
ایران کے ممکنہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کتنے با اثر ہیں؟
علی خامنہ ای کے مطابق انہوں نے کہا کہ بچوں کو سچ بتایا جائے، ''جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں، میں نے انہیں سچ بتایا۔‘‘
اے پی
اسلامی جمہوریہ کے اندر ایک نہایت پراسرار شخصیت سمجھے جانے والے مجتبیٰ خامنہ ای اٹھائیس فروری کو اس اسرائیلی حملے کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے، جس میں ان کے 86 سالہ والد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے میں ان کی اہلیہ زہرا حداد عادل بھی ماری گئیں، جن کا تعلق ملک کی مذہبی اشرافیہ سے وابستہ ایک بااثر خاندان سے تھا۔

موروثی بادشاہت کی طرز کا نظام؟
خیال کیا جاتا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اب بھی زندہ ہیں اور ممکنہ طور پر روپوش ہو گئے ہیں کیونکہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے ایران پر جاری ہیں، تاہم ایرانی سرکاری میڈیا نے ان کے مقام کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی۔
اسرائیلی حملے کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کا نام اپنے والد کے ممکنہ جانشین کے طور پر دوبارہ زیر گردش ہے، حالانکہ ماضی میں اس پر تنقید کی جاتی رہی ہے کہ اس سے ایران میں سابق موروثی بادشاہت جیسا نظام قائم ہو سکتا ہے۔
اب جبکہ ان کے والد اور اہلیہ کو سخت گیر حلقوں میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے ”شہید‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، امکان ہے کہ 88 ارکان پر مشتمل مجلس خبرگان کے بزرگ علما میں ان کی حمایت بڑھ چکی ہے، یہی مجلس اگلے سپریم لیڈر کا انتخاب کرتی ہے۔
جو بھی نیا رہنما بنے گا اسے ایک ایسے ایرانی فوجی نظام کا کنٹرول ملے گا، جو جنگ میں مصروف ہے اور اس کے پاس انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ بھی ہے جسے اگر وہ حکم دے تو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا کردار کسی حد تک ایران کے پہلے سپریم لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی کے بیٹے احمد خمینی جیسا سمجھا جاتا ہے، جنہیں امریکی جوہری ہتھیاروں کے خلاف امریکی پریشر گروپ یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران کے مطابق ”معتمد خاص، دربان اور طاقت کے سوداگر کا مجموعہ‘‘ کہا گیا تھا۔
ابتدائی زندگی
مجتبیٰ خامنہ ای 1969ء میں مشہد میں پیدا ہوئے، جو 1979ء کے اسلامی انقلاب سے تقریباً دس سال پہلے کی بات ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی زندگی اس وقت میں گزاری جب ان کے والد ایران کے شاہ محمد رضا پہلوی کے خلاف سرگرم تھے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی سرکاری سوانح حیات کے مطابق ایک موقع پر شاہ کی خفیہ پولیس ساواک نے ان کے گھر پر دھاوا بول کر علی خامنہ ای کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ بعد میں جب مجتبیٰ اور ان کے بہن بھائی جاگے تو انہیں بتایا گیا کہ ان کے والد چھٹی پر جا رہے ہیں۔

علی خامنہ ای کے مطابق انہوں نے کہا کہ بچوں کو سچ بتایا جائے، ”جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں، میں نے انہیں سچ بتایا۔‘‘
’چوغے کے پیچھے اصل طاقت‘
شاہ کے زوال کے بعد خامنہ ای خاندان تہران منتقل ہو گیا۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران عراق جنگ کے دوران حبیب ابن مظاہر بٹالین کے ساتھ لڑائی میں حصہ لیا، جو پاسداران انقلاب کی ایک نیم فوجی یونٹ تھی اور جس کے کئی ارکان بعد میں فورس کے اندر اہم انٹیلی جنس عہدوں تک پہنچے۔
1989ء میں ان کے والد سپریم لیڈر بن گئے، جس کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای اور ان کے خاندان کو ایران کی مختلف فاؤنڈیشنز میں پھیلے اربوں ڈالر کے اثاثوں تک رسائی حاصل ہو گئی، یہ ادارے ریاستی صنعتوں اور سابق شاہی دولت سے قائم کیے گئے تھے۔
ان کی طاقت بھی وقت اور اپنے والد کے اثرو رسوخ کے ساتھ ساتھ بڑھی اور وہ تہران میں سپریم لیڈر کے دفاتر میں کام کرنے لگے۔ 2000ء کی دہائی کے آخر میں وکی لیکس کی جانب سے شائع امریکی سفارتی مراسلوں میں انہیں ”چوغے کے پیچھے اصل طاقت‘‘ قرار دیا گیا۔
ایک مراسلے میں الزام لگایا گیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد کا فون تک سننے کا انتظام کیا، وہ ان کے ”اہم دربان‘‘کے طور پر کام کرتے رہے اور ملک کے اندر اپنی طاقت کا مرکز قائم کرتے رہے۔
2008ء کے ایک مراسلے میں کہا گیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو نظام کے اندر ایک قابل اور مضبوط منتظم سمجھا جاتا ہے جو کسی وقت قومی قیادت کے کسی حصے کے وارث بن سکتے ہیں حالانکہ ان کے پاس مکمل مذہبی اہلیت نہیں اور وہ نسبتاً کم عمر ہیں۔
مراسلے میں کہا گیا کہ ان کی مہارت، دولت اور طاقتور اتحادوں کی وجہ سے بعض اندرونی حلقے انہیں اپنے والد کی موت کے بعد مشترکہ قیادت کے قابل امیدوار کے طور پر دیکھتے ہیں۔

پاسدارارن انقلاب سے قریبی روابط
امریکی وزارت خزانہ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران کی پاسداران انقلاب کے ساتھ قریبی روابط رکھے، جن میں اس کی بیرون ملک کارروائیوں کی قدس فورس اور رضاکار بسیج فورس شامل ہیں، جنھوں نے مختلف مواقع پر ملک گیر احتجاج کو سختی سے کچلا۔
امریکہ نے 2019ء میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت کے دوران ان پر پابندیاں عائد کیں اور کہا کہ وہ اپنے والد کے علاقائی عزائم اور اندرونی سخت پالیسیوں کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
ان پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ انہوں نے پس پردہ رہ کر 2005 ء میں سخت گیر صدر محمود احمدی نژاد کے انتخاب اور 2009 میں ان کی دوبارہ متنازع جیت کی حمایت کی، جس کے بعد گرین موومنٹ کے احتجاج بھڑک اٹھے تھے۔
2005 اور 2009 کے صدارتی امیدوار مہدی کروبی نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ”آقا کا بیٹا‘‘ قرار دیتے ہوئے دونوں انتخابات میں مداخلت کا الزام لگایا تھا جبکہ اس وقت ان کے والد کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ”خود آقا ہیں، کسی آقا کے بیٹے نہیں۔‘‘
ایران میں سپریم لیڈر کے عہدے پر اب تک صرف ایک بار اقتدار کی منتقلی ہوئی ہے۔ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی 86 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے اور انہوں نے آٹھ سالہ ایران عراق جنگ کے دوران ملک کی قیادت کی تھی۔

اب نیا رہنما ایسے وقت میں سامنے آئے گا جب اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے جاری ہیں، جن کا مقصد ایران کے ایٹمی پروگرام اور فوجی طاقت کو ختم کرنا بتایا جا رہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ ایرانی عوام مذہبی حکمرانی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔
ایران کے پیچیدہ شیعہ مذہبی نظام میں سپریم لیڈر مرکزی حیثیت رکھتے ہیں اور ریاستی امور کے تمام بڑے فیصلوں کا آخری اختیار انہی کے پاس ہوتا ہے۔ وہ ملک کی فوج اور پاسداران انقلاب کے سربراہ بھی ہوتے ہیں، جسے امریکہ نے 2019 میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا اور جسے آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے دور میں مزید طاقت دی۔
پاسداران انقلاب، جو مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے کے لیے بنائے گئے اتحادی گروپوں کے نیٹ ورک ”محور مزاحمت‘‘ کی قیادت کرتی ہے، ایران کے اندر وسیع معاشی مفادات بھی رکھتی ہے اور ملک کے بیلسٹک میزائل ذخیرے پر بھی اسی کا کنٹرول ہے۔



