پاکستاناہم خبریں

پاکستان میں انتہا پسندی سے متاثرہ افراد کی بحالی اور دوبارہ انضمام کا اہم اقدام

آئی ایم سی ٹی سی کے زیرِ اہتمام “دوبارہ انٹیگریشن” پروگرام کا اسلام آباد میں آغاز، نظریاتی انتہا پسندی کے تدارک پر زور

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

اسلامی عسکری انسداد دہشت گردی اتحاد (IMCTC) نے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں انتہا پسندی سے متاثرہ افراد کی بحالی اور معاشرے میں دوبارہ شمولیت کے لیے ایک اہم نظریاتی اور عملی اقدام کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں “دوبارہ انٹیگریشن” (Reintegration) کے عنوان سے ایک جامع پروگرام پیر کے روز دارالحکومت اسلام آباد میں شروع کیا گیا، جو انتہا پسندانہ نظریات اور دہشت گردانہ رویوں کے حامل افراد کی فکری، سماجی اور ادارہ جاتی بحالی پر مرکوز ہے۔

اس پروگرام کا افتتاح اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی سرپرستی میں کیا گیا، جبکہ اس موقع پر اسلامی عسکری انسداد دہشت گردی اتحاد کے سیکرٹری جنرل میجر جنرل محمد بن سعید المغیدی بھی موجود تھے۔ افتتاحی تقریب میں فوجی و سیکیورٹی حکام، دانشوروں، مذہبی و سماجی ماہرین، تعلیمی شخصیات اور جمہوری نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جو اس اقدام کی قومی اور بین الاقوامی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

انتہا پسندی کے خلاف نظریاتی و احتیاطی حکمت عملی

“دوبارہ انٹیگریشن” پروگرام IMCTC کی اسٹریٹجک کوششوں کا حصہ ہے، جس کا بنیادی مقصد انتہا پسندی کی جڑوں سے نمٹنا اور محض سیکیورٹی اقدامات کے بجائے نظریاتی، سماجی اور احتیاطی نقطہ نظر کو فروغ دینا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے ایسے افراد کی بحالی پر توجہ دی جا رہی ہے جو انتہا پسندانہ سوچ یا دہشت گردی سے متاثر ہو چکے ہوں، تاکہ انہیں ایک مثبت، پرامن اور تعمیری کردار کے ساتھ دوبارہ معاشرے کا حصہ بنایا جا سکے۔

یہ پروگرام 2 سے 6 فروری 2026 تک جاری رہے گا، جس میں IMCTC کے رکن ممالک، بحالی پروگراموں سے وابستہ ماہرین، پریکٹیشنرز اور متعلقہ اداروں کے نمائندے شریک ہوں گے۔ اس اقدام کو خطے اور عالمِ اسلام میں انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

خصوصی موضوعات اور تربیتی سیشنز

پروگرام کے دوران متعدد خصوصی اور تکنیکی موضوعات پر تفصیلی سیشنز اور پینل مباحثے منعقد کیے جائیں گے۔ ان میں بحالی اور دوبارہ انضمام کے بنیادی تصورات، بحالی پروگراموں کے لیے ماڈل فریم ورک، مؤثر پروگرام ڈیزائن کرنے کی بنیادی حکمت عملی، دہشت گردی کے جرائم کی نوعیت، سماجی نگہداشت کی سائنسی بنیادیں، اور دوبارہ انضمام کے عمل میں درپیش چیلنجز شامل ہیں۔

یہ تمام سیشنز ماہرین اور تجربہ کار پیشہ ور افراد کی جانب سے فراہم کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد رکن ممالک کو ایسے عملی اور قابلِ عمل ماڈلز مہیا کرنا ہے جو زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہوں اور طویل المدتی سماجی استحکام کو یقینی بنا سکیں۔

آئی ایم سی ٹی سی کا جامع اور مربوط طریقہ کار

اسلام آباد میں “دوبارہ انٹیگریشن” اقدام کا آغاز IMCTC کے اس جامع طریقہ کار کی توسیع کی عکاسی کرتا ہے، جو چار بنیادی ڈومینز — آئیڈیالوجی، کمیونیکیشنز، انسداد دہشت گردی کی مالی اعانت، اور ملٹری — کے باہمی انضمام پر مبنی ہے۔ اس طریقہ کار کا مقصد رکن ممالک کے درمیان معیاری اقدامات کے ذریعے تعاون کو فروغ دینا اور انتہا پسندی کے خلاف ایک ہمہ جہت اور مربوط ردعمل تشکیل دینا ہے۔

آئی ایم سی ٹی سی کا مؤقف ہے کہ انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے صرف سیکیورٹی آپریشنز کافی نہیں، بلکہ فکری اصلاح، سماجی بحالی اور ادارہ جاتی معاونت کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پروگرام سماجی استحکام، قومی ہم آہنگی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔

پاکستان اور آئی ایم سی ٹی سی کے درمیان شراکت داری

یہ پروگرام IMCTC اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان مؤثر شراکت داری میں ایک نئے اور اہم مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے۔ دونوں فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ انتہا پسندانہ نظریات سے نمٹنے اور متاثرہ افراد کو معاشرے میں دوبارہ شامل کرنے کے لیے ٹھوس، ادارہ جاتی اور سائنسی بنیادوں پر مبنی عملی اور پائیدار ماڈلز اپنائے جائیں گے۔

دفاعی اور سیکیورٹی ماہرین کے مطابق پاکستان میں “دوبارہ انٹیگریشن” پروگرام کا آغاز نہ صرف ملک کے اندر انتہا پسندی کے خلاف کوششوں کو تقویت دے گا بلکہ خطے اور عالمِ اسلام کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل بھی فراہم کرے گا، جو امن، استحکام اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button