پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

پشاور میں اعلیٰ سطحی اجلاس: سرحدی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

"میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل ہم آہنگی میں رہتا ہوں۔"

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ملک کی سرزمین کے ایک ایک انچ کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے اور سرحدی علاقوں کی سیکیورٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے پیش نظر مکمل چوکسی اختیار کیے ہوئے ہے اور تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

یہ بات انہوں نے جمعہ کے روز پشاور میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بلائے گئے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں پاک افغان سرحد پر حالیہ کشیدگی، دہشت گردی کے واقعات، اور صوبے میں جاری سیکیورٹی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔


سرحدی کشیدگی پر تشویش، اشتعال انگیزی کی مذمت

وزیراعلیٰ نے پاک افغان سرحد پر حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان افغانستان سرحد پر کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی یا بیرونی جارحیت کی مذمت کی اور کہا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ نے کہا،
"میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل ہم آہنگی میں رہتا ہوں۔”

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سرحدی اضلاع کے عوام کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کے جان و مال کا تحفظ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔


سول انتظامیہ کو ہنگامی تیاریوں کی ہدایت

اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے سول انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار رہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و استحکام کے قیام کے لیے ذمہ دارانہ اور مربوط طرز عمل ناگزیر ہے۔

انہوں نے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت امن و امان کے قیام کے لیے کام کرنے والے تمام اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آپریشنل اور پیشہ ورانہ ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کی لاجسٹک یا انتظامی رکاوٹ ان کی کارکردگی پر اثر انداز نہ ہو۔


سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو خراج تحسین

وزیراعلیٰ نے پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور اسپیشل برانچ کی خدمات اور قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی لگن اور پیشہ ورانہ عزم پوری قوم کے لیے باعث فخر ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات ایک زیادہ مضبوط، مربوط اور نتیجہ خیز حکمت عملی کا تقاضا کرتے ہیں۔ تمام متعلقہ محکموں کو واضح اور جامع لائحہ عمل کے تحت کام کرنا ہوگا تاکہ ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجوں کا بروقت اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔


کے پی کو "ہارڈ ایریا” قرار دینے کی تجویز

اجلاس میں شرکاء نے اصولی طور پر اس امر پر اتفاق کیا کہ خیبرپختونخوا کو باضابطہ طور پر "ہارڈ ایریا” قرار دینے کے لیے معاملہ دوبارہ وفاقی حکومت کے سامنے اٹھایا جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کی نازک سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اضافی وسائل اور خصوصی پیکیج ناگزیر ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ موجودہ حالات کے حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف اور دیگر متعلقہ فورمز پر بات کی گئی ہے، تاہم اس معاملے پر مطلوبہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اہم قومی مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور بعض سیاسی معاملات کو غیر متناسب اہمیت دی جا رہی ہے، جس سے سیکیورٹی جیسے بنیادی امور متاثر ہو سکتے ہیں۔


زخمی اہلکاروں کے لیے پالیسی کی ہدایت

وزیراعلیٰ نے دہشت گرد حملوں میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے لیے مصنوعی اعضاء کی فراہمی کی باقاعدہ پالیسی بنانے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ جو افراد قوم کے دفاع میں اپنی جانیں خطرے میں ڈالتے ہیں، وہ مستقل ادارہ جاتی معاونت کے مستحق ہیں۔


وسائل کی فراہمی اور سیف سٹی منصوبے

اجلاس میں حکام نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران پولیس کو سامان کی خریداری کے لیے 15.1 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں، جبکہ 9 ہزار سے زائد خالی آسامیوں پر بھرتیوں کے لیے ٹیسٹ مکمل کیے جا چکے ہیں۔

پشاور کے لیے سیف سٹی منصوبہ افتتاح کے لیے تیار ہے، جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور لکی مروت میں سیف سٹی منصوبے مارچ تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ کرک، ٹانک اور شمالی وزیرستان میں سیف سٹی اقدامات کے لیے PC-I منظوری کے لیے محکمہ داخلہ کو پیش کر دیا گیا ہے، جبکہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لیے منصوبہ آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کی تیاری مکمل ہے۔

مزید برآں، سیف سٹی اتھارٹی ایکٹ کا مسودہ بھی محکمہ داخلہ کو بھجوا دیا گیا ہے تاکہ قانونی و انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جا سکے۔ اجلاس کے شرکاء نے محکمہ ایکسائز اور دیگر متعلقہ ڈیٹا بیس کے انضمام اور نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر بھی اتفاق کیا۔


ادارہ جاتی طاقت اور اجتماعی عزم پر زور

وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے صوبے کو اپنی ادارہ جاتی صلاحیت اور اجتماعی عزم پر بھروسہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال پر زور دیتے ہوئے صوبے کے انسانی وسائل کی اہلیت اور عزم پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ امن و امان پر کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح رہے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button