
آسکرز 2026: سیاسی ماحول میں ایوارڈ سیزن کا اختتام، تقریب میں ’آزاد فلسطین‘ اور ’جنگ نہیں‘ کے نعرے
ایوارڈ سیزن کے اختتام پر مبصرین کا کہنا تھا کہ اس سال آسکرز میں اداکاروں نے پہلے کے مقابلے میں زیادہ واضح سیاسی مؤقف اختیار کیا۔
امریکہ کے شہر Los Angeles میں ہونے والی Academy Awards کی سالانہ تقریب اس سال نہ صرف فلمی کامیابیوں بلکہ سیاسی پیغامات کی وجہ سے بھی نمایاں رہی۔ ریڈ کارپٹ اور اسٹیج دونوں جگہوں پر عالمی تنازعات، خاص طور پر غزہ کی صورتحال، موضوعِ گفتگو بنے رہے اور متعدد فنکاروں نے فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی۔
فنکاروں کا سیاسی مؤقف اور فلسطین کے حق میں آواز
تقریب کے دوران ہالی وڈ کے معروف اداکار Javier Bardem نے بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کا ایوارڈ پیش کرنے سے پہلے اسٹیج پر کھڑے ہو کر کہا:
“جنگ نہیں، فلسطین کو آزاد کرو۔”
انہوں نے اپنے لباس پر بھی ایک پیچ لگا رکھا تھا جس پر “No War” لکھا تھا۔ یہ نعرہ انہوں نے دو دہائی قبل Iraq War کے خلاف احتجاج کے دوران بھی استعمال کیا تھا۔ باردم ماضی میں بھی مختلف ایوارڈ تقریبات میں اپنے لباس، بیجز اور نعروں کے ذریعے سیاسی پیغام دیتے رہے ہیں۔
ایوارڈ سیزن کے اختتام پر مبصرین کا کہنا تھا کہ اس سال آسکرز میں اداکاروں نے پہلے کے مقابلے میں زیادہ واضح سیاسی مؤقف اختیار کیا۔
فنکاروں کی سیاسی سرگرمیوں کی واپسی
لاطینی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم Marimacho کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر Jess Morales Rocketto نے اس صورتحال کو ہالی وڈ میں سیاسی سرگرمیوں کی “واپسی” قرار دیا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ جنوری میں ہونے والی Golden Globe Awards کے دوران اداکار Mark Ruffalo کے ایک بیان نے ماحول بدل دیا تھا۔ رفالو اکثر سیاسی اور سماجی مسائل پر کھل کر بات کرتے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے کہا تھا:
“جتنا مجھے یہ سب پسند ہے، اتنا ہی میرے لیے دنیا کے حالات کی حقیقت کو جھٹلانا مشکل ہے۔”
مورالیس راکیٹو کے مطابق موجودہ عالمی حالات نے فنکاروں کو مجبور کیا ہے کہ وہ واضح طور پر بتائیں کہ وہ تاریخ کے اس اہم لمحے میں کس مؤقف پر کھڑے ہیں۔
غزہ پر مبنی فلم کی نامزدگی
تقریب کے دوران فلم “The Voice of Hind Rajab” بھی خاص توجہ کا مرکز رہی۔ یہ ایک ڈاکیو ڈرامہ ہے جو غزہ میں ایک فلسطینی بچی کو بچانے کی کوششوں کی کہانی بیان کرتا ہے۔ اس فلم کو بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کے زمرے میں نامزد کیا گیا تھا۔
فلم کی نمائندگی کرنے والے کئی فنکاروں نے ریڈ کارپٹ پر “Artists for Ceasefire” کے سرخ بیجز پہن رکھے تھے، جو غزہ میں جنگ بندی کی حمایت کی علامت تھے۔
فلم کی اداکارہ Suja Kailani نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
“ہماری جدوجہد اور آزادی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ آج یہاں موجود ہونا ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے۔”
غزہ کی صورتحال اور عالمی ردعمل
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر میں امریکہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں میں سینکڑوں فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہی صورتحال ہالی وڈ کی اس تقریب میں ہونے والی گفتگو کا مرکزی موضوع بنی رہی۔
اگرچہ دیگر عالمی تنازعات، جیسے ایران سے متعلق کشیدگی، کا براہ راست ذکر کم دیکھنے میں آیا، تاہم تقریب کا مجموعی ماحول ماضی کے مقابلے میں زیادہ سیاسی محسوس ہوا۔
فلمی کامیابیاں اور بڑے ایوارڈز
اس سال آسکرز میں ہدایتکار Paul Thomas Anderson کی فلم “One Battle After Another” نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ اس فلم نے چھ آسکر ایوارڈز جیتے جن میں بہترین فلم اور بہترین ہدایتکار کے ایوارڈ شامل تھے۔
اینڈرسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہوں نے یہ سیاسی نوعیت کا ڈرامہ اپنے بچوں کے بارے میں سوچتے ہوئے لکھا۔
ان کا کہنا تھا:
“ہم نے اس دنیا میں جو انتشار چھوڑا ہے، اس پر ہمیں آنے والی نسلوں سے معذرت کرنا چاہیے۔”
میزبان کے طنزیہ اور سنجیدہ تبصرے
تقریب کی میزبانی معروف کامیڈین Conan O’Brien نے کی۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں امریکی صحت کے نظام اور گلوکار Kid Rock پر طنزیہ جملے بھی کہے۔
انہوں نے قدامت پسند تنظیم Turning Point USA کے متبادل سپر باؤل ہاف ٹائم شو کا حوالہ دیتے ہوئے بھی مزاحیہ تبصرہ کیا۔
تاہم تقریب کے اختتام پر اوبرائن نے سنجیدہ لہجے میں کہا کہ ایسے دور میں جب دنیا مختلف بحرانوں سے گزر رہی ہو، آسکرز جیسے ایونٹس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
انہوں نے کہا:
“آج رات ہم صرف فلم کا نہیں بلکہ عالمی آرٹسٹری، باہمی تعاون، صبر، ثابت قدمی اور اس دور کی سب سے نایاب خوبی — امید — کا بھی اعتراف کر رہے ہیں۔”
نتیجہ
آسکرز 2026 کی تقریب نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ ہالی وڈ صرف تفریحی صنعت نہیں بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم بھی ہے جہاں عالمی سیاسی اور انسانی مسائل پر آواز اٹھائی جاتی ہے۔ اس سال کی تقریب میں فلسطین، جنگ بندی اور عالمی بحرانوں کے موضوعات نے فلمی جشن کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط سیاسی پیغام بھی دنیا تک پہنچایا۔



