پاکستاناہم خبریں

پاک فضائیہ کی شاندار فضائی سلامی، قازقستان کے صدر کا پرتپاک استقبال

صدر قاسم جومارت توکایووف کا دو روزہ دورۂ پاکستان، دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دینے کی امید

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،وزیراعظم آفس کے ساتھ

پاکستان اور قازقستان کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کے ایک شاندار مظاہرے کے طور پر پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف کو پاکستانی فضائی حدود میں داخلے پر شاندار فضائی سلامی پیش کی۔ یہ فضائی سلامی 3 فروری 2026 کو اس وقت دی گئی جب قازقستان کے صدر خصوصی طیارے کے ذریعے پاکستان پہنچ رہے تھے۔

پاک فضائیہ کے چھ جدید لڑاکا طیاروں پر مشتمل دستے نے مہمان نوازی اور بھائی چارے کے اس پروقار مظاہرے میں صدر توکایووف کے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی فضائی حصار میں لے لیا۔ فارمیشن لیڈر نے ریڈیو کے ذریعے وزیر اعظم پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے معزز مہمان کو خوش آمدید کہا، جو دونوں ممالک کے درمیان احترام، دوستی اور باہمی اعتماد کی علامت تھا۔

فضائی سلامی، دوطرفہ تعلقات کے استحکام کی علامت

پاک فضائیہ کی جانب سے پیش کی جانے والی یہ فضائی سلامی نہ صرف ایک عسکری روایت کا حصہ تھی بلکہ اس امر کی عکاسی بھی کرتی ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور دوست ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ اعزاز دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی، مشترکہ بھائی چارے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ وژن کا مظہر ہے۔

نور خان ایئر بیس پر شاندار استقبال

قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے، جہاں منگل کے روز نور خان ایئر بیس پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی کابینہ کے اراکین، اعلیٰ سرکاری حکام اور سفارتی شخصیات بھی موجود تھیں۔

صدر قاسم جومارت توکایووف کے طیارے سے باہر آتے ہی صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے ان سے گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔ روایتی لباس میں ملبوس بچوں نے معزز مہمان کو پھول پیش کیے، جبکہ دونوں ممالک کے قومی پرچم تھامے بچوں نے صدر توکایووف کا پُرجوش استقبال کیا۔ صدر قازقستان نے ہاتھ ہلا کر بچوں کے خیرمقدم کا جواب دیا اور اس موقع پر صدر مملکت اور وزیراعظم سے خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

پاک فضائیہ کی شاندار فضائی سلامی، قازقستان کے صدر کا پرتپاک استقبال

21 توپوں کی سلامی

قازقستان کے صدر کے اعزاز میں 21 توپوں کی سلامی دی گئی، جو ریاستی سطح پر مہمان کے لیے دیے جانے والے اعلیٰ ترین اعزازات میں سے ایک ہے۔ یہ اعزاز دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت اور صدر توکایووف کے دورے کی غیر معمولی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔

اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور بزنس فورم

اپنے دورے کے دوران صدر قاسم جومارت توکایووف صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے، جن میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان–قازقستان بزنس فورم سے بھی خطاب کریں گے، جہاں دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری رہنماؤں کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پر غور کیا جائے گا۔

تجارت، رابطہ کاری اور عوامی روابط پر توجہ

یہ دورہ پاکستان اور قازقستان کے لیے دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لینے کا ایک اہم موقع فراہم کرے گا۔ دونوں ممالک تجارت، لاجسٹکس، علاقائی رابطہ کاری، عوامی روابط کے فروغ اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر بھی غور کیا جائے گا۔

مضبوط ہوتے تعلقات کی عکاسی

قازقستان کے صدر کا دورہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ یہ دورہ تاریخی اور ثقافتی قربتوں کو مؤثر عملی تعاون میں تبدیل کرنے کے باہمی عزم کو اجاگر کرتا ہے اور خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے دونوں ممالک کی مشترکہ خواہش کی نمائندگی کرتا ہے۔

سفارتی ماہرین کے مطابق اس اعلیٰ سطحی دورے سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت ملے گی بلکہ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان روابط کے فروغ میں بھی مدد ملے گی، جو خطے کے مجموعی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button