
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
ایک اہم سفارتی پیش رفت میں ایک پاکستانی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو اپنی ہدفی فہرست سے نکال دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور مختلف ممالک پس پردہ سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔
پس پردہ سفارتکاری اور پاکستان کا کردار
ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری تھے، جن میں پاکستان اور مصر نے ثالث کا کردار ادا کیا۔ ایک پاکستانی عہدیدار کے مطابق اسرائیل کے پاس دونوں ایرانی رہنماؤں کی درست جغرافیائی معلومات موجود تھیں اور انہیں نشانہ بنانے کا ارادہ تھا۔
تاہم پاکستان نے واشنگٹن سے رابطہ کر کے مؤقف اختیار کیا کہ اگر ان اعلیٰ سطحی رہنماؤں کو ہلاک کر دیا گیا تو مذاکرات کا عمل مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ اس کے بعد امریکہ نے اسرائیل سے اس اقدام سے پیچھے ہٹنے کی درخواست کی، جسے قبول کر لیا گیا۔
امریکی کردار اور سفارتی دباؤ
ذرائع کے مطابق امریکہ نے صورتحال کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسرائیل پر دباؤ ڈالا کہ وہ ان اہم شخصیات کو نشانہ نہ بنائے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ فیصلہ ممکنہ سفارتی عمل کو بچانے کے لیے کیا گیا۔
ایران کا مذاکرات سے انکار
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سرکاری ٹی وی پر واضح اعلان کیا کہ ایران کا امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی پالیسی "مزاحمت جاری رکھنے” پر مبنی ہے۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مذاکرات کے وجود کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ جنگ کو اپنی شرائط پر ختم کرنا چاہتا ہے اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایسا تنازع دوبارہ پیدا نہ ہو۔
ایران کی پانچ شرائط اور امن منصوبہ مسترد
ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے انکشاف کیا کہ ایران نے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبہ مسترد کر دیا ہے، جو تقریباً ایک ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا جب ایران نے باضابطہ طور پر مذاکرات کے ہونے کا اعتراف کیا۔
ایرانی مؤقف کے مطابق جنگ کا خاتمہ تہران کی شرائط پر ہوگا، نہ کہ واشنگٹن کے فیصلے پر۔ ایران نے تنازع کے خاتمے کے لیے پانچ شرائط بھی پیش کیں، جن میں اہم نکات شامل ہیں:
- مستقبل میں کسی بھی حملے سے تحفظ کی ضمانت
- جنگ میں ہونے والے نقصانات کا مالی معاوضہ
پاکستان کے ذریعے 15 نکاتی امریکی منصوبہ
ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے دو اعلیٰ حکام نے بتایا کہ پاکستان نے ایران تک امریکہ کا 15 نکاتی امن منصوبہ پہنچایا تھا۔ یہ منصوبہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیا گیا تھا، جو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔
خلیجی صورتحال اور عالمی اثرات
امریکی حکام کے مطابق اس منصوبے میں ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کے ساتھ ساتھ اہم بحری راستوں کا معاملہ بھی شامل تھا۔ اس دوران ایران نے آبنائے ہرمز میں کشیدگی پیدا کر رکھی ہے، جس کے باعث عالمی منڈیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی دھمکی اور کشیدگی میں اضافہ
وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر رابطے میں ہے، تاہم ساتھ ہی سخت وارننگ بھی دی گئی ہے کہ اگر ایران نے جنگ بندی کے معاہدے کو قبول نہ کیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
جنگ کے ابتدائی اثرات اور اسرائیلی دھمکیاں
یاد رہے کہ جنگ کے آغاز میں اسرائیلی اور امریکی مشترکہ حملوں میں ایران کے کئی اعلیٰ فوجی اور سیاسی رہنما ہلاک ہو گئے تھے، جن میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل تھے۔
اس کے بعد اسرائیل نے نئے ممکنہ رہنما مجتبیٰ خامنہ ای سمیت دیگر اعلیٰ ایرانی شخصیات کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، جس سے خطے میں مزید کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔
خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار
موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششیں جاری ہونے کے باوجود خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ایک جانب پس پردہ مذاکرات اور ثالثی کی کوششیں ہو رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب سخت بیانات اور عسکری دباؤ نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے دن اس تنازع کے مستقبل کے تعین میں نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

