
بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی نازیبا زبان پر تنازعہ
بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کو حالیہ دنوں میں پاکستان مخالف غیر مہذب بیان دینے پر سخت تنقید کا سامنا ہے، جس نے نہ صرف بھارتی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی سفارتی ضوابط اور بھارت کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان اہم سفارتی تعلقات اور مذاکرات میں فعال کردار ادا کر رہا تھا۔ جے شنکر کے اس بیان نے بھارت کی سفارتی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی صورت میں سوالات کھڑے کیے ہیں کہ آیا بھارت اپنی خارجہ پالیسی میں سنجیدہ ہے اور کیا یہ پالیسی عالمی سطح پر احترام کا باعث بن سکتی ہے۔
پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں بھارت کا پس منظر
یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان ایران اور امریکہ کے ساتھ ایک اہم ثالث کے طور پر سفارتی تعلقات کو مضبوط کر رہا ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی پر یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اگر بھارت کی حکمت عملی عالمی سطح پر موثر اور قابلِ احترام ہوتی تو اسے اس نوعیت کے مسائل پر نظرانداز نہ کیا جاتا۔ بھارت کا خارجہ کردار خاص طور پر پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کے باعث دنیا بھر میں متنازعہ رہتا ہے، اور جے شنکر کے اس غیر مہذب بیان نے بھارت کی اس پالیسی پر مزید سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
بھارتی اپوزیشن کا شدید ردعمل
جے شنکر کے بیان پر بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے بھی سخت ردعمل دیا ہے۔ کانگریس پارٹی کے ترجمان ڈاکٹر شمّع محمد نے اس بیان کو سفارتی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ "پاکستان کو ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے منتخب کرنا اور بھارت کا باہر رہنا مودی حکومت کی ناکامی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے بیانات بھارتی خارجہ پالیسی کے ناپختہ ہونے اور عالمی سطح پر بھارت کی سفارتی پوزیشن کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔
کانگریس کے ایک اور ممبر سپرِیا شری نیتے نے کہا، "روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی پیشکش کا دعویٰ کرنے والے بھارت کے لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا اس کی خارجہ پالیسی کے مطابق پاکستان جیسے ممالک کے ساتھ غیر مہذب زبان میں بات کی جا سکتی ہے؟”
پون کھیرا کا سخت سوال
کانگریس کے ممبر پون کھیرا نے جے شنکر کے بیان کو مزید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا، "کیا بھارت نے روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرتے وقت ایک بروکر کا کردار ادا نہیں کیا تھا؟ اس وقت بھارت کے دعوے کا کیا نام دیا جائے گا؟”
تجزیہ نگاروں کی نظر میں نازیبا زبان
بھارتی تجزیہ نگار اشوک سوائن نے جے شنکر کے بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "جے شنکر کے نازیبا الفاظ محض سڑک کی زبان ہیں اور یہ کسی وزیر خارجہ کے شایانِ شان نہیں ہیں۔ وزیر خارجہ کو بین الاقوامی سطح پر اس طرح کی زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے تھی، کیونکہ یہ بھارت کی عالمی سفارتی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے۔”
عالمی ماہرین کی رائے: ایک دفاعی ردعمل
عالمی ماہرین کے مطابق جے شنکر کا حالیہ بیان بھارتی خارجہ پالیسی کی کمزوری کا غماز ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیان بھارتی وزیر خارجہ کا دفاعی ردعمل تھا جس کا مقصد حالیہ سفارتی ناکامیوں کو چھپانا تھا۔ جے شنکر کی جانب سے پاکستان کے بارے میں دی گئی نازیبا زبان ایک ایسی پوزیشن کو ظاہر کرتی ہے جہاں بھارت عالمی سطح پر اپنا اثر و رسوخ کم سمجھ رہا ہے۔
روس اور یوکرین کے تنازعے کے حوالے سے بیان کا تضاد
جے شنکر کا حالیہ بیان اپریل 2022 میں روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی خواہش والے بیان سے یکسر متصادم ہے۔ اس وقت بھارت نے عالمی سطح پر ثالثی کی پیشکش کی تھی اور خود کو ایک اہم عالمی اداکار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم، حالیہ پاکستان مخالف بیان نے ان دعوؤں کو مٹی میں ملا دیا ہے اور اس بات پر سوالات اٹھا دیے ہیں کہ کیا بھارت خود کو ایک عالمی ثالث کے طور پر پیش کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔
خلیجی بحران میں بھارت کا مرکزی کردار نہ ملنا
عالمی ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت کو حالیہ خلیجی بحران میں ایک اہم کردار نہ ملنا بھارت کی سفارتی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس بات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ بھارت کے سفارتی تعلقات کی نوعیت عالمی سطح پر کس طرح کی حمایت حاصل کر رہی ہے، اور کیا بھارت عالمی سطح پر ایک معتبر پلیئر کے طور پر خود کو پیش کرنے کے قابل ہے؟
بھارتی سفارتکاری اور سنجیدگی پر سوالات
بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے بیان نے بھارت کی سفارتی ساکھ اور اس کے عالمی کردار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ بھارت نے ہمیشہ خود کو عالمی امن اور استحکام کا داعی قرار دیا ہے، لیکن جے شنکر کے حالیہ پاکستان مخالف بیان نے اس دعوے کو مجروح کیا ہے۔ عالمی سطح پر بھارت کی سفارتی پوزیشن کے حوالے سے بڑھتے ہوئے سوالات نے ایک نئے تنازعے کو جنم دیا ہے، جو بھارت کی خارجہ پالیسی پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت کو واضح کرتا ہے۔
اختتام
جے شنکر کے حالیہ بیان نے نہ صرف بھارت کے اندر سیاسی ہلچل مچا دی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھارت کی سفارتی ساکھ اور خارجہ پالیسی کے بارے میں سوالات اٹھا دیے ہیں۔ بھارتی اپوزیشن اور تجزیہ نگاروں کی تنقید کے باوجود حکومت اس معاملے پر خاموش نظر آ رہی ہے، جس سے بھارت کی سفارتی پالیسی کی سمت پر سوالات مزید گہرا رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا بھارت اس بیان کو اپنے اندرونی سیاسی مفادات کے لئے دفاعی ردعمل کے طور پر استعمال کرتا ہے یا پھر اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی سفارتی حکمت عملی کو بہتر بنانے کی کوشش کرے گا۔


