان کے علاقے میں ڈاکوؤں کے حملے میں متعدد پولیس اہلکاروں کی شہادت کے بعد ان کارروائیوں میں تیزی لائی گئی۔ پولیس نے بین الصوبائی تعاون کے ذریعے ان آپریشنز کو جاری رکھا، جنہیں اگرچہ خطرناک اور مشکل قرار دیا گیا، مگر امن و امان کی بحالی کے لیے ضروری سمجھا گیا۔
ادارہ جاتی اصلاحات اور فلاحی اقدامات
ان کے دور میں پنجاب پولیس میں کئی ادارہ جاتی اصلاحات متعارف کرائی گئیں۔ منظم جرائم، اغوا برائے تاوان اور سنگین جرائم سے نمٹنے کے لیے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) قائم کیا گیا۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ میں سروس سٹرکچر بہتر بنایا گیا اور نئی آسامیوں کا اضافہ ہوا۔
عوامی سہولت کے لیے ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن، تحفظ مراکز، ڈرائیونگ اسکولز اور جدید لائسنسنگ سینٹرز قائم کیے گئے، جبکہ سیف سٹی منصوبے کو مزید شہروں تک توسیع دی گئی۔ متعدد پولیس اسٹیشنز کو اپ گریڈ کر کے جدید سہولیات فراہم کی گئیں۔
پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے ترقیاں، تعلیمی وظائف، طبی سہولتوں کے معاہدے اور مالی امداد جیسے اقدامات بھی کیے گئے۔ شہداء کے اہل خانہ کی معاونت اور اہلکاروں کے علاج کے لیے مختص فنڈز کو فورس کے مورال میں بہتری کی کوششوں کے طور پر دیکھا گیا۔
جرائم میں کمی کے دعوے
پنجاب پولیس نے مختلف جرائم میں کمی کا دعویٰ کیا اور اسے ٹیکنالوجی کے استعمال، بہتر نگرانی اور تفتیشی نظام کا نتیجہ قرار دیا۔ تاہم جرائم کے اعداد و شمار کی تشریح ہمیشہ مختلف زاویوں سے کی جاتی رہی اور ناقدین ان دعوؤں پر سوال اٹھاتے رہے۔
نئے آئی جی پنجاب: راؤ عبدالکریم
وفاقی حکومت نے ڈاکٹر عثمان انور کی جگہ راؤ عبدالکریم کو نیا انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب تعینات کر دیا ہے۔ راؤ عبدالکریم کا تعلق پاکستان پولیس سروس کے 24ویں کامن سے ہے اور انہوں نے 1996 میں بطور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس سروس جوائن کی۔
تقرری سے قبل وہ ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ پنجاب کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ اپنے کیریئر کے دوران وہ ایڈیشنل آئی جی پنجاب ہائی وے پیٹرول، کمانڈنٹ پولیس کالج، ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب، آر پی او گوجرانوالا اور ڈی آئی جی ٹیلی کمیونیکیشن جیسے اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔
فیلڈ میں بھی ان کا وسیع تجربہ رہا ہے، جہاں انہوں نے اے ایس پی یو ٹی سکھر، ایس ڈی پی او سکھر سٹی، لطیف آباد حیدر آباد اور چنیوٹ میں خدمات انجام دیں۔ بطور ایس پی وہ گوجرانوالا، لاہور اور شیخوپورہ میں تعینات رہے، جبکہ ڈی پی او میانوالی، قصور اور جھنگ بھی رہ چکے ہیں۔ راؤ عبدالکریم کا تعلق سندھ کے شہر نواب شاہ سے ہے۔
ایک دور کا اختتام
یوں ڈاکٹر عثمان انور کا دورِ قیادت سکیورٹی چیلنجز، انتظامی اصلاحات اور بعض متنازع معاملات کے امتزاج کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ ان کا دور پنجاب پولیس کی حالیہ تاریخ کا ایک اہم اور یادگار مرحلہ تصور کیا جا رہا ہے، جبکہ اب سب کی نظریں نئے آئی جی راؤ عبدالکریم پر مرکوز ہیں کہ وہ اس بڑے صوبے میں امن و امان اور پولیس اصلاحات کے عمل کو کس سمت لے کر جاتے ہیں۔



