
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
حکومتِ پاکستان نے ملک میں ٹرانس شپمنٹ کے فروغ کے لیے جامع اور مؤثر اقدامات متعارف کروائے ہیں، جن کے نتیجے میں نہ صرف بندرگاہی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے بلکہ پاکستان کو ایک مضبوط علاقائی تجارتی مرکز بنانے کی راہ بھی ہموار ہو رہی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد لاگت میں کمی، سہولیات میں بہتری اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان کو مزید پرکشش بنانا ہے۔
بندرگاہوں کی گنجائش میں نمایاں اضافہ
حکومت نے ملک کی بڑی بندرگاہوں کی مجموعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی تجارتی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ اس حوالے سے:
- کراچی پورٹ ٹرسٹ کو 20,000 ٹی ای یوز (TEUs) کی گنجائش کے ساتھ فعال بنایا گیا
- پورٹ قاسم اتھارٹی کو 12,500 ٹی ای یوز کی صلاحیت دی گئی
- گوادر پورٹ اتھارٹی کو 5,000 ٹی ای یوز کی استعداد کے ساتھ مضبوط کیا گیا
یہ اضافہ ملک میں کنٹینرز کی ہینڈلنگ کو تیز اور مؤثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
کارگو ہینڈلنگ میں بہتری اور بڑھتی سرگرمیاں
ٹرانس شپمنٹ کارگو کی ہینڈلنگ میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق:
- کراچی پورٹ پر 8,000 کنٹینرز وصول اور 3,500 روانہ کیے گئے
- 4,500 کنٹینرز بیلنس میں موجود ہیں
- پورٹ قاسم پر 3,485 کنٹینرز موجود ہیں
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
قوانین میں نرمی اور گنجائش میں اضافہ
حکومت نے SRO (اسٹیچوٹری ریگولیٹری آرڈر) کے ذریعے ٹرانس شپمنٹ قوانین میں نرمی کی ہے۔ ان ترامیم کے تحت:
- آف ڈاک ٹرمینلز پر کارگو ذخیرہ کرنے کی اجازت دے دی گئی
- ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھا کر 60,000 کنٹینرز کر دی گئی
یہ اقدامات نہ صرف بندرگاہوں پر دباؤ کم کریں گے بلکہ تجارتی عمل کو بھی مزید ہموار بنائیں گے۔
لاگت میں کمی کے لیے اہم اقدامات
تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے لاگت میں نمایاں کمی کی گئی ہے:
- نیشنل لاجسٹک کارپوریشن نے اسکیننگ چارجز میں 50 فیصد کمی کر دی
- مکمل ٹرانس شپمنٹ کارگو والے جہازوں کے لیے یہ رعایت 75 فیصد تک بڑھا دی گئی
- ٹرمینل آپریٹرز نے بھی فوری طور پر 25 فیصد کمی کا اعلان کیا
ان اقدامات سے پاکستان دیگر علاقائی بندرگاہوں کے مقابلے میں زیادہ مسابقتی بن گیا ہے۔
بندرگاہی فیس میں نمایاں کمی
حکومت نے بندرگاہی فیس (WHARFAGE) میں بھی بڑی کمی کی ہے:
- ٹرانس شپمنٹ کارگو لانے والے جہازوں کے لیے فیس میں 60 فیصد تک کمی
اس فیصلے سے غیر ملکی شپنگ کمپنیوں کے لیے پاکستان ایک سستا اور پرکشش آپشن بن گیا ہے۔
جدید ٹرانس شپمنٹ سہولیات کا آغاز
حکومت نے جدید ٹرانس شپمنٹ ماڈلز متعارف کرواتے ہوئے تجارتی نظام کو مزید وسعت دی ہے:
- سمندر سے فضاء (SEA TO AIR) ٹرانس شپمنٹ کی اجازت
- RO-RO (رول آن – رول آف) کارگو کی سہولت
- بریک بلک کارگو کی ٹرانس شپمنٹ
- سمندر سے سڑک (SEA TO ROAD) ٹرانس شپمنٹ پر غور
یہ جدید سہولیات پاکستان کو ایک کثیر جہتی لاجسٹک حب بنانے میں مدد فراہم کریں گی۔
کسٹمز نظام میں بہتری اور تیز تر کلیئرنس
کارگو کلیئرنس کے عمل کو تیز اور مؤثر بنانے کے لیے پاکستان کسٹمز کے ساتھ مل کر اسکیننگ کے نئے پیرامیٹرز تیار کیے گئے ہیں۔ اس کا مقصد:
- غیر ضروری اسکیننگ کو کم کرنا
- کلیئرنس کے وقت کو مختصر کرنا
- تجارتی عمل کو مزید شفاف اور تیز بنانا
معیشت پر مثبت اثرات
ماہرین کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں:
- تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا
- غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھے گی
- روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے
- ملکی معیشت کو استحکام حاصل ہوگا
نتیجہ: پاکستان بطور علاقائی ٹرانس شپمنٹ حب
مجموعی طور پر حکومت کے یہ اقدامات پاکستان کو ایک مضبوط علاقائی ٹرانس شپمنٹ مرکز بنانے کی جانب اہم سنگ میل ثابت ہو رہے ہیں۔ جدید سہولیات، کم لاگت، بہتر انفراسٹرکچر اور مؤثر پالیسیوں کے امتزاج سے پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی تجارتی نظام میں بھی اپنی جگہ مستحکم کر رہا ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان مستقبل قریب میں ایک اہم لاجسٹک اور تجارتی طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔


