
سینہ زوری کا عالمی رجحان !…….ناصف اعوان
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو نئے سرے سے جنگی منظر ابھرا ہے کہ طاقتور ممالک جن میں امریکا سر فہرست ہے نے ترقی پزیر اور کمزور ملکوں پر چڑھائی کا آغاز کیا ہے
کہا جاتا ہے کہ اکیسویں صدی شعور و آگہی کی صدی ہے لہذا اب خوشحالی امن اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو گی ۔ بڑی طاقتوں کے سر براہان بھی ایسے ہی بیانات دے رہے ہیں۔
وہ جانتے ہیں کہ دو عالمی جنگیں لڑنے سے بھی مقاصد پورے نہیں ہو سکے کیونکہ مغرب نے جس نظریہ کو دبانا چاہا وہ اس سے دبا نہیں۔ پوری دنیا ایک طرف تھی اور تنہا سویت یونین تھا جس کو ملیامیٹ کرنے کے لئے آتش و آہن کا کھیل کھیلا گیا مگر وہ تب بھی زندہ رہا اور آدھا یورپ اس کی دسترس میں تھا ازاں بعد اسے ایک منصوبے کے تحت افغانستان میں الجھایا گیا اور اس کی معیشت کو غیر مستحکم کرکے بکھرنے پر مجبور کر دیا گیا مگر اس نے خود کو سنبھالا اور دوبارہ ایک بڑی طاقت کے طور سے ابھر کر سامنے آگیا مگر اب دنیا کی سوچ تبدیل ہو رہی ہے اور جنگوں کو تحسین کی نگاہ سے نہیں دیکھا جا رہا ۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو نئے سرے سے جنگی منظر ابھرا ہے کہ طاقتور ممالک جن میں امریکا سر فہرست ہے نے ترقی پزیر اور کمزور ملکوں پر چڑھائی کا آغاز کیا ہے ۔پہلے گلف کے چند ملکوں کو تباہ کیا گیا اب ایران کو برباد کرنے پر بضد ہے حالانکہ جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں آئے تو انہوں نے امن کی بات کی تھی اور واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ وہ دنیا میں امن قائم کریں گے جنگیں روکیں گے مگر انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے کچھ ہی دیر کے بعد اپنا کہا ہوا بھلا دیا اور غزہ پر اسرائیل کے حملوں کو جائز قرار دے دیا فلسطینی عوام کی انہوں نے ایک نہ سنی وہ تڑپتے رہے مرتے رہے۔ اب وہ امریکا سے مل کر ایران پر حملہ آور ہے۔ ان دونوں نے اس کی اعلیٰ ترین قیادت کو اپنے راستے سے ہٹا دیا ہے اور چاہتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی کا سیٹ اپ تشکیل دیں ۔اس حوالے سے رضا شاہ پہلوی کے بیٹے کا نام لیا جا رہا ہے تاکہ اس خطے میں طاقت کا پلڑا ان کی طرف جھک سکے ۔روس اور چین کو ڈراتے دھمکاتے رہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دو بڑی عالمی طاقتیں امریکا اسرائیل کی جارحیت کو روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گی یا کر رہی ہیں ۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تو خاموش ہیں مگراس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ایران کو جدید جنگی ٹیکنالوجی نہیں دے رہیں مگر براہ راست کوئی قدم نہیں اٹھا رہیں کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ ان کے اس جنگ میں باقاعدہ حصہ لینے سے تیسری عالمی جنگ شروع ہو جائے گی ۔ ویسے بھی چین جنگ کے بجائے معاشی طور سے کسی بھی طاقت کو شکست دینے کے حق میں ہے جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی اسے سپر پاور بننے سے روکنے کے لئے یا اس کی معیشت کو مضبوط سے مضبوط تر ہونے دینے سے جنگ کے میدان میں کھینچ رہے ہیں مگر ایسا نہیں ہونے والا وہ کسی صورت نہیں چاہے گا کہ براہ راست تصادم ہو لہذا اس کی پوری کوشش ہو گی کہ امریکا اور اسرائیل کو ایران تک محدود رکھا جائے روس بھی یہی چاہتا ہے لہذا وہ ایران کو لازمی اسلحہ بھی دیں گے یا دے چکے ہیں جس سے امریکی سامراج کو تاریخی ہزیمت اٹھانا پڑے ۔ بات سوچنے کی ہے کہ جتنے میزائل ایران گرا رہا ہے اتنے وہ تیار نہیں کر سکتا تھا لہذا اسے بھاری کھیپیں میزائل ہوں یا دیگر سامان حرب و ضرب ان دو ممالک کی طرف سے پہنچا دئیے گئے ہیں اور یہ جنگ طویل ہوتی جائے گی ۔ امریکی سامراج کی رجیم چینج کی خواہش پوری نہیں ہو گی ؟
بہرحال امریکا اور اس کے اتحادیوں کی انسان دوستی اور جمہوریت پسندی کسی سی ڈھکی چھپی نہیں رہی ان کی کہہ مُکرنیاں بھی واضح ہو چکی ہیں ان پر کسی کو جو تھوڑا بہت اعتماد تھا وہ بھی ختم ہو چکا ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جب وہ اقتدار میں آئے تو انہوں نے خان کو رہا کرانے کی بات کی تھی یہ بھی کہا کہ وہ میرے دوست ہیں جس سے یہ صاف نظر آرہا تھا بس اب خان کو رہائی مل جائے گی مگر وہ ابھی تک زنداں میں ہے لہذا ہمارے موجودہ حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ وہ کوئی ایسا لائحہ عمل اختیار کریں اور ایسی حکمت عملی اپنائیں جس سے معیشت کو بھی فائدہ ہو اور اپنا عزت و وقار بھی مجروح نہ ہو ۔ اس کے لئے جو بات ہم اکثر عرض کرتے ہیں کہ حزب اختلاف کو ساتھ ملانا ہو گا کیونکہ اسے عوام کی بھاری حمایت حاصل ہے ۔اس کو دنیا بھی عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھتی ہے اس وقت تو اس کی اہمیت کافی محسوس ہو رہی ہے خیر ہماری کون سنتا ہے مگر ہم تو اپنا قومی فرض ادا کر رہے ہیں کہ وطن عزیز سے ہمیں بے پناہ محبت ہے لہذا اپنی گزار شات پیش کرتے رہتے ہیں۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایران کا بے حد و حساب نقصان ہو چکا ہے اس کی مجموعی معیشت بھی تباہ ہو چکی ہے اس کا انفراسٹرکچر بھی برباد ہو چکا ہے اور اس کی اہم ترین شخصیت بھی جام شہادت نوش کر چکی ہے لہذا اسے مزاکرات کی میز پر آجانا چاہیے۔ مزاکرات کس بنیاد پر ہوں گے ایران کا امریکا سے کیا تنازعہ ہے۔ اسرائیل سے تو اس کی عداوت پرانی ہے جس کی وجہ فلسطین ہے اس کے باوجود جنگ کی حمایت نہیں کی جا سکتی اس سے بپھرے ہوئے طاقتوروں کو کچھ حاصل نہیں ہو گا ۔ جو منصوبہ وہ بنائے بیٹھے ہیں وہ پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ پائے گا ؟
امریکا کو سوچنا چاہیے کہ اس کی معیشت ڈوب رہی ہے تو وہ کمزور ملکوں کی دولت کو طاقت سے کیسے ہتھیا سکتا ہے ۔ فرض کیا وہ اپنے مذموم عزائم میں کامیاب بھی ہو جاتا ہے تو کیا مزاحمت رک جائے گی نہیں ہر گز نہیں بلکہ مزاحمت کا ایک ایسا آغاز ہو گا کہ جس کے نتیجے میں ایک انقلاب بھی آسکتا ہے جو امن خوشحالی اور محبت کو جنم دے گا لہذا امریکا اور اسرائیل کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں یہ شعوری دور ہے ۔ کوئی بھی ملک جو اپنی معاشی حالت کو بہتر و مستحکم بنانا چاہتا ہے اور دوسروں کو اپنا تابع بنانے کا خواہشمند ہے تو اسے لشکر کشی کے زریعے نہیں اس کو پیار اور امن کی راہ اختیار کرنا ہو گی۔ وہ دور گیا جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے لہذا فی الفور جنگ بند ہونی چاہیے ۔
بصورت دیگر اس کا دائرہ کار وسیع ہوتا ہے تو بارود کی بو ہر طرف پھیل جائے گی وہ ممالک جو پُر آسائش زندگی بسر کر رہے ہیں انہیں اپنا کردار ادا ضرور ادا کرنا چاہیے کیونکہ آگ ان کی خواب گاہوں کی جانب بھی بڑھ سکتی ہے ۔



