صحتتازہ ترین

اسکاٹ لینڈ میں مریضوں کی خود کشی میں مدد کا قانونی بل مسترد

اس قانونی مسودے کے حق میں اسکاٹش پارلیمان کے 57 ارکان نے رائے دی جبکہ 69 اراکین نے اس کی مخالفت کی

اے پی اور اے ایف پی کے ساتھ

برطانیہ میں اسکاٹش پارلیمان نے انتہائی بیمار اور لاعلاج مریضوں کی خود کشی میں طبی مدد کا ایک متنازعہ قانونی بل مسترد کر دیا۔ یہ بل منظور ہو جاتا تو اسکاٹ لینڈ برطانیہ کا ایسی قانونی اجازت دینے والا پہلا حصہ بن جاتا۔

برطانوی دارالحکومت لندن سے بدھ 18 مارچ کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ایڈنبرا میں اسکاٹ لینڈ کی پارلیمان نے بڑی گرم گرما بحث کے بعد اس قانونی مسودے پر ہونے والی رائے شماری میں اس بل کو منگل کو رات گئے اکثریتی رائے سے مسترد کر دیا۔

حمایت میں 57 اور مخالفت میں 69 ووٹ

اس قانونی مسودے کے حق میں اسکاٹش پارلیمان کے 57 ارکان نے رائے دی جبکہ 69 اراکین نے اس کی مخالفت کی۔ رائے شماری کے وقت ایوان میں موجود کسی بھی رکن نے اپنی رائے محفوظ نہ رکھی اور اس بل کی حمایت یا مخالفت میں ووٹ دیا۔

اس مجوزہ قانون میں کہا گیا تھا کہ انتہائی بیمار اور لاعلاج مریضوں کو یہ اجازت ہونا چاہیے کہ وہ اگر خود آزادانہ فیصلہ کریں، تو طبی مدد سے خود کشی کر سکتے ہیں۔ اس بارے میں اسکاٹش عوام میں پائی جانے والی منقسم رائے بہت شدید اور باہم متضاد تھی۔

ایک نرس ایک مریض کا ہاتھ پکڑے ہوئے
اس بل کا مقصد لاعلاج بیماریوں کے مریض بالغ اسکاٹش باشندوں کو یہ اختیار دینا تھا کہ وہ اگر چاہیں تو طبی مدد سے اپنی زندگی کا خاتمہ کر سکیںتصویر: Ute Grabowsky/imago images/photothek

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ اگر یہ مجوزہ قانون سازی ایڈنبرا کی پارلیمان میں ارکان کی اکثریتی رائے سے منظور ہو جاتی، تو عملی طور پر 18 سال سے زائد عمر کے اور لاعلاج بیماریوں کے مریض ایسے اسکاٹش باشندوں کے لیے، جن کے بارے میں ڈاکٹروں کی رائے یہ ہوتی کہ ان کے پاس زندہ رہنے کے لیے صرف چھ ماہ یا اس سے بھی کم کا وقت بچا ہو، یہ ممکن ہو جاتا کہ وہ طبی مدد سے خود کشی کے اپنے آزادنہ فیصلے پر عمل کر سکتے تھے۔

رائے شماری سے قبل تین گھنٹے کی بہت جذباتی بحث

ایڈنبرا کی پارلیمان میں اس قانونی مسودے پر رائے شماری سے قبل ہونے والی پارلیمانی بحث بہت جذباتی تھی، جو قریب تین گھنٹے تک جاری رہی۔ اس رائے شماری کی اہم بات یہ تھی کہ اس میں منتخب عوامی نمائندوں کو ‘فری ووٹ‘ کا اختیار دیا گیا تھا۔

ایک نرس ہمدردی سے ایک لاعلاج مریض کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے
مسترد کر دیے گئے مجوزہ بل میں کہا گیا تھا کہ طبی مدد سے خود کشی کا ممکنہ اختیار صرف ایسے مریضوں کو دیا جائے جن کی ڈاکٹروں کے مطابق باقی ماندہ زندگی صرف چھ ماہ یا اس سے بھی کم بچی ہوتصویر: Sami Belloumi/dpa/picture alliance

اس سے مراد یہ تھی کہ ان کے لیے رائے دیتے وقت یہ لازمی نہیں تھا کہ وہ اس موضوع پر اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں کے نقطہ نظر کے مطابق فیصلہ کریں۔ اس کے برعکس تمام اراکین سے کہا گیا تھا کہ وہ اس بل پر اپنے ضمیر کی آوازکے مطابق ووٹ دیں۔

اسکاٹ لینڈ انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کی طرح برطانیہ کا حصہ ہے اور وہاں ایک ایسی نیم خود مختار حکومت ہے، جسے صحت سمیت کئی شعبوں میں اپنی مرضی سے عوام کے لیے پالیسی سازی کا حق حاصل ہے۔

اسی لیے اگر یہ بل منظور ہو جاتا، تو اسکاٹ لینڈ برطانوی ریاست کا ‘طبی مدد سے خودکشی‘  کی قانونی اجازت دینے والا پہلا حصہ بن جاتا۔ اب تک برطانیہ میں ایسا کوئی قانونی امکان کہیں بھی نہیں ہے۔ پارلیمانی زبان میں اس قانونی مسودے کو ”مرنے میں مدد‘‘  کا بل قرار دیا گیا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button